یہ فتویٰ آپ کے لئے مفید ہو گا

نماز کے متعلق ایک اہم مسئلہ جس سے عوام بے خبر رہتے ہیں ، علامہ بنوری ٹاون کا فتوی ملاحظہ ہو ۔

سوال :  درج ذیل مسئلے کی تصدیق فرما دیجیے کہ یہ درست ہے یا نہیں ؟

نماز میں قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں شریک ہونے والوں کے لیے ایک انتہائی اہم مسئلہ ۔

قعدہ اولی میں شریک ہونے والے کے حق میں التحیات کا حکم :

جب امام قعدہ اولیٰ میں ہو اور اسی اثنا میں کوئی شخص آ کر اقتدا کرے اور اس کے اقتدا کرکے بیٹھتے ہی امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے تو یہ مقتدی التحیات پوری کرے گا یا امام کے اتباع میں التحیات چھوڑ کر کھڑا ہو جائے گا؟ ۔

تو اس میں حکم یہ ہے کہ پہلے التحیات پوری کر لے اس کے بعد امام کا اتباع کرے، اگر التحیات چھوڑ کر امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے تو اس مقتدی مسبوق کی نماز مکروہِ تحریمی ہو گی. یاد رہے کہ یہ حکم فرائض اور تراویح سب کے لیے ہے۔؎

مذید پڑھیں :پب جی پر مفتی محمد زبیر کا فتوی شہرت اختیار کر گیا

اگر امام قعدہ اخیرہ میں ہو اور اسی اثنا میں کوئی شخص آ کر اقتدا کرکے التحیات کے لیے بیٹھ جائے اور اس کے بیٹھتے ہی امام سلام پھیر دے تو یہ شخص اپنی بقیہ نماز پوری کرنے کے لیے فورا کھڑا ہو جائے گا یا التحیات پوری کرنے کے بعد کھڑا ہو گا ؟

تو اس میں واجب یہ ہے کہ امام کے سلام کے بعد یہ شخص اطمینان کے ساتھ اپنی التحیات پوری کرکے بقیہ نماز پوری کرنے کے لیے کھڑا ہو گا اور اگر التحیات چھوڑ کر فوراً کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی نماز مکروہِ تحریمی ہو گی. (شامی ج 1 ص 296)

دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر لوگ اس مسئلے سے بے خبر ہوتے ہیں، عوام تو عوام، خواص بھی اس اہم مسئلہ سے ناواقف ہیں اور امام کے سلام پھیرتے ہی التحیات پوری کیے بغیر فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں. لہذا اس اہم مسئلہ کو ایک دینی فریضے کی ادائیگی سمجھتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں! آپ کا بھی ثواب میں ضرور حصہ ہوگا باِذن اللہ!!. اللہ تعالٰی ہمیں احکام شریعت کو صحیح سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *