متنازع افسر ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیواشن کالجز تعینات

کراچی:افسر أیسوسی ایٹ پروفیسر ضمیر کھوسو کو محکمہ ٕ تعلیم کالجز میں ڈاٸریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن تعینات کردیا گیا ۔ متنازعہ افسر پروفیسر ضمیر کھوسو پر ماضی میں محکمہ تعلیم کے ذیلی پروجیکٹ ریفارم سپورٹ یونٹ( آر ایس یو) اور قاٸم مقام ڈاٸریکٹر کالجز کراچی تعیناتی کے دور میں ناہلی اور بدعنوانی کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں ۔

چند سال قبل جب پروفیسر انعام احمد ڈاٸریکٹر کالجز کے عہدے سے ریٹاٸر ہوۓ تو پروفیسر ضمیر کھوسو نے ، جو اس وقت ریجنل ڈاٸریٹوریٹ کالجز میں ایڈیشنل ڈاٸریکٹر تعینات ہونے کے بعد حکام بالا کے علم میں لاٸے بغیر ساڑھے چار ماہ یہ کہہ کر ڈیوٹی سے غاٸب رہے کہ انکی ڈیوٹی اس وقت کے وزیرِتعلیم سندھ نثار کھوڑوکے ساتھ ہے مگر پروفیسر انعام اخمد کے ریٹاٸرمنٹ کے اگلے روز ہی بغیر کسی سرکاری حکم کے اپنے طور پر قاٸمقام ڈاٸریکٹر کالجز بن بیٹھے ۔

بحیثیت قاٸم مقام ڈاٸریکٹر کالجز کراچی ان پر بدعنوانی کے متعدد الزامات کے بعد اس وقت کے وزیر تعلیم نے انہیں محکمے کا نااہل ترین افسر قرار دیا تھا ۔واضح رہے کہ پروفیسر ضمیر کھوسو پریہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے بحیثیت ریجنل ڈاٸریکٹر کالجز اپنی ناجاٸز تعیناتی اور بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کیلٸے مبیّنہ طور پر دو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز سے ایسے غیرقانونی آرڈرز جاری کرواٸے تھے جن میں ضمیر کھوسو کوان ججز کا فوکل پرسن قرار دیتے ہوٸے میڈیا سمیت تمام متعلقین کو ضمیر کھوسو کے کسی بھی فعل یا حکم پر لب کشاٸی سے منع کردیا گیا تھا یہ دونوں عدالتی حکمنامے تحقیق کرنے جعلی ثابت ہوٸے ۔

نا اہلی اور بدعنوانی کے الزامات میں شدّت آنے پر محکمہ ٕ تعلیم کالجز نے ان کے خلاف محکمہ ٕ جاتی کارواٸی کے بجاٸے انہیں گورنمنٹ ڈگری بواٸز کالج کے ایم سی اسٹور نشترروڈ کا پرنسپل تعینات کردیا گیا تھا جہاں سے انہیں تبادلہ کرکے گزشتہ دنوں ڈاٸریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیواشن کالجز تعینات کرنے کیساتھ انہیں گورنمنٹ ڈگری کالج کے ایم سی اسٹور نشتر روڈ کے پرنسپل کا چارج بھی دے دیا گیا ہے ۔

یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ ڈاٸریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کالجز کی اسامی قطعی غیر ضروری ہے جو تین سال قبل تعینات سیکریٹری کالجز پرویز احمد سیہڑ نے اپنے ایک منظور نظر افسر کو نوازنے کیلٸے تخلیق کرواٸی تھی اس دفتر کیلٸے گزشتہ تین سال سے باقاعدہ بجٹ میں خطیر رقم مختص ہوتی رہی ہے جو افسران کے عیش و عشرت پر خرچ ہو رہی ہے ۔

جو ذمہّ داریاں اس دفتر کو تفویض کی گٸی ہیں ان ذمہ داریوں کی اداٸیگی کیلٸے پہلے ہی محکمے کے سات ذیلی دفاتر میں 35 افسران مقرّر ہیں جو انسپیکشن افسر کے طور پر کالجوں کاانسپیکشن کرتے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *