واٹر بورڈ کارساز دفتر میں ٹھیکیداروں کیلئے انکروچمنٹ شروع

کراچی:واٹر بورڈ کارساز دفتر کے اندر انکروچمنٹ شروع ہو گئی ۔ ذرائع کے مطابق واٹر بورڈ کے چیف انجنیئر سلیم احمد ، سپرٹنڈنٹ انجنیئر KD سول ون اور کے ڈی سول II ریاض احمد نے اپنے دفتر کے بالکل سامنے انکروچمنٹ کرانا شروع کر دی ہے ۔

سپرٹنڈنٹ انجنیئر ریاض احمد سرکاری نوکری کے مزے لینے کے ساتھ ساتھ ٹھیکیداروں کو نوازنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ۔ڈملوٹی میں اپنی رہائش گاہ کے قریب خود انکروچمنٹ کر کے باڑہ قائم کر رکھا ہے جہاں زمین کے ساتھ ساتھ سرکاری بجلی ‛ پانی اور گیس تک استعمال کرتے ہیں ۔

سپرٹنڈنٹ انجنیئر ریاض احمد گزشتہ کئی برس سے ایک ہی KDC-I اور KDC-II پر براجمان ہیں ۔تاہم انہوں نے تازہ کارنامہ انجام دیتے ہوئے واٹر بورڈ نائنتھ مائل کارساز پر بلاک A میں واقع اپنے دفتر کے بالکل سامنے غیر قانونی طریقہ کار کے تحت ٹھیکیداروں کو نوازنے کیلئے باقاعدہ انکروچمنٹ کرنا شروع کر دی ہے ۔

مزید پڑھیں :خواتین کے ناقابلِ فراموش اعزازات

واضح رہے کہ ریاض احمد کے نادر شاہی عمل کے بعد واٹر بورڈ وہ واحد ادارہ ہو گا جو مال کمانے والے ٹھیکیداروں کو سرکاری زمین ‛ سرکاری بحلی مہیا کر کے باقاعدہ لگژری دفتر بھی بنا کر دے رہا ہے ۔ جب کہ آج تک تمام سرکاری اداروں کو ٹھیکیداروں/ کنٹریکٹر کی جانب سے بنائے جانے کا ہی سن رکھا ہے ۔

واضح رہے کہ ریاض احمد نے سپرٹینڈنٹ انجنیئر ریاض احمد نے حال ہی میں 5 ایک واردات بارش کے موقع پر ڈالی اور 5 کروڑ روپے بارش کی نذر کرتے ہوئے واٹر بورڈ کی لائن پر بارش کے دوران مٹی ڈالی جو پانی بہہ گئی تاہم ریاض احمد کے 5 کروڑ کھرے ہو گئے ۔

مذید پڑھیں :سندھ پولیس میں شولڈر پروموشن عدالتی حکم کے باوجود ختم نہ ہوئے

افسران نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض احمد نے کنٹریکٹرز کو سرکاری دفاتر کے بیچ و بیچ دفتر بنا کر دینے کا مقصد واٹر بورڈ کے افسران کے سامنے لا کر سرکاری دفتر اور افسران کی بے توقیری کرنا ہے ۔ واٹر بورڈ میں ڈائریکٹر بلک اور ڈائریکر لینڈ اینڈ اسٹیٹ نثار مگسی نے دہرے چارج کے مزے لیتے ہوئے بھی خانوشی اختیار کر رکھی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *