لاک ڈائون میں فیس کی 20 فیصد رعایت پر لازمی عمل کیا جائے : وزیر تعلیم سندھ

کراچی : وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ بھر میں تمام تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں اور ہماری والدین سے استدعا ہے کہ وہ خود بھی اپنے بچوں کی اسکول میں مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں ۔ ہم نے اس سال امتحانات کے شیڈول کو تبدیل کیا ہے اور اس حوالے سے جلد امتحانی ماڈل پیپر بھی جاری کیا جا رہا ہے ۔

ان اسکولوں کو اس بات کی چھوٹ دی گئی ہے، جنہوں نے کرونا ایس او پیز کی تیاری مکمل نہیں کی ہے وہ کچھ دنوں کے بعد اسکولز کھول سکتے ہیں، اسی طرح جو والدین اپنے بچوں کو کرونا کے خدشہ کے باعث اسکول بھیجنا نہیں چاہتے تو اسکول بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے ۔ 20 فیصد کی لاک ڈاؤن میں رعایت دی گئی تھی، اس پر تمام نجی اسکولوں کو لازمی عمل کرنا ہے البتہ فیس معافی کے حوالے سے کوئی قانون نہیں ہے ۔

اس وقت تک کالجز میں 1.9 فیصد جبکہ اسکولوں میں 5.9 فیصد کی شرح سے مثبت کیسز آئے ہیں اور 4 کالجز کو کچھ روز کے لئے بند کیا گیا ہے ۔ 2008 کے بعد کوئی اسکول ایسا نہیں بنا ہے، جو کسی کی اوطاق بنے، جو الزامات لگا رہے ہیں ان کے اپنے اتحادی اس کے ذمہ دار ہیں ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین سے لے کر ان کے چول وزیر اور ارکان کو پاکستان کے آئین قانون چھو کر بھی نہیں گزرا ہے اور یہ سارے کے سارے شغلی اور عارضی سیاستدان ہیں ۔ کل تک عزیر بلوچ کی جانب سے ہمارے خلاف بیان دینے کا راگ الاپنے والے آج کس منہ سے یہ بات کر رہے ہیں کہ ان کے کیسز کو ہم ختم کروا رہے ہیں ۔

مزید پڑھیں :ہیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ پاکستان کے تحت علماء کانفرنس ہو گی

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ یکم فروری سے صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے مکمل طور پر کھل گئے ہیں اور محکمہ صحت اور تعلیم کی جانب سے جو ایس او پیز بنائی گئی ہیں وہ واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ایس او پیز اسکول انتظامیہ، والدین اور بچوں کے لئے ہیں اور ہم ان پر عمل پیرا ہوکر تعلیمی اداروں میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روک سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خدانخواستہ اگر کرونا وائرس بڑھتا ہے تو ہمیں مجبوراً تعلیمی اداروں کو بند بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ ایک مشکل کام ہے اور اس کے لئے میں خصوصاً والدین سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔

انہوں نے کہا کہ والدین کوشش کریں کہ اپنے بچوں کو اسکول وین یا دیگر ٹرانسپورٹ کی بجائے خود لینا چھوڑنا کریں۔ ماسک اور سینیٹائزر کے استعمال کو یقینی بنائیں اور خود اپنے بچوں کی اسکولز میں جاکر وہاں مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس سال ہم نے امتحانات کے وقت کو ایک گھنٹہ کم کیا ہے اور امتحانی طریقہ کار کو تبدیل کیا ہے اور اس حوالے سے بچوں اور والدین میں کچھ چیزوں کو لے کر الجھن کا سامنا ہے، اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے ہم جلد ہی ایک امتحانی ماڈل پیپر شائع کردیں گے تاکہ ان کو آسانی ہوسکے۔ جبکہ ہم نے اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ جو کورس ہم نے 60 فیصد کیا ہے اس کو امتحانات سے قبل مکمل کرایا جا سکے ۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک صوبے بھر کے کالجز میں اب تک 13966 کرونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں، جس میں سے 12121 منفی اور 265 کے نتائج مثبت آئے ہیں اور ابھی 1580 کے نتائج آنا باقی ہے۔ اس طرح یہ 1.9 فیصد بنتے ہیں، اسی طرح اسکولوں میں اب تک 11845 میں سے 8457 منفی اور 546 مثبت آئے ہیں اور ابھی 2642 کے نتائج آنا باقی ہے اس طرح یہاں مثبت کا تناسب 5.9 فیصد ہے۔سعید غنی نے کہا کہ ہم مزید تعلیمی اداروں میں کرونا ٹیسٹ میں اضافہ کررہے ہیں تاہم اس حوالے سے ہماری لیبارٹریوں میں جتنی اس کی گنجائش ہے ہم اس کو بروئے کار لا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں :سندھ حکومت کا کورونا SOP سے متعلق نیا حکم نامہ جاری

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ پورے ملک میں ملین کی پاپولیشن کے تناسب سے سب سے زیادہ کرونا ٹیسٹ کرنے والا صوبہ ہے اور اس سلسلے میں وفاق کی جانب سے کو کٹس ملی ہیں وہ ٹیسٹ کے مقابلے 25 فیصد ہیں جبکہ 75 فیصد کٹس خود صوبہ سندھ نے اپنے وسائل سے منگوائی ہیں۔ کرونا ویکسین کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں وفاق کی جانب سے آج 80 ہزار ویکسین ملنا ہے، جو ہم پہلے مرحلے میں ہیلتھ سے وابستہ لوگوں کو لگائیں گے جبکہ صوبہ سندھ چاہتا ہے کہ ہم خود بھی یہ ویکسین منگوائیں لیکن اس حوالے سے وفاق کی جانب سے جواب کا انتظار ہے ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خود بچارے آؤٹ آف اسکول ہیں اور اب اگر وہ اب اسکول جانا چاہتے ہیں تو اچھی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ دادو ہو یا دیگر ڈسٹرکٹ وہاں جو بھی گھوسٹ اسکول بنے وہ 2008 سے قبل بنیں اور یہ انہیں لوگوں نے بنائیں ، جو آج الزام لگانے والوں کے حمایتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبہ سندھ میں تمام اسکولوں کو جی پی ایس سے کنیکٹ کردیا ہے اور جہاں جہاں ایسے اسکول ہیں جن کی یا تو عمارتیں نہیں، یا استاد یا طلبہ نہیں اس کو اپنی فہرست سے نکال رہے ہیں اور اب تک 3 ہزار ایسے اسکولز کی نشاندہی ہو گئی ہے اور ان کو فہرست سے نکال دیا گیا ہے ۔

صوبوں کے گورنرز کی سینیٹ کے انتخابات کے لئے بنائی گئی کمیٹیوں میں شامل ہونے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ برسراقتدار جماعت پی ٹی آئی کے چیئرمین جو کہ کسی وجہ سے وزیر اعظم بن گئے ہیں، ان کے چول وزراء اور ارکان کواس ملک اور آئین چھو کر بھی نہیں گزرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر چاہے کسی بھی جماعت کا ہو عمومی طور پر اسے غیر سیاسی نظر آنا چاہیے لیکن افسوس کہ ہمارے یہاں اب گورنر جو آئین اور جمہوریت سے ناواقف ہیں انہوں نے اس تشخص کو خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کبھی انڈے اور مرغیوں سے تو کبھی کٹو سے تو کبھی گوبڑ سے انقلاب لانے کی باتیں کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں :اروں صوبوں میں عربی کی تدریس کے حوالے سے قانون سازی کی جائے : وفاق المدارس

انہوں نے کہا کہ زرتاج گل صاحبہ گوبڑ سے پی ٹی آئی کراچی میں بسیں چلانے کا اعلان کر رہی ہیں تو ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ سندھ حکومت کی ریڈ لائن کا منصوبہ بائیو گیس سے بسیں چلانے کا ہے اور یہ خالصتاً سندھ حکومت کا منصوبہ ہے، گوبڑ سے بسیں نہیں چلتی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا گذشتہ روز ٹیلی فون والا ڈرامہ عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے اور ان کے جوابات سے ان کے حواس پر پی ڈی ایم کا چھایا ہونا واضح نظر آرہا تھا، وہ سوائے اپوزیشن کے کوئی بات کرتے نظر نہیں آئے ۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 2 ماہ میں 5 بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، ایک رات میں 25 روپے کا اس کے علاوہ اضافہ، چینی، آٹا، ادویات، ڈالر، ایل این جی کرپشن سمیت دیگر مہنگائی سے عوام کا دھیان ہٹانے کی کوشش میں ہمارے نالائق اور نالائق سلیکٹیڈ وزیر اعظم مصروف ہیں۔ لیکن اب اس حکومت کے دن گنے جا چکیں ہیں اور جلد ہی عوام سے ان کی جان چھوٹنے والی ہے ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ میں اضافے پر پولیس سے ضرور پوچھ گچھ کی جائے گی کیونکہ ہم نے ان کو مکمل فری ہینڈ دیا ہوا ہے اور ان پر کسی قسم کا کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔ عزیر بلوچ کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کے الزامات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ بچارے شغلی اور عارضی سیاستدان ہیں ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا سوائے حکومت کے خلاف بات کرنے کے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل تک ہم پر الزام عائد کر رہے تھے کہ عزیر بلوچ نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ شخصیات کے خلاف بیان دئیے ہیں جبکہ میں نے ان کو اس وقت بھی تمام چیلنجز کئے تھے کہ پی ٹی آئی کے ان سے رابطے ہیں اور اگر وہ قبول کریں تو میں شواہد بھی دونگا کہ عارف علوی، علی زیدی اور دیگر کو عزیر بلوچ کو پی ٹی آئی میں شامل کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا اور وہ اس کے یہاں دعوت میں بھی گئے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی میں ان کے ایک ایم پی اے جو کہ اسی علاقے سے منتخب ہوئے ہیں کہتا ہوں کہ وہ عزیر بلوچ کے خلاف کو ئی بیان تو دیں کیونکہ وہ خود ان کے اپنے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے پاس اگر عزیر بلوچ کے خلاف شواہد ہیں تو وہ عدالتوں میں جائیں اور بیانات دیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *