سرکاری کالجز کا ڈائریکٹر مانیٹرنگ انوکھے و متنازع فیصلے کرنے لگا

کالجز

گزشتہ روز نئے مقرّر کیے جانے والے ”ڈاٸریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیویشن“، ایسوسی ایٹ پروفیسر ضمیر کھوسو نے ایک ”شاہی فرمان“ کے ذریعے کالجوں کے پرنسپلز کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ارسال کی جانے والی حاضریوں کی تصدیق کیلئے نئے نظام کی ”نوید“ سناٸی ہے، جس کے تحت کالجوں میں کالج پرنسپلز کی جانب سے ارسال کردہ حاضریوں پر عدم اعتماد کرتے ہوٸے کالجوں میں خدمات سرانجام دینے والے معزّز کالج پرنسپلز اور اساتذہ کرام کی ”واٹس اپ“ کے ذریعے تصدیق اور نگرانی کی جاٸیگی اور مذکورہ ڈاٸریکٹر خواتین کے کالجز کے اسٹاف رومز تک رساٸی حاصل کرینگے۔

اس نئے نظام پر بات کرنے سے پہلے اس شاہی فرمان کے جاری کرنے والے کے متعلق کچھ جاننا ضروری ہے۔ ماضی میں ضمیر کھوسو پر لگنے والے الزامات کو تو ایک جانب رکھیے۔ بات ہو جائے ضمیر کھوسو کی ”اسمارٹنیس“ کی۔

مزید پڑھیں: متنازع افسر ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیواشن کالجز تعینات

سنہ ٕ 2015 میں ضمیر کھوسو کی پوسٹنگ ریجنل ڈاٸریکٹوریٹ کالجز کراچی میں ” ایڈیشنل ڈاٸریکٹر ایچ آر“ کی حیثیت سے ہوٸی تو ضمیر کھوسو نے ریجنل ڈاٸریکٹوریٹ کالجز کراچی میں سابق ریجنل ڈاٸریکٹر کالجز کراچی، پروفیسر انعام احمد کو جوائننگ دینے کے بعد ساڑھے چار ماہ شکل نہ دکھاٸی، انعام صاحب کے رابطہ کرنے پر اس نے کہا کہ میری ڈیوٹی وزیر تعلیم کے ساتھ ہے مگر جیسے ہی انعام صاحب ریٹاٸر ہوٸے، ضمیر کھوسو نے بغیر کسی سرکاری آرڈر کے، غیرقانونی اور غیر اخلاقی طور پر، سینٸر ایڈیشنل ڈاٸریکٹر کی موجودگی میں ” ریجنل ڈاٸریکٹر کالجز کراچی “ کے دفتر پر قبضہ کر کے خودساختہ ”ریجنل ڈاٸریکٹر کالجز کراچی“ کا چارج سنبھال لیا۔

ریجنل ڈاٸریکٹرکا غیر قانونی اور غیراخلاقی طور پر چارج سنھالنے کے بعد انہوں نے ناجانے کس طرح کراچی کے دو اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز سے ایک مراسلہ جاری کروایا، جس میں صحافیوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو پابند کیا گیا کہ

١ ۔ ضمیر کھوسو کے تمام احکامات کی تعمیل کی جائے۔

٢ ۔ ضمیر کھوسو پر کسی قسم کی تنقید نہ کی جائے۔

٣ ۔ میڈیا پر ضمیر کھوسو کے خلاف کوٸی خبر نشر یا شاٸع نہ کیا جائے۔

٤ ۔ گورنمنٹ ضمیر کھوسو کو اس کے عہدے سے علیحدہ نہ کرے۔

مبیّنہ طور پر ”عدالت“ سے جاری ہونے والے جملہ احکامات مشکوک تھے، جن کا مقصد غیرقانونی طور پر ڈاٸریکٹر کالجز کو من مانیاں کرنے کی کھلی چھٹّی دینا تھا۔

مزید پڑھیں: محکمہ تعلیم کالجز کا کراچی کالجز سے دہرا معیار

جب متعلقہ عدالتوں سے اس ضمن میں رجوع کیا گیا تو معاملہ کچھ اور نکلا۔ متعلقہ ڈسٹرکٹس اینڈ سیشن ججز کی عدالتوں سے مبیّنہ طور پر جاری ہونے والے احکامات منسوخ ہوٸے مگر ضمیر کھوسو اس وقت تک اپنا رعب جما چکا تھا لہٰذا کالج اساتذہ کی تنظیموں سے لے کر وزیر تعلم تک ضمیر کھوسو کے جھانسے میں آگٸے اور وہ ڈاٸریکٹر کے منصب پر برقرار رہا۔

ایک موقع پر جب میڈیا کے نماٸندوں نے اس وقت کے وزیرتعلیم جام مہتاب ڈھر سے ضمیر کھوسو کی شکایت کی تو انہوں نے اسے محکمے کا سب سےنااہل افسر قرار دیا مگر اسے برطرف نہ کرسکے۔ جب ضمیر کھوسو کے خلاف شکایات کے انبار لگ گئے تو حکومت اسے ہٹانے پر مجبور ہوگٸی اور اسے پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج کے ایم سی اسٹور مقرّر کردیا گیا جہاں سے انہیں گزشتہ روز ” ڈاٸریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیویشن“ مقرّر کردیا گیا جبکہ کالج پرنسپل کا چارج بھی اس کو ہی دے دیا گیا۔

”ڈاٸریکٹوریٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویولیشن“ ، ایک ایسا ڈاٸریکٹوریٹ ہے جس کا کوٸی مصرف نہیں۔ اس ڈاٸریکٹوریٹ کو جو ذمّہ داریاں تفویض کی گئی ہیں، ان ذمہ داریوں کی اداٸیگی کے لیے ہر ریجنل ڈاٸریکٹوریٹ میں ”انسپیکشن“ کا شعبہ موجود ہے جس میں تین ، تین افسران کام کر رہے ہیں۔ ڈاٸریکٹوریٹ جنرل میں بھی تین افراد کی ذمہّہ داری کالجوں کا انسپیکشن کرنا ہے ۔

مزید پڑھیں: پری میڈیکل میں پروموشن کے باوجود 31 سرکاری و نجی کالجز کی کارکردگی مایوس کن رہی

ڈی جی کالجز اور چھ آر ڈیز بھی انسپیکشن کرتے ہیں اسطرح کالجوں کے انسپیکشن کیلیے محکمے میں پہلے سے موجود 30 افسران کی موجودگی میں ” ڈاٸیکٹوریٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوشن“ کا قیام قطعی غیر ضروری اور خزانے پر بوجھ ہے جو ایک سابق سیکریٹری نے اپنے ایک چہیتے کو ”اکوموڈیٹ“ کرنے کے لیے قاٸم کیا تھا جس کے ڈاٸیریکٹر کے طور پر پر ضمیر کھوسو جیسے متنازعہ شخص کا تقرّر تشویشناک ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *