شادی ہال ایسوسی ایشن سے مذاکرات کامیاب ، SBCA کے نوٹس واپس لئے جائیں گے ،سعید غنی

رپورٹ : اختر شیخ

وزیربلدیات سندھ سعیدغنی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ نے شادی ہالز مالکان کے تحفظات کو دور کرنے اور اس سلسلے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جاری نوٹسسز کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ شادی ہالز مالکان نے سندھ حکومت اور مجھ سے ملاقات اور یقین دہانی کے بعد اپنی ہڑتال موخر کرنے کا اعلان کردیا ہے اور اس سلسلے میں عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا اب خاتمہ ہوگیاہے۔

غیر قانونی شادی ہالز کے خلاف پہلے بھی ہماری مہم جاری تھی اور آئندہ بھی جاری رہے گی البتہ آئندہ 45 روز کے اندر اندر ان شادی ہالز کا معاملہ بھی دیکھا جائے گا، جو کسی قانونی معاملات کے باعث تنازعات کا شکار ہیں۔

افسوس ہے کہ ہمارے متحدہ قومی موومنٹ کے دوستوں نے عمارتوں کو گرانے کے بعد میرے کراچی کے عوام کے مفاد میں دئیے جانے والے استعفیٰ کے بیان کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں اس انسانی المیہ کے مسئلہ پر سیاست یا پوائنٹ اسکورننگ کی بجائے مل جل کر حل کرنا چاہیے اور اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کی شب اپنے دفتر میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مرتضیٰ وہاب اور شہزاد میمن بھی موجود تھے۔ قبل ازیں میریج ہال ایسوسی ایشن کے ایک 20 رکنی وفد نے وزیر بلدیات سندھ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور سپریم کورٹ کے فیصلے اور بعد ازاں SBCA کی جانب سے جاری شدہ نوٹس کے حوالے سے اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا۔

وفد نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ شادی ہالز کے کاروبار سے منسلک کم وبیش 40 ہزار سے زائد افراد کے ساتھ ان شادی ہالز میں شادیوں کے لئے کرائی گئی ہزاروں بکنگ کرانے والوں میں اس پر شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرکے اتوار سے شادی ہالز کو بند کرکے ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس پر وزیر بلدیات سندھ نے آنے والے وفد کے ارکان کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت یا SBCA کسی بھی شادی ہال کو نہیں توڑ رہی ہے اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے احکامات پر 30 روز میں جو رپورٹ طلب کی گئی ہے اس میں سندھ حکومت اپنا بھرپور موقف بھی پیش کررہی ہے۔

انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ اس فیصلے پر وزیر اعلیٰ سندھ اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور انشاء اللہ ہم کوئی ایسا اقدام نہیں ہونے دیں گے، جس سے یہ صنعت تباہ ہو اور ہزاروں افراد بے روزگار ہوں۔ وزیر بلدیات کی یقین دہانی کے بعد ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور وفد میں شامل ارکان نے اپنی ہڑتال واپس لینے کا اعلان کیا اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

بعد ازاں وزیر بلدیات سندھ نے وزیر اعلیٰ سندھ کی زید صدارت ایک اجلاس میں شرکت کی اور انہین شادی ہالز مالکان کی ایسوسی ایشن کے تحفظات اور ان کی جانب سے انہیں دلائی جانے والی یقین دہانی کے بعد ہڑتال کی واپس سمیت تمام امور سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کسی صورت ان شادی ہالز مالکان اور قانونی طور پر 2001 کے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت کمرشل ہونے والے پلاٹس اور زمین کے اسٹیٹس کی تبدیلی کو تسلیم کرتے ہوئے عدالتوں میں اس کا دفاع کرے گی۔

انہوں نے وزیر بلدیات سندھ کو ہدایات دی کہ ایس بی سی اے کی جانب سے جو نوٹس جاری کئے گئے ہیں اسے فوری طور پر واپس لیا جائے اور اس سلسلے میں پھیلی ہوئی بے چینے کا خاتمہ کیا جائے۔ بعد ازاں اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ اب سندھ حکومت کی جانب سے واضح موقف کے بعد عوام اور شادی ہالز مالکان میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہوگیا ہے اور ساتھ ہی عوام جنہوں نے ان شادی ہالز میں اپنی تقریبات کے لئے بکنگ کروائی ہے ان کو بھی اب ذہنی سکون مل جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سندھ حکومت سے 30 روز میں حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے اور ہم اس میں اپنی رپورٹ میں 2001 سے 2019 تک’’ چینج آف یوز لینڈ’’ اور 2001 کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور بعد ازاں 2003 میں اس وقت کی سٹی کونسل کی قرارداد اور اس کے بعد عدالتوں کے تمام فیصلوں سمیت تفصیلی رپورٹ بھی جمع کروائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز عمارتوں کے حوالے سے میرے استعفیٰ کے بیان کو ایم کیو ایم کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں غلط تاثر دینے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ میں شاید پیپلز پارٹی والوں کو بچانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں 930 زمینوں کا اسٹیٹس تبدیل ہوا، جس میں 454 اس وقت ہوئے جب یا تو ایم کیو ایم حکومت میں تھی یا سٹی ڈسٹرکٹ ان کے زیر انتظام تھی البتہ 476 زمینوں کا اسٹیٹس اس دور میں تبدیل ہوا ہے، جب پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر سیاست کرنا مناسب نہیں ہے لیکن مجھے ایم کیو ایم کے دوستوں کی جانب سے جو غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی اس کا جواب دینا ضروری تھا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے دوستوں سے بھی گذارش کرتے ہیں کہ وہ اس انسانی مسئلے پر سیاست سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں مل کر کراچی کے عوام کو ان مسائل سے نکالنا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گذشتہ 3 ماہ میں کبھی پاکستان کواٹرز، کبھی تجاوزات کے خلاف آپریشن تو کبھی عمارتوں اور شادی ہالز کو توڑنے جیسے فیصلے آتے رہیں اور مجھے افسوس ہے کہ توڑنے کے لئے تو تمام جماعتیں آگے آئیں لیکن اس کو روکنے یا اس کے بعد کے معاملات پر صرف سندھ حکومت ہی تمام اقدامات کرتی رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے بعد اس کا ملبہ اٹھانے کے لئے بھی کے ایم سی نے سندھ حکومت سے 200 ملین روپے مانگے ہیں، جو ہم لوکل گورنمنٹ کے ذریعے ان کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا مقدمہ لڑنے کی بات سب کرتے ہیں لیکن عملی طور پر صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت سامنے آئی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *