کسی صورت KE فرار نہیں ہونے دیا جائے گا : حافظ نعیم الرحمن

کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کے الیکٹرک کی نااہلی اور ناقص کارکردگی پر گہری تشویش اور وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل نوازنے اور کمپنی کی بدعنوانیوں و عوام سے لوٹ مار کو تحفظ دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے ۔

جس سے حکومتی صفوں میں موجود بجلی مافیا، عالمی دھوکے باز اور جعل ساز ابراج گروپ اور کے الیکٹرک کو فائدہ پہنچ سکے،کے الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں سے ناجائز اربوں روپے وصول کیے ۔ جسے اب تک واپس نہیں کیا گیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے اور کسی صورت بھی کے الیکٹرک کے مالکان کو فرار نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ لندن میں عارف نقوی کے خلاف عدالتی فیصلہ کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی کے عوامی مؤقف کی تائید ہے،ہم سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے مالکان کو فوری گرفتار کیا جائے اور کے الیکٹرک سے قومی اداروں سوئی سدرن گیس کمپنی اوراین ٹی ڈی سی کی رقم سمیت کراچی کے صارفین کے بھی کلاء بیک کے واجب الاداء 300 ارب روپے واپس دلوائے جائیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عارف نقوی کی گرفتاری کے بعد ابراج گروپ کے سینئر ممبر اور کے الیکڑک کے سابق چیئرمین تابش گوہر کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا تاکہ کے الیکٹرک کی بد عنوانیوں پر پردہ ڈالا جا سکے اور کسی طرح معاملات کو حل کیا جا سکے، کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کے ہاتھوں فروخت کرکے ماکان کو ملک سے فرار کروایا جا سکے اور تابش گوہر بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح کے الیکٹرک کو قومی اداروں اور کراچی کے صارفین کی واجب الادا رقم 300 ارب روپے ادا کئے بغیر نیشنل سیکیوریٹی کلیرینس سرٹیفیکٹ دلوایا جا سکے ۔

مذید پڑھیں :ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری کی رحلت سے علم و عرفان کا باب بند ہو گیا : قاری عثمان

اسی وجہ سے وفاقی حکومت اور اسکی کابینہ کے وزراء کے الیکٹرک کا 15 سالہ فرانزک آڈٹ کروانے اوراسکے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے اس کے وکیل بن کر اسے تحفظ فراہم کررہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی تابش گوہر، ندیم بابر کے ہمراہ چیف جسٹس سے ملاقات کر کے کے الیکٹرک اور دیگر قومی اداروں کی واجب الادا رقم کے تنازعہ کو حل کرنے کی درخواست کی  جسے سپریم کورٹ نے خالص کاروباری اور انتظامی معاملات قراردیتے  معاملے کو وفاقی حکومت سے خود حل کرنے کا کہا جبکہ وفاقی حکومت نیب کی جانب سے متوقع کاروائی کے ڈر سے کے الیکٹرک کے بارے میں واضح فیصلہ نہیں کر رہی ہے ۔

سپریم کورٹ کے احکامات نظر انداز کر کے کے الیکٹرک کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہو ں نے کہا کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزراء اسد عمر، عمر ایوب اور معاون خصوصی نے صنعتی صارفین کے گیس کے کنکشن منقطع کرنے کا حکم صادر کیا ہے تاکہ وہ اپنی صنعتی ضروریات کیلئے گیس سے سستی بجلی خود پیدا کرنے کے بجائے کے الیکٹرک سے مہنگی بجلی خریدیں۔ جسے ملک کی  تمام ہی صنعتی انجمنوں نے یکسر مسترد کردیا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ سردی میں بھی کے الیکٹرک نے عوام کو سکون سے نہیں رہنا دیا،طے شدہ معاہدے کے تحت بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا جس کے باعث شہر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *