ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نواز شریف سے متعلق کیسوں میں خاموشی اختیار کرنے لگے . رپورٹ

رپورٹ: شہزاد ملک

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں کہ وہ اور انکی ٹیم موجودہ حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے تاحال سابق وزیر اعظم نوازشریف کیلئے کام کر رہے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کو اس حوالے سے کانوں کان خبر تک نہیں ہونے دی جارہی ہے ۔

ذرائع کے مطابق سابقہ دور حکومت میں سابق آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ اور سابق ڈی جی انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان کی سفارش پر بشیر میمن کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے تعینات کیا گیا تھا جبکہ بشیر میمن کو کیپٹن(ر) شعیب کی صورت میں اپنی پسند کا آفیسر دیا گیا جس کا کام صرف وصرف ( ن )لیگ کے دور میں بننے والے پیپلزپارٹی کے خلاف کیسز کو تیزی سے آگے چلانا اور ن لیگ کے خلاف کیسز کو بند کرنا تھا،کیپٹن(ر) شعیب آج کل آیف آئی اے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر سائبر ہیں۔

ذرائع کے مطابق ذوالفقار چیمہ نے انہیں ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے حوالے کیپٹن شعیب کو اس لئے کیا کہ جب ذوالفقار چیمہ ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ تھے تو انہوں نے اسٹبلیشمنٹ ڈویژن پنجاب سے سفارش کی تھی کہ ایس ایس پی کیپٹن شعیب کو ایس ایس پی آپریشن گوجرانوالہ تعینات کیا جائے اور وہ فی الفور ایس ایس پی آپریشن تعینات کر دئیے گئے اس کے بعد گوجرانوالہ میں کیسز اور ایف آئی آر ز کا حال وہی ہو ا جو اس وقت ایف آئی میں ن لیگ کے خلاف چلنے والے کیسز کا کیاہو رہا ہے بات یہاں ختم نہیں ہوتی اس کے بعد بھی کیپٹن شعیب کو ایس ایس پی گورجرانوالہ تعینات کروانے کے بعد ذوالفقار چیمہ نے اگلا آفیسر پنجاب حکومت سے مانگا ان کا نام طارق نواز ملک ہے جو اس وقت ایف آئی میں ڈائریکٹر انٹر پول ہیں۔

ذرائع کے مطابق نواز ملک کو شروع میں بشیرمیمن نے اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے اور فیصلے کروانے کا کہا طارق ملک ان کے جھانسے میں نہیں آئے لہذا انہیں ڈائریکٹر انٹر پول لگا دیا گیا اس کے بعد جس آفیسر کو ذوالفقار چیمہ نے مانگا وہ اس وقت اے ایس پی سیالکوٹ تھے وہاں سے ذوالفقار چیمہ نے انہیں تبدیل کروایا اور ایڈیشنل چارج دیتے ہوئے ایس پی صدر ڈویژن تعینات کروایاجو ابھی ایف آئی اے ایڈیشنل ڈائریکٹر سائبر کرائم پنڈی زون میں ہیں اور ان کا نام عصمت اللہ جونیجو ہے .

اس کے ساتھ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت کے ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے اور مشہور زمانہ جعلی اکاؤنٹس کے حوالے سے بننے والی جے آئی ٹی کے سربراہ حسان صادق بھی ذوالفقار چیمہ کی سفارش پر سی پی اوگوجرانوالہ رہ چکے ہیں اس سارے میں معاملے میں یہ بات روز روشن کی عیاں ہے کہ ذوالفقار چیمہ اور آفتاب طارق کی سفارش پ ر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو لگایا گیا اور پھر اس کیساتھ ہی بشیر میمن نے ذوالفقار چیمہ کی سفارش پر وہ تمام لوگ ایف آئی اے بلالیے اور جو گوجرنوالہ میں ذوالفقار چیمہ کی ٹیم کا حصہ تھے .

ذوالفقار چیمہ کی ٹیم نے بشیر میمن کی سربراہی میں وہ کارنامہ ہائے عظیم انجام دئیے کہ ایف آئی اے جیسے مضبوط ادارے کی جڑ ہیں تک بلا دیں جبکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ نئی حکومت ابھی تک خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ بشیر میمن اور ان کی ٹیم پی ٹی آئی گورنمنٹ کی ٹیم ہے لیکن اصل میں ڈی جی ایف آئی اے کی ٹیم نواز شریف کی ٹیم ہے کہ ابھی تک نواز شریف کے لئے کام کر رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے اور وزیراعظم کا کانوں کان خبر نہیں ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *