تبیتا گِل گرفتار نہ ہوئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع ہو گا : علمائے کرام

کراچی : تمام انبیاء کرام علیہم السلام اللّہ تعالیٰ کے منتخب بندے اور برگزیدہ شخصیات ہیں جو انسانیت کی راہنمائی کے لیے دنیا میں بھیجے گئے ۔ ان کی شان میں گستاخی ایسا دل خراش سانحہ ہے  ۔جس سے پوری امت کے قلوب مجروح ہوتے ہیں ۔ یہ قبیح عمل اللّہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کے بھی مترادف ہے اور انسانیت کے بھی خلاف ہے ۔

تبیتا گِل نامی جس نرس نے یہ جرم کیا ہے ، اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود اب تک گرفتار نہ ہونا انتہائی قابل تشویش عمل ہے ۔ پولیس کی جانب سے ایک بار بھی ملزمہ کو طلب نہیں کیا گیا ۔ جب کہ مدعی اور گواہان کو بار بار بلا کر انہیں تنگ کیا جا رہا ہے ۔ جو انہیں دباؤ ڈال کر اس مقدمے سے پیچھے ہٹانے کی مذموم حرکت ہے ۔

مزید پڑھیں :گستاخ انبیاء کی گرفتاری کیخلاف تمام مسالک کے علما کا احتجاج شروع

ہم مطالبہ کرتے ہیں پولیس انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر ملزمہ کے خلاف ناموسِ رسالت کے قانون کے تحت کارروائی کرے تاکہ ملک سے توہین رسالت کا سلسلہ بند ہو ۔ بصورت دیگر مسلسل احتجاج کے ذریعے ہم اپنے مطالبات دہراتے رہینگے ۔

ان خیالات کا اظہار فریسکو چوک برنس روڈ کراچی میں سوبھراج ہسپتال کی نرس تبیتاگل کی مبینہ گستاخی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کیا ۔

جن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد کلیم اللہ نعمان ، مولانا محمد رضوان ، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا نورالحق ، جمعیت علمائے پاکستان (شاہ اویس نورانی) کے قاری فیاض ، جماعت اسلامی کے محمد عثمان ، اہلسنت والجماعت کے مولانا تاج حنفی ، تحریک لبیک کے مولوی اللہ وسایا ، مقامی علماء مولانا حمید سعدی ، مولانا محمد پراچہ شامل تھے ۔ احتجاجی مظاہرے میں اہل محلہ کی بڑی تعداد تاجر برادری علماء و طلبہ برنس روڈ کے قرب و جوار سے عوام الناس شریک ہوئے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *