اخروٹ کے حیران کُن فائدے

اخروٹ کو عربی میں جوز، فارسی میں گردگان، بنگالی میں اکروٹ، گجراتی میں آکھوڈ، مرہٹی میں اکرود سندھی میں اکھروٹ کہتے ہیں ۔

زمانۂ قدیم سے اخروٹ کو ذائقے اور جسمانی فوائد کے حوالے سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں اخروٹ کے درخت بلوچستان، سوات، مری اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں بہت زیادہ ہوتے ہیں جبکہ ایران اور افغانستان میں بھی اخروٹ کے درخت بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔ اخروٹ کے درخت کی لمبائی عموماً ایک سو سے ایک سو بیس فٹ ہوتی ہے اور گولائی بارہ سے تیس فٹ تک ہوتی ہے۔ تیس سال کے بعد اس درخت میں پھل آنے لگتا ہے اور بعض اوقات چالیس سال سے زیادہ عرصہ لگ جاتا ہے۔

ماہیت ۔ اقسام
اخروٹ کی دو اقسام ہیں ۔ ایک جنگلی جس کا درخت باغ والے اخروٹ سے بڑا سو فٹ سے ایک سو بیس فٹ اونچا ہوتا ہے ۔ اس کا پھل بہت سخت ہوتا ہے۔ جس کے اندر سے مغز نکالنا مشکل ہوتا ہے دوسرا وہ کہ جو باغ میں لگایا جاتا ہے۔ اس کا درخت جنگلی سے چھوٹا چالیس سے نوے فٹ اونچا ہوتا ہے۔ اس کے پھل کا چھلکا پتلا اور مغز نکالنا آسان ہوتا ہے ۔اس کو کاغذی اخروٹ بھی کہتے ہیں ۔

اخروٹ کے درخت کے نیچے سے تنے کی گولائی بارہ سے اٹھارہ فٹ ہوتی ہے۔ لکڑی مضبوط خوبصورت اور شاندار ہوتی ہے۔جس سے مختلف اقسام کا فرنیچر تیار کیا جاتا ہے۔ پتے چارسے آٹھ انچ لمبے گول نوکدار ہوتے ہیں ۔ پھول بیساکھ میں شاخوں کے اگلے حصوں پر گچھوں میں لگتے ہیں۔

پھل
اخروٹ کے درخت کو تیس چالیس سال کے بعد لگتا ہے پھل کے اندر دودھ ہوتا ہے۔جو بعد میں جم جاتا ہے، پھل کے تین چھلکے ہوتے ہیں ۔ سب سے اوپر سبز رنگ کو ہوتا ہے۔ جو پکنے پر خودبخود پھٹ کر اتر جاتا ہے۔ اس کے بعد لکڑی کی طرح سخت چھلکا جس کے اندر مغز محفوظ ہوتا ہے۔ اخروٹ کے کچے پھل سے آچار اور چٹنی بنتی ہے۔ پکنے پرخشک میوہ کی طرح کھایا جاتا ہے۔ادویات میں مغز اورچھلکا استعمال کیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں :کسی صورت KE فرار نہیں ہونے دیا جائے گا : حافظ نعیم الرحمن

اخروٹ کی چھال۔
اس کی چھال سے عوررتیں اپنے دانت صاف کرتی ہیں ۔اس سے ان کے ہونٹ اور منہ رنگ دار خوبصورت ہو جاتے ہیں ۔

ذائقہ ۔
لذیذ اور مرغن ۔

مزاج ۔
گرم و خشک درجہ دوم اور بعض کے نزدیک گرم تر درجہ دوم ۔

مقام پیدائش ۔
کوہ مری ، بلوچستان کا پہاڑی علاقہ ،کوہ ہمالیہ پر، کشمیر سے منی پورتک پہاڑٖی علاقہ ۔ایران ،افغانستان میں بکثرت پیدا ہوتا ہے ۔

افعال ۔
مقوی باہ حواس باطنی، مبہی، ملین، محلل، جالی دافع کرم شکم، مصفی خون، حابس، مسکن درد ودندان ۔

پتے کی افعال ۔
مدرشیر، منفی، جالی، مسخن ، مسمن بدن ۔ اگر انجیر زرد اور اخروٹ ملا کر تھوڑی مقدار میں مثلاً ایک ڈیڑھ تولہ کھایا جائے تو مقوی دماغ ہے اور پانچ تولہ سے دس تولہ تک اس سے زیادہ سوگرام تو قبض کھولتا ہے۔ مقوی ہونے کی وجہ سے جسم کے اعضاء کو قوت دیتا ہے۔ مغز اخروٹ مویز منقٰی کے ساتھ کھانا بڑھاپے کو دور کرتا ہے ۔ خون کی پیدائش بڑھاتا ہے ۔ مگر یہ نسخہ جس کو دینا ہو پہلے یقین کر لیں کے ہائی بلڈپریشر نہ ہو ورنہ نقصان ہو گا ۔

اخروٹ کی گری جالی و محلل ہونےکی وجہ سے شہد کے ہمراہ ورموں کو تحلیل کرتی ہے۔ خصوصاً ورم پستان میں اور یہی داد پر لگانا مفید ہے اور مغز کا لیپ کلف،جلد کے داغ دھبے وغیرہ کے لئے مفید ہے۔ مبہی ومقوی باہ ہونے کی وجہ سے مقوی باہ معجون کا اہم جزو ہے ۔

مذید پڑھیں :تعلیمی اسٹیک ہولڈرز کا کنسورشیم بنے بغیر پالیسی پر عمل درآمد ممکن نہیں : ICCBS اعلامیہ

چھال ۔
چھال کو جوش دے کر اس سے مضمضہ کرنا دانت اور مسوڑھوں کے درد میں مفید ہے ۔اس کا نقوح پیٹ کے کیڑوں کو مار کر خارج کرتا ہے ۔ اخروٹ کے پتوں کو باریک پیس کر سوجی ہموزن ملاکر گائے کے دودھ کے ساتھ گوند کر پوریاں گھی میں تل لیں یہ پوریاں سات دن کھانے سے عورت اور جانور میں دودھ زیادہ پیدا ہوتا ہے ۔

دماغی طاقت کیلئے مغزاخروٹ، میویزمنقی، مغزبادام دودھ میں ملا کر کھلانا بوڑھوں اور کمزور دماغ والوں کے لئے اکسیر ہے۔ بھنا ہوا مغز اخروٹ سردکھانسی میں مفید ہے۔ اور بھلانوہ کی زہر کا تریاق ہے۔اخروٹ کا چھلکا جلا کر کھانا خون بواسیر کو ہمراہ آب مورد دینے سے بند کرتا ہے۔

پراسٹیٹ کینسر
پراسٹیٹ کینسر مردوں میں پائی جانے والی ایک جان لیوا بیماری ہے جو ہرسال لاکھوں تعداد میں اموات کا سبب بنتی ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ مٹھی بھر اخروٹ کھانے سے اس جان لیوا بیماری سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ اس کینسر کی ابتدا پراسٹیٹ گلینڈ سے ہوتا ہے جو کہ مردانہ نظام افزائش کا حصہ ہے اور اخروٹ کے سائز کا یہ گلینڈ پیشاب کی نالی کے گرد واقع ہوتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ڈاکٹر پال ڈیوس کا کہنا ہے کہ اخروٹ کوسپر فوڈ کہا جاتا ہے جو پراسٹیٹ کینسر کے علاوہ ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور بریسٹ کینسر سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اخروٹ کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور انسولین ہارمون کے لیے حساسیت بھی بڑھاتا ہے جس کی وجہ سے ذیابیطس کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ۔ ہمارے یہاں روایتی طور پر اخروٹ کے تیل سے پیٹ میں درد، باسور، دست اور انتڑیوں کی سختی کونرم کرنے جیسی بیماریوں کا علاج کیا جاتاہے تاہم ہم آپ کو یہاں اخروٹ کے دیگر اہم فوائد سے متعلق معلومات فراہم کریں گے ۔

دیگر اہم فوائد
اخروٹ قبض کی صورت میں فوری آرام پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہ معدے میں پہنچ کر فضلہ میں حرکت پیداکرکے اسے آگے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
اخروٹ میں شامل زنک، میگنیشم جیسے اجزا انسانی جسم کے لیے بہت ضروری ہیں، اس لیے حاملہ خواتین کے لیے اس کا استعمال نہایت نفع بخش ہے۔
اخروٹ میں شامل اجزا ہڈیوں کی مضبوطی اور نشونما کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
کھانسی اور دمہ کے دوران اخروٹ کا استعمال نہایت مؤثر ہے۔
اخروٹ میں میلا ٹونین(ایک قسم کا ضماد) نامی ایسڈ موجود ہوتا ہے جو جسم کے اندرونی نظام کے بہت سے حصوں کو چلانے کا ذمے دار ہے، لہٰذا جب جسم میں میلا ٹونین کی مقدار پوری ہوتی ہے تو آپ رات بھر سکون سے سو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں :سندھ حکومت کا کورونا SOP سے متعلق نیا حکم نامہ جاری

روزانہ صرف ایک اخروٹ کھانے سے جسم میں ہائی بلڈپریشر کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔
اخروٹ میں شامل وٹامن ای، بی ون،بی ٹو اور بی تھری نہ صرف جِلدی خشکی بلکہ جھریوں کے خاتمے کا بھی سبب بنتے ہیں۔
اخروٹ میں شامل ایسڈ غیر ضروری اور گندے کولیسٹرول کی سطح کوکم کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوتا ہے جس کے بعد صحت مند کولیسٹرول پید اہوتا ہے۔
پائیوریا (دانتوں کا ماسخورہ) سے بچنے کے لیے اخروٹ کی جڑ کی مسواک بھی مفید ہے۔ اس کے علاوہ اخروٹ کے بیرونی سبز چھلکے کو پانی میں جوش دے کر اس میں تھوڑا سا نمک ملا کر کلی کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔

اخروٹ کی جڑ کو زیتون کے تیل میں جوش دیں کہ گل جائے، پھر بواسیر کے مسوں پر لگادیں۔
اخروٹ میں روغن کی مقدار باقی خشک میوہ جات کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ کافی گرم ہوتا ہے۔ اس کی مالش سے دوران خون تیز ہوجاتا ہے۔ جس سے پٹھوں میں موسم سرما میں ہونے والے درد کو فوری فائدہ ہوتا ہے اور فالج میں بھی مفید ہے۔ اخروٹ کا تیل اور زیتون کا تیل باہم ہم وزن ملا کر سر میں لگانا جوئیں ختم کرتا ہے۔

بالوں کی سیاہی کو قائم رکھنے اور سفید ہوتے بالوں کو روکنے کے لیے اخروٹ کا سبز چھلکا 15 گرام، پھٹکڑٍی 2 گرام، بنولے کا تیل 250 گرام لے لیں۔ بنولے کے تیل کو تام چینی کے برتن میں ڈال کر اس میں اخروٹ کے چھلکے ڈال لیں اور اسے ہلکی آنچ پر اتنا گرم کریں کہ اخروٹ کے چھلکے میں سے نمی اڑ کر مکمل خشک ہو جائے، یعنی رنگت سیاہ ہو جائے پھر تیل کو چھان کر استعمال کریں۔
۔
اخروٹ کے چھلکے کا سرمہ خارش آنکھ، پانی بہنے اورسل کو مفید ہے۔ مغزاخروٹ کو پانی میں پیس کر ضماد کرناچوٹ کے نشان کو مٹادیتاہے۔ اس کے
مغز اورچھلکے کا جوشاندہ دست آور ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *