بے شمار لڑکیاں نکاح سے محروم کیوں ؟

کسی صالح آدمی کو اپنی بیٹی کے رشتے کی پیش کش خود کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ ایسا ہونا چاہیے ۔ بے شمار لڑکیاں اس لیے نکاح سے محروم بیٹھی ہیں کہ ان کے والد انتظار میں ہیں کہ کوئی ہم سے رشتہ پوچھے، جب کہ لڑکوں کے والدین انکار کے خوف سے رشتہ مانگنے کی جرأت نہیں کرتے ۔ نتیجہ اس کا لڑکے لڑکیوں دونوں کا نکاح سے محروم رہنا ہے ۔

صحابہ کرام میں سے عمر رضي الله عنه کا عمل اس کا بہترین نمونہ ہے۔ ان کی بیٹی حفصہ رضي الله عنها خُنیس بن حذافہ رضي الله عنه کے فوت ہونے سے بیوہ ہو گئی، جو نبی صلى الله عليه وسلم کے بدری صحابہ میں سے تھے۔ عمر رضي الله عنه نے فرمایا : ’’میں عثمان بن عفان رضي الله عنه کے پاس گیا اور انھیں حفصہ کا رشتہ پیش کیا، انھوں نے کہا، میں اس بارے میں سوچوں گا، کچھ راتیں گزریں تو مجھے ملے اور کہنے لگے: ’’میری رائے یہی ٹھہری ہے کہ میں ان دنوں نکاح نہ کروں۔‘‘

مذید پڑھیں :بےشمار لڑکیاں نکاح سے محروم کیوں

عمر رضي الله عنه فرماتے ہیں: ’’پھر میں ابوبکر صدیق رضي الله عنه سے ملا اور ان سے کہا: ’’اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔‘‘ ابوبکر خاموش رہے، مجھے کچھ جواب نہیں دیا، میں دل میں ان پر عثمان سے بھی زیادہ ناراض ہوا۔ چند راتیں گزریں تو رسول الله صلی الله علیه وسلم نے اس کے نکاح کا پیغام بھیج دیا، تو میں نے حفصہ کا نکاح آپ صلى الله عليه وسلم سے کر دیا۔‘‘ [ بخاري، النکاح، باب عرض الإنسان ابنته أو أخته علی أھل الخیر : ٥١٢٢ ]

دیکھیے عمر بن خطاب رضي الله عنه سے بڑھ کر غیرت مند کون ہوگا، مگر اپنی بیٹی کے رشتے کی پیش کش خود کر رہے ہیں ۔ تفسير القرآن الكريم از حافظ عبدالسلام بن محمد حفظه الله – القصص : ٢٧

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *