پشین DHU عملے کا مریض کو لانے والے صحافی پر شدد

کوئٹہ : بلوچستان کے ضلع پشین کے یو سی ڈب خانزئی کے BHU میں مریض کے ہمراہ آنے والے صحافی پر ڈیوٹی پر موجود اسٹاف کا ساتھیوں سمیت تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے ۔

سی این اے کے سنئیر کرائم رپورٹر اور نوجوان صحافی سہیل احمد کے بقول جب وہ اپنے مریض کے ہمراہ ڈب خانزئی BHU پہنچے تو ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر طاہرہ نے مریض کو ڈرپ لگانے سے انکار کرتے ہوئے کل آنے کے لیے کہا ۔ ان کے بقول لیڈی ڈاکٹر سے مزید درخواست کرنے پر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور پیچھے واقع سرخانزئی کی لیڈی LHV کے گھر جانے کا کہا ۔

وہاں جانے کے بعد انہوں نے BHU سے پٹی لانے کے لیے کہا ۔ جب وہاں دوبارہ پہنچے اور شکایت کرنے کی غرض سے وہاں کی ویڈیو بنانے لگا ۔ جس پر ڈاکٹر حمید اللہ نے موبائل چھین کر وارڈ بوائے رحمت اللہ اور دیگر دو ساتھیوں سمیت مجھ پر حملہ کیا اور زدوکوب کیا ۔ان دونوں ملزمان میں سے ایک ڈب خانزئی کا رہائشی اور محمد ولی کا بیٹا بتایا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں :سرکاری وفاقوں کا حشر بھی مشرف کے مدرسہ بورڈ جیسا ہو گا : قاری عثمان

تاہم موقع پر موجود مریض اور دیگر افراد نے بیچ بچاؤ کرایا اور معاملہ کو رفع دفع کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ بعد ازاں PPHI کے ضلعی افسر نثار احمد اور ان کے ساتھی افسر نے صلح کرانے کی کوشش کی اور بضد تھے کہ معاملہ کو یہی ختم کیا جائے ۔ جس پر صحافی سہیل احمد کا کہنا تھا مجھ پر زدوکوب کرنے والے صرف ڈاکٹر حمید اللہ نہیں بلکہ ان تمام افراد کو بلا کر پوچھا جائے تاکہ وہ یہ بتا سکے کہ مجھ پر کیوں کر تشدد کیا گیا؟

ادھر علاقہ مکینوں کا حکام بالا سے مطالبہ ہے کہ BHU ڈب خانزئی کے اسٹاف کا آئے روز عوام کے ساتھ بدتمیزی اور بد اخلاقی کے واقعات کا نوٹس لیا جائے تاکہ عوام اور مریضوں کو سہولیات میسر آئیں ۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. آفسوسناک۔ محکمہ صحت کو بہرحال اس کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینا چاہیے