محکمہ پولیس میں 12 برس بعد ڈیپارٹمنٹل اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس ،آئی جی سندھ نے ڈی جی آڈٹ کو شیلڈ سے نوازا.

محکمہ آڈٹ سندھ نے پولیس آڈٹ کے بعد سالانہ ڈی اے سی منعقد کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ، محکمہ پولیس نے سالانہ آڈٹ کے باوجود گزشتہ 12 برس سے محکمہ آڈٹ افسران کے ساتھ ڈیپارٹمنٹل اکاونٹس کمیٹی (ڈی اے سی ) منعقد ہی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے سالانہ آڈت پیراز میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا .

ذرائع کے مطابق 21 جنوری کو محکمہ آڈٹ کے ڈائریکٹر جنرل لیاقت علی میمن کی خوصی کاوشوں کے بعد انسپکٹر جنرل پولیس کے اور اعلی افسران کے ساتھ ڈیپارٹمنٹل اکاونٹس کمیٹلی کا اجلاس منعقد ہوا ،جس میں طے کیاگیا کہ آئندہ ہر سال محکمہ پولیس آڈٹ کے بعد محکمہ آڈٹ کے اعلی افسران کے ساتھ ڈی اے سی میں ضرور شرکت کو یقینی بنائے گا ،جب کہ اس کے علاوہ انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ نے تمام ڈی آئی جیز ، ایس ایس پیز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ کوشش کریں کہ کم سے کم آڈٹ اعتراض محکمہ پولیس پر بنیں .

محکمہ آڈٹ اور محکمہ پولیس کے اعلی افسران ڈی اے سی اجلاس میں شریک ہیں

معلوم رہے کہ محکمہ آڈٹ سندھ ہر سال مالی سال کے اختتام پر فنڈز کو آڈٹ کرتا ہے جس کے بعد آڈٹ افسران آڈٹ رپورٹ متعلقہ محکمہ کے اعلی افسران کے ساتھ ڈسکس کرتے ہیں تاکہ ممکنہ طورپر پر بعض ابتدائی اعتراضات کو دور کیا جاسکے تاہم اس کے بعد آڈٹ رپورٹ کو حتمی شکل دیکر گورنر سمیت دیگر اعلی و متعلقہ اداروں کو بھیج دی جاتی ہیں جس کے بعد پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے .

دونوں محکموں کے اعلی افسران باہمی امور پر تبادلہ خیال کررہے ہیں

واضح رہے کہ محکمہ آڈٹ سندھ ہر سال سندھ پولیس کے حسابات کا جائزہ لیتی تھی تاہم آڈٹ کے بعد اس کو باہمی طور پر ڈسکس نہیں کیا جاتا تھا ، جس کو 12 برس بیت چکے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ پر ہزاروں آڈٹ اعتراضات بن چکے تھے ، اس ڈی اے سی کو ادارے کا سربراہ چیئرکرتا ہے جبکہ دوسری جانب اس کمیٹی میں فنانس ڈیپارٹمنٹ کا نمائندہ ، متعلقہ محکمے کا ڈرائنگ ڈسبرسنگ آفیسر (ڈی ڈی او)اور پرنسپل اکاونٹ آفیسر (پی اے او ) شامل ہوتے ہیں .

آئی جی سندھ سید کلیم امام ڈی جی آڈٹ لیاقت علی میمن کو شیلڈ دے رہے ہیں

ڈیپارٹمنٹل اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس کے بعد انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ سید کلیم امام نے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ لیاقت علی میمن کو 12سال بعد مذکورہ اجلاس میں تعاون کرنے پر انہیں اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا تھا .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *