کشمیر میں انسانیت کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا : علامہ احسان صدیقی

مسئلہ کشمیر

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) دنیا اور جنوبی ایشیاء میں امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ناگزیر ہے، ہر سال 5فروری کو دنیا بھر میں کشمیری اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کیخلاف آواز بلند کرتے ہیں، ہندوستان کشمیریوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے غیر کشمیری انتہا پسند ہندووں کو آباد کرنے کی سازشیں کر رہا ہے، عالمی برادری نے اگر اپنی خاموشی نہ توڑی تو نریندر مودی جنوبی ایشیاکے امن کو تباہ کر دے گا، اس لئے میری اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کو روکے اورمقبوضہ جموں کشمیر کا مسئلہ وہاں کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں: کراچی کے لوگ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں : خالد مقبول صدیقی

ان خیالات کا اظہار بین المذاہب کمیشن برائے امن و ہم آہنگی (ICHP) کے چیئرمین اور عالمی سفیر امن علامہ احسان صدیقی نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے ایک بیان میں کیا۔ علامہ احسان صدیقی کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ہم قائد اعظم کے فرمان کے مطابق ہماری شہ رگ کو بھارت مظالم سے نجات دلانے کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ہم آج یکجہتی کشمیر کے دن یہ عہد کرتے ہیں کہ اپنے کشمیری بھائیوں کی طویل جدو جہد کو ضائع نہیں ہونے دیں گے، ہم آزادی کی اس جنگ میں انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں تنازع کشمیر پر عالمی برادری کی توجہ مرکوز ہوئی ہے، کشمیریوں کی جدوجہد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے، مسئلہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، بھارت انسانی حقوق کی پامالیوں کے ساتھ ساتھ کشمیرکی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے سازشیں کر رہا ہے جو کشمیری کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ اس سے کشیدگی میں مذید اضافہ ہوگا۔

مزید پڑھیں: کشمیر کا مسئلہ عالمی عدالت میں اٹھایا جائے : MWM کی APC کا اعلامیہ

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھارت کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دی ہے، پاکستان کی پرامن کوششوں کا بھارت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا، بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کے نتیجے میں پرامن راستے بند ہوتے جارہے ہیں، عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *