تبلیغی اجتماع کے پہلے حصے کے اختتام پر ساڑھے 12 سو جماعتوں کی تشکیل

کراچی : کراچی کے علاقہ اورنگی ٹائون مین منعقدہ تبلیغی اجتماع کے پہلے حصے کے اختتام پر  50 ہزار سے زائد افراد نے اجتماع میں شرکت کی ۔ پہلے حصے کے اجتماع کے اختتام کے ساتھ ہی دوسرے حصے کا اجتماع شروع ہو گیا ہے ۔

تبلیغی اجتماع میں جمعہ کو گورنر سندھ عمران اسماعیل اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے بھی شرکت کی ہے ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف اجتماع کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے بلکہ اجتماع کو محدود کر دیا گیا ہے اور عام شہریوں کو اجتماع میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی ۔ تبلیغی جماعت کے رضاکاروں کی جانب سے اجتماع میں صرف وہی لوگ شرکت کر سکتے ہیں جن کے نام مقامی مساجد کی طرف سے اجتماع منتظمین کو موصول ہوئے ہوں۔

اجتماع کے پہلے حصے میں جمعہ کے بعد مولانا فہیم، بعد نماز عصر ڈاکٹر روح اللہ، مغرب کے بعد مولانا خورشید، فجر کے بعد مولانا عباد اللہ، عصر کے بعد بھائی بخت منیر، مغرب کے بعد مولانا جمال نے بیانات کئے تھے ۔ گزشتہ روز بعد از نماز فجر پہلے اجتماع کا آٹھواں بیان ہوا ۔ جس میں مولانا خورشید نے ہدایات بھی جاری کی ہیں ۔ اجتماع کے آخری بیان و ہدایات کا کل دورانیہ ایک گھنٹہ 44 منٹ پر مشتمل تھا۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ کے افسر تنویر شیخ نے NICVD میں پھر ہائیڈرنٹ چلوا دیا

پہلے حصے کا اختتام خصوصی دعا کے ساتھ ہوا ۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ۔ اجتماعی دعا میں ملک کی سلامتی، بقا اور ترقی سمیت مسلم امہ کے مسائل کے حل اور اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعائیں کی گئی ۔ تبلیغی جماعت کے معروف بزرگ مولانا خورشید نے عالم اسلام کے اتحاد، امن و سکون اور ملک و قوم کی ترقی، سلامتی، خوشحالی اوراستحکام وطن کے لیے رب کے حضور خصوصی دعا کی۔

اجتماع کے دوسرے حصے میں ملتان سے تبلیغی جماعت کے مبلغ چوہدری رفیق نے نماز عصر کے بعد بیان کیا ، مغرب کے بعد مولانا ضیا الحق نے بیان کیا، اور اس کے بعد 7 فروری کو فجر کی نماز کے بعد سید نعیم شاہ کا بیان ہو گا۔ ظہر کے بعد مولانا عباداللہ کو بیان ہو گا۔ عصر کے بعد معروف تبلیغی مبلغ مولانا احسان الحق اور مولانا فہیم کا بیان ہو گا ۔ مغرب کے بعد مولانا خورشید کا بیان ہو گا۔ پیر 8 فروری کو نماز فجر کے بعد حاجی حشمت علی لاہوری کا بیان ہو گا۔

مذید پڑھیں :کاروبار اور تجارت کے بغیر ملک کی ترقی ناممکن ہے : فہد خان

واضح رہے کہ رائیونڈ میں مرکزی شوری کی جانب سے کراچی اجتماع کو کل 2 ہزار جماعتوں کی تشکیل کا ہدف دیا تھا ۔ جس میں اب تک اجتماع کے پہلے حصے کے اختتام سے لیکر دوسرے حصے کے شروع ہونے تک کل 1250جماعتوں کی تشکیل کی جا چکی ہے۔ مکی مسجد سے اور اجتماع گاہ سے ہونے والی تشکیلات میں چلے اور 3 چلے کی کل 1240جماعتیں نکلی ہیں ۔ جن میں سے 280 مسجد سے نکلی ہیں اور 12جماعتیں اندرون سال پیدل کی نکلی ہیں۔

معلوم رہے کہ اجتماع کے پہلے مرحلے میں میں شہر کے 48 مقامات کے عوام شریک ہوئیں ۔ جب کہ 6 فروری سے 8 فروری تک کے مرحلے میں 52 مقامات کے عوام شریک ہو رہے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *