واٹر بورڈ ڈیپوٹیشن پر آنے والے DMD نے افسران کا حق کھانا شروع کر دیا

کراچی : کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں ڈیپورٹیشن پر تعینات ہونے والے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر عبدالغنی میمن نے ٹیکس ریونیو رسورسس ڈیپارٹمنٹ کے سینئر ترین افسر کو ادارہ سے اور منافع بخش عہدوں پر ہٹانے کے ساتھ بڑے پیمانے پر تقرری و تبادلے کرنے سے افسران میں سراسیمگی پھیل گئی ۔

اس ضمن میں حکم نامہ KW&SB/HRD&A/D.P/DD-HR/193 تحت چھ افسران کے تبادلے کر دیئے گئے ہیں ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایچ آر محمد سلیم کے دستخط سے جاری ہونے والے حکم نامہ پر تمام افسران کے تبادلے و تقرری جاری کی ہے ۔ ریونیو ریسورس اینڈ جنریشن ڈیپارٹمنٹ کے سینئر ترین افسر سید رضا حسین نقوی گریڈ 19 میں میرٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر ہونے اور گزشتہ 8 برس سے ترقی سے محروم ہونے کے باوجود چند ماہ بعد ریٹائرڈ ہونے والے ہیں ۔ نئے ڈی ایم ڈی نے ان کا RRG سے تبادلہ کر کے ہیومین رسورسس ڈیپارٹمنٹ میں بھیج دیا ہے ۔

مذید پڑھیں :سرکاری ملازمین کا حکومتی وفد کو دھرنا ڈیڈ لائن ختم کرنے سے انکار

نئے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر ٹیکس ریونیو ریسورسس عبدالغنی میمن نے اپنا عہدہ سبھنالنے کے بعد رضا نقوی جیسے سینئر ترین افسر کا سامنا کرنے پر تیار نہیں ہے ۔ عبدالغنی میمن نے ہر افسر کو ٹیکس آمدن کے ساتھ ساتھ ماہانہ رشوت کمیشن اور کک بیک کا ہدف دینے اور وصولی کا امکان ہے۔  عبدالغنی میمن ڈیپوٹیشن پر منرل مائیز ڈیپارٹمنٹ سے آئے ہیں ٹیکس ریونیو کی اہلیت اور تجربہ نہیں ۔

رضا نقوی کی خالی جگہ پر گریڈ 18 کے جونئر افسر سہیل خالد کو ڈائریکٹر انڈسٹریل تعینات کیا گیا ہے ۔ سہیل خالد ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی سب سے منافع بخش عہدہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہائی رائز سیکٹر بلک (بلڈرز) کے فرائض ادا کر رہے تھے ۔ ان کو ترقی دیدی گئی ہے اور ان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد سلمان کو ترقی دیکر ڈپٹی ڈائریکٹر ہائی رائز بلک تعینات کر دیا ہے ۔

مذید پڑھیں :محمود آباد نالے پر 860 تجاوزات کو بچا لیا گیا

یہ عہدہ بلڈرز اور ڈیولپرز سے معاملات طے کرنے اور ٹیکس چوری کرنے کا اہم شعبہ ہے ۔ جب کہ ڈوثرنل اکاوئنٹ آفیسر عامر حلیم کو منافع بخش عہدے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی بلوں کے معاملات طے نہ ہونے پر تبادلے کر کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن تعینات کیا گیا ہے اور ان کی جگہ سید ظفر احمد کو تعینات کیا گیا ہے اور عبدالغنی میمن نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن طاہر حمید کو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا اضافی عہدہ بھی دیدیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *