محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی میپ کے صدر سہیل وجاہت کا انٹرویو

کراچی :  مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان اینڈ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سہیل وجاہت نے کہا ہے کہ نچلے درجے سے کیرئیر کا آغاز کر کے بھی اہم عہدوں تک پہنچا جا سکتا ہے بشرطیکہ کے فرد میں آگے بڑھنے کی جدوجہد کرنے کا جذبہ موجود ہو ۔

خود انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کراچی کی ایک آئل کمپنی سے بطور آپرینٹس کیا تھا اور پھر انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کر کے برطانیہ جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آ کر کام شروع کیا اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے چیئرمین اور سیمینز انجینئرنگ پاکستان لمیٹڈ کے سی ای او اور ایم ڈی کے عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دی ہیں ۔

اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل بھی رہ چکے ہیں اور اس وقت وہ وفاقی حکومت کے مربوط توانائی کے استحکام کے تھنک ٹینک کے نامزد چیئرمین ہونے کے علاوہ متعدد تنظیموں اور یونیورسٹیوں کے عالمی ممبر کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔

مذید پڑھیں :اسلامی نظام کے نفاذ کی جد و جہد کریں

یہ بات انہوں نے گزشتہ روز محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے دورے کے موقع پر یونیورسٹی کے ڈیجیٹل میڈیا اسٹوڈیو میں کامیابی کے روڈ میپ سے متاثر ہونا کے موضوع پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتائی، ماجو کی میڈیا کمیٹی کی رکن رومیسا عقیل نے یہ انٹرویو کیا ۔

سہیل وجاہت نے اس موقع پر یونیورسٹی طلباء کو بتایا کہ ایک اچھا کاروباری فرد بننے کے لیے سرمائے کی ہی نہیں بلکہ اچھے آئیڈیاز اور اپنے مقصد میں کامیابی کے لئے انتھک محنت اور جدوجہد بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور جب کاروبار چل پڑتا ہے تو سرمایہ خود بخود ملنا شروع ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کلام پاک میں بھی فرد کو کاروبار کرنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے ہے جبکہ پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے قریبی صحابہ کرام ؓ بھی کاروبار کرتے تھے اور کسی نے ملازمت نہیں کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے تجربے کار افراد سے مشاورت اچھی بات ہے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کاروبار سے دوسروں کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے صرف اپنی کامیابی اور خوشی کے لئے کاروبار کرنا مناسب نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں :عمران خان DPO کا عہدہ سنبھالتے ہی پولیس ہیڈ کوارٹر لکی مررت پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ جب کوئی فرد اپنا کاروبار کرتا ہے تو اس سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور صارفین کو اچھی مصنوعات ملتی ہیں ۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کاروبار میں کامیابی کا مطلب لوگوں کے دلوں پر راج کرنا ہوتا ہے ۔ اس میں لالچ شامل نہیں ہونا چاہیے ۔ پاکستان کے نوجوانوں میں کاروبار کرنے کے رجحان میں کمی کے رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان تعلیم تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی تربیت نہیں کی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ نوکری حاصل کر کے ایک آرام دہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ کاروبار کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ شروع کے دس سال مسلسل جدوجہد کے بعد کاروبار کامیابی کی جانب گامزن ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب کاروبار کرنے والے فرد کو دوسروں پر اندھا اعتماد کرنے سے بچنا چاہئے اور جس پر احسان کریں اس کے شر سے بھی بچنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ یہ بات یاد رکھیں کہ اچھا کاروباری فرد بننے کے لیے ڈگری ضروری نہیں ہوتی ہے اچھی مینجمنٹ بنیادی چیز ہوتی ہے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار بہتر انداز میں کرنا ضروری ہوتا ہے، اچھی تعلیم سے رہنمائی ملتی ہے اس لیے ان کو اسے بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی اہلیت پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *