پاکستان نرسنگ کونسل کی معائنہ ٹیموں کے دہرے معیار سے نرسنگ اسکولوں میں اشتعال

کراچی : پاکستان نرسنگ کونسل کی معائنہ ٹیموں کے دہرے معیار اور امتیازی اقدامات سے کراچی سمیت سندھ بھر کے نرسنگ اسکولوں میں شدید اشتعال پیدا ہو گیا ہے ۔

معائنہ کی آڑ میں سرکاری اور نجی نرسنگ اسکولوں میں تفریق سمیت نرسنگ کو تباہ کرنے والے بااثر نرسنگ مافیا کے نرسنگ اسکولوں کو معائنہ سے مستثنیٰ قرار دےددیا گیا جبکہ معاملے پر پاکستان نرسنگ کونسل کی گروپنگ بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے ۔ شعبے سے وابستہ افراد نے پی این سی کے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے وزیر اعظم کی مداخلت ضروری قرار دیدی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دو ہفتے سے پاکستان نرسنگ کونسل کی آئی ہوئی معائنہ ٹیموں کو گئے ہوئے ایک روز بھی نہیں ہوا تھا کہ دو دوسری معائنہ ٹیمیں کراچی پہنچ گئیں جن میں سے حیرت انگیز طور پر ایک ٹیم کی غیر سرکاری انسپکٹر مسلم شاہ سربراہی کر رہے ہیں جن پر کونسل کی جانب سے آئندہ معائنہ ٹیموں میں شامل کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن اب یہ دوبارہ کونسل کے انتہائی غیر متنازعہ نائب صدر حسن کانسی کی ہدایت پر کے پی کے کے دلدار خان کے ہمراہ کراچی پہنچے ہیں اور کراچی پہنچتے ہی مذکورہ ٹیم ان نجی نرسنگ اسکولوں میں دوبارہ معائنے کے لیے پہنچ گئی جہاں چند روز پہلے ہی معائنہ کی کارروائی مکمل ہو گئی تھی ۔

مذید پڑھیں :اسٹیل ٹائون میں ٹھیلوں کیخلاف آپریشن میں محنت کش گولی لگنے سے زخمی

مذکورہ ٹیم نے نہ صرف معائنہ شدہ اسکولوں کو اختیار ات سے تجاوز کرتے ہوئے ہراساں کیا بلکہ اساتذہ کو بلیک میل کرنے کی بھی کوشش کی اور زیر تعلیم طلبہ سے بھی بے جا سوالات کئے جس کی بناءپر ایک اسکول کے مالک کی طبعیت خوف وہراس پھیلانے کے باعث دوران معائنہ خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال میں داخل کرانا پڑا ۔

بتایا جاتا ہے کہ پہلی معائنہ ٹیم کو نسل کی متنازعہ صدر افشاں ناز لی کی جانب سے نامکمل اسکولوں کو این آر او دینے کے نتیجے میں وفاقی وزارت صحت کی جانب سے فیصلے کے خلاف سخت ایکشن لینے کی بنیا پر عمل میں آئی تھی جس میں وفاقی وزارت صحت نے کونسل کے سیکریٹری کو تبدیل کردیا تھا اور پہلی آنے والی ٹیم کی جانب سے کراچی میں مسیحی برادری کے نرسنگ اسکولوں کو معائنہ کے نام پر امتیازی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی ۔کونسل کو موجودہ صدر افشاں نازلی کا نجی نرسنگ اسکول بمعہ عمارت کے اعتبار سے کونسل کی اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا اسی طرح سابق کونسل کے خلاف قانون صدر ڈاکٹر عاصم حسین کا اسکول بھی کلاسوں کے لحاظ سے اہلیت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں :سینیٹ انتخاب اور اعداوشمار!

جب کہ میڈی کیئر کے کالج آف نرسنگ سواسطو کالج آف نرسنگ سمیت دیگر سندھ کے سرکاری نرسنگ اسکولز اور انسٹی ٹیوٹس بھی پی این سی کی اہلیت کے معیار کو پورا نہیںکرتے ہیں۔ معائنہ ٹیموں کی جانب سے ان اسکولوں کے معائنہ نہ ہونے پر پی این سی کی دہری پالیسی اور امتیازی اقدام کھل کر سامنے آ چکا ہے ۔ جب کہ مسلم شاہ ٹیم کی سندھ میںآمد سے رجسٹرار فوزیہ مشتاق لاعلم بتائی جاتی ہیں ڈاکٹر عاصم حسین کی ایما پر نگہت درانی اور رفعت جان موجودہ وفاقی حکومت کی نرسنگ پالیسی کو ناکام بنانے کے لیے کھل کرمیدان میں آ چکی ہیں۔ اس شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے وزیر اعظم نے فوری مداخلت نہ کی تو پی این سی کا وجود موجودہ اقدامات کی روشنی میں برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ وفاقی وزارت نے سیکریٹری تبدیل کیا اب وزیر اعظم کی مداخلت کے بغیر معاملہ قابو میں آتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *