ایک عظیم صحافی کا انٹرویو

تحریر : رعایت اللہ فاروقی 

روزنامہ تنگ آمد: سر ! روزنامہ تنگ آمد آپ کا شکر گزار ہے کہ آپ نے انٹرویو کے لئے وقت عنایت کیا

عظیم صحافی: “شکریہ تو روزنامہ تنگ آمد کا کہ اس نے اس فقیر کو اس لائق سمجھا کہ اس کا انٹریو کیا جائے”

تنگ آمد: شرمندہ مت کیجئے سر، فقیروں کے ساتھ حسن سلوک کا تو قرآن و حدیث میں متواتر ذکر آیا ہے۔ ہم اس سے کیسے انحراف کر سکتے تھے !

عظیم صحافی: “آپ مذاق بہت اچھا کر لیتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے مذاق مہنگے بھی پڑ جاتے ہیں”

تنگ آمد: مذاق تو آپ کر رہے ہیں سر، اکیسویں گریڈ سے ریٹائرڈ ہونے والے سرکاری افسر اگر فقیر ہوتے تو اس ملک کا یہ حال ہوتا ؟

عظیم صحافی: دیکھئے، پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں”

تنگ آمد: بندر بانٹ میں پانچوں انگلیاں برابر رہ بھی نہیں سکتیں سر۔ پانچوں انگلیاں تو تب برابر ہوں جب بیوروکریسی میں مساوات کا اصول چلتا ہو

عظم صحافی: “آپ میرے پاس اس بکواس کے لئے آئے ہیں ؟ انٹرویو کرنا ہے یا میں اٹھ جاؤں ؟”

تنگ آمد: کیوں نہیں سر ! انٹریو ہی تو کرنا ہے۔ سر آپ کے کالمز اور ٹی وی پروگرامز میں سادگی، اور نبوی مزاج کے مطابق زندگی گزارنے پر بہت زور ہوتا ہے۔ اور آپ بہت دکھی دل کے ساتھ فرمایا کرتے ہیں کہ جب تک ہم اپنے اسلاف جیسی زندگی اختیار نہیں کریں گے معاشرہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ اس پس منظر میں میرا آپ سے پہلا سوال یہ ہے کہ رائیل پام گالف کلب جیسے سیون سٹار عشرت کدے میں بچوں کا ولیمہ کرانا بھی سادگی میں ہی شمار ہوگا سر ؟

عظیم صحافی: “تو آپ نے بکواس بند نہیں کرنی ؟”

تنگ آمد: سر سادہ سا سوال ہی تو کیا ہے !

عظیم صحافی: “میں اچھی طرح جانتا ہوں، آپ کا اشارہ کس طرف ہے”

تنگ آمد: اچھا سر آپ چونکہ ایک مذہبی سکالر بھی ہیں تو اس انٹریو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم آپ سے قرآن مجید کی ایک آیت کا ترجمہ جان سکتے ہیں ؟

عظیم صحافی:” کیوں نہیں، کونسی آیت ؟”

تنگ آمد: آیت ہے سر “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لا تَفْعَلُونَ ”

عظیم صحافی: “مجھے اچانک یاد آیا کہ میرا وضوء نہیں ہے۔ میں بغیر وضوء قرآنی آیات کا ترجمہ خلاف تقوی سمجھتا ہوں”

تنگ آمد: اچھا سر ہسٹری کی طرف آتے ہیں، اس کے لئے وضوء کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہسٹری میں چونکہ آپ کو جنگیں بہت پسند ہیں اور جنگوں میں اندلس کی فتح و شکست، تو ہمارا سوال ہے کہ جب طارق بن زیاد نے جبل الطارق پر کشتیاں جلائیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیں :جامعہ اردو VC کے پرسنل سیکرٹری شرجیل نوید کو رجسٹرار بنانے کی تیاری

عظیم صحافی: “سوال کی کرافٹنگ تو ٹھیک کیجئے۔ جبل الطارق پر کشتیاں کیسے جلائی جا سکتی ہیں ؟ کشتیاں ساحل پر جلائی گئی تھیں۔ اس زمانے میں کرینیں نہیں ہوتی تھیں کہ کشتیاں اٹھا کر جبل الطارق پر رکھ دیں اور پھر انہیں آگ لگا دی”

تنگ آمد: سر یقین کیجئے، یہ نکتہ اس سے قبل کسی نے بھی بیان نہیں کیا، آپ نے تو ہماری آنکھیں کھول دیں۔ اس طرح کی جزیات کی جانب آپ کا ذہن کیسے چلا جاتا ہے سر ؟

عظیم صحافی:” اس میں ذہن والی کوئی بات نہیں، میں اس زمانے میں کوئٹہ کا اسسٹنٹ کمشنر تھا اس لئے اس کی تفصیل جانتا ہوں”

تنگ آمد: سر ! پھر تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ کشتیاں جلانے کا فیصلہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ہوا تھا یا چیف کا ڈائریکٹ آڈر تھا ؟

عظیم صحافی: “اس دور کی صحافت میں “ذرائع” نہیں ہوتے تھے، اس لئے مجھے اس کا علم نہیں”

تنگ آمد: سر ہمارا سوال صحافی سےنہیں، کوئٹہ کے اس دور کے اسسٹنٹ کمشنر سے ہے۔ اسے تو سرکاری طور پر ہی علم ہوگا

عظیم صحافی: “آپ میرے فیوریٹ مقام افغانستان کی طرف نہیں آرہے، ملا عمر کی بات کیجئے، اسامہ بن لادن کا ذکر چھیڑئے۔ آپ کیا قرون وسطی کے اندلس میں گھوم رہے ہیں”

تنگ آمد: جی بہتر سر ! افغانستان کے حوالے سے میرا پہلا سوال یہ ہے سر کہ جب چنگیز خان کا لشکر چین سے فارغ ہوکر ہندو کش کے پہاڑوں پر سے گزر کر خوارزم شاہ کی سلطنت الٹنے کو آگے بڑھا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عظیم صحافی:” آپ پھر غلط سوال پوچھ رہے ہیں۔ چنگیز خان کا لشکر پہاڑوں پر سے نہیں بلکہ دروں سے گزر کر آیا تھا”

تنگ آمد: آپ کو کیسے پتہ سر ؟

عظیم صحافی: “میں اس زمانے میں چمن کا ڈپٹی کمشنر تھا، شام کو ساری رپورٹیں میری میز پر ہوا کرتی تھیں۔ لیکن آپ اب بھی پچھلے زمانوں میں کیوں کھڑے ہیں؟ تھوڑا آگے آئیں نا”

تنگ آمد : چلیں سر تھوڑا آگے آجاتے ہیں۔ یہ بتایئے سر ! قیام پاکستان کے موقع پر افغانستان میں کیا جذبات تھے ؟

مذید پڑھیں :مفتی مُزمل حسین کاپڑیا سعادت کی زندگی گزار کر چل بسے

عظیم صحافی: “افغانوں کے چہرے خوشی سے قندھاری انار کی طرح لال سرخ ہوگئے تھے، ایک عجیب جشن کا سماں تھا وہاں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری مشرقی سرحد پر فرنگی کافر بیٹھا تھا، اب ہمارے اپنے ہی مسلمان بھائی ہمارے پڑوسی ہوں گے۔ سرحد کی دونوں جانب اب وہ لوگ ہوں گے جن کے آدھے خاندان ہماری طرف آباد ہیں تو آدھے دوسری جانب”

تنگ آمد: تو سر پھر انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کی مخالفت کیوں کی تھی ؟ بھارت نے پاکستان کی حمایت میں ووٹ دیا تھا لیکن افغانستان واحد ملک تھا جس نے مخالفت کی تھی۔ ایسا کیوں سر ؟ آپ کو نہیں لگتا کہ ان کے چہرے قندھاری انار کی طرح لال سرخ خوشی سے نہیں بلکہ غصے سے ہوئے تھے ؟

عظیم صحافی: “بالکل نہیں، یہ بات مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے ؟ میں اس زمانے میں زیارت کا ڈپٹی کمشنر تھا”

تنگ آمد: بہت خوب سر، یہ تو کمال ہوگیا کہ آپ اس زمانے میں زیارت کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ پھر تو آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ جب قائداعظم کو زیارت سے کراچی لایا جارہا تھا تو ایمبولینس والا واقعہ کوئی غفلت تھی یا سازش ؟

عظیم صحافی: “اس کا مجھے علم نہیں کیونکہ میں ان دنوں چھٹی پر تھا۔ آپ اب بھی بہت پچھلے زمانے کی بات کر رہے ہیں، تھوڑا اور آگے آئیں۔ ملا عمر کے دور میں آئیں، چھوڑیں یہ پرانی باتیں”

تنگ آمد: جی بہتر سر،پہلے یہ بتایئے کہ ملا عمر کے دور میں بھی آپ اسی علاقے میں تھے ؟

عظیم صحافی:” جی ہاں ان کی پوری حیات کے دوران میں کوئٹہ اور اس کے آس پاس کے اضلاع میں ہی ڈپٹی کمشنر رہا”

تنگ آمد: جی سر تو اس دور میں اکبر بگٹی کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟

عظیم صحافی: ” سوری ! یاد آیا کہ ان دنوں میں حج کے لئے گیا ہوا تھا۔ میں چھٹی پر تھا”

تنگ آمد: مگر حج کے ایام نہ تھے سر !

عظیم صحافی: “میں چھ چھ ماہ پہلے سے حج کے لئے جایا کرتا ہوں”

تنگ آمد: پھر تو ایوب دور میں سرداروں کی پھانسی والے واقعے کے موقع پر بھی آپ بلوچستان میں نہ رہے ہوں گے ؟

عظیم صحافی: “داد دیتا ہوں آپ کی ذہانت کو۔ میں واقعی ان دنوں بلوچستان میں نہیں تھا۔ میں ٹریننگ کے لئے کراچی میں تھا”

تنگ آمد: اچھا سر ! روزنامہ تنگ آمد ایک بار پھر آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ آپ نے اس تاریخی انٹرویو کے لئے وقت عنایت کیا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ سر !

عظیم صحافی: “ملا عمر تو رہ گئے، ان سے متعلق تو آپ نے سوال کیا ہی نہیں !”

تنگ آمد: نہیں سر، ان سے متعلق ہر چیز سب کو معلوم ہے۔ ان کے حوالے سے کچھ نہیں جاننا

عظیم صحافی:” اسامہ بن لادن بھی نہیں ؟”

تنگ آمد: نہیں سر، ان سے متعلق بھی نہیں

عظیم صحافی:“ایک بار پھر سوچ لیں۔ میں اس زمانے میں قلعہ عبداللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

تنگ آمد: جی سر آپ قلعہ عبداللہ کے بھی ڈپٹی کمشنر رہے ہوں گے۔ مگر اسامہ سے متعلق بھی ساری تفصیلات عام ہیں۔ ہاں ایک اور سوال ہے اگر اس کا جواب مل جائے تو ایک بڑی الجھن دور ہوجائے گی !

عظیم صحافی: “جی کیوں نہیں، پوچھئے !”

تنگ آمد: سر کیا وجہ ہے کہ آپ ایک ہزار سال تک صرف پشتون اضلاع میں ہی اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر رہے۔ بلوچ آپ کو قبول نہیں کرتے تھے یا آپ کو ان سے کوئی چڑ تھی ؟

عظیم صحافی: “دفع ہوجائیں میری نظروں کے سامنے سے۔ تمہاری ساری حرکتیں لفافہ صحافیوں والی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

تنگ آمد: پلیز سر حدیث نہ پیش کیجئے گا پلیز !

عظیم صحافی: “کیوں حدیث کیوں نہیں ؟”

تنگ آمد: سر من گھڑت روایات ہمارا اخبار شائع نہیں کرتا۔ اور کبھی کوئی صحیح روایت ہم نے آپ سے سنی نہیں !

(آیت کا ترجمہ: اے مومنو وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے)۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *