مسجد شہید اور قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف 295-Aکے تحت مقدمہ کیا جائے ، اسد اللہ بھٹو

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ ہل پارک میں مسجد کو شہید اور قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے کے جرم میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت اس مذموم کارروائی میں ملوث دیگر ذمہ داران کے خلاف آئین کی دفعہ 295-Aتعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور سب کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے .

میئر کراچی کے مسجد کی تعمیر کا اعلان ان کے جرم کو ختم نہیں کرتا، جرم کے ارتکاب پر ان کو سزا ملنی چاہیئے ، عدالتی حکم کے آڑ میں ظلم بند کیا جائے ، جن لوگوں کو بے دخل کیا جاچکا ہے ان کو متبادل فراہم کیا جائے اور آئندہ سے متبادل دیے بغیر انہدامی کارروائیاں ہرگز نہ کی جائیں۔چائنا کٹنگ کرنے والوں ، پارک پر قبضہ کرنے والوں اور تجاوزات قائم کرانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں آل پارٹیز کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں تمام دینی و مذہبی اور تاجر یونین کے سربراہان نے شرکت کی ۔کانفرنس ہل پارک میں مسجد کی شہادت اور آپریشن توڑ پھوڑ کے دوران شہریوں کے روزگار اور املاک تباہ ہونے کے خلاف اور ان کو فوری طور پر متبادل فراہم کرنے کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی ۔

کانفرنس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں تجاوزات کے خاتمے کے نام پر جاری آپریشن روکنے ،متاثرین کو بحال کرنے اور متبادل فراہم کرنے سمیت دیگر مطالبات شامل تھے ۔آل پارٹیز کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر جنیدمکاتی ،پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ ، جمعیت علمائے اسلام (ف)کے رہنما قاری محمد عثمان ،سید حماد اللہ شاہ ،جمعیت علمائے پاکستان کے محمد صدیق راٹھور ، جمعیت علمائے اسلام (س)کے حماد اللہ مدنی ،سرپرست جے یو آئی سندھ مولانا عبد الکریم عابد ، جمعیت اتحاد العلماء کراچی کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الوحید، نظام مصطفی پارٹی کے الحاج محمد رفیع ،مرکزی صدر آل پاکستان اسمال ٹریڈرز محبوب اعظم ، اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کے صدر محمود حامد ، میریٹ روڈ بزنس ایسوسی ایشن کے صدر محمد عثمان شریف ، تاجر اتحاد مارکیٹ کے صدر سید سعد اللہ آغا، ایمپریس مارکیٹ کے صدر سعد اللہ کاکٹر ، لائٹ ہاؤس مارکیٹ کے صدر نعمان قریشی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

اسد اللہ بھٹو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کراچی کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اور عدالتی حکم کی آڑ میں شہریوں کو بے روزگار کیا جارہا ہے اور ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ، کراچی کو لاوارث سمجھ لیا گیا ہے لیکن ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کراچی لاوارث نہیں ہے ، ہم کراچی کے تاجروں اور شہریوں کے ساتھ ہیں ان کے حقوق کی جنگ لڑیں گے اور ان کو حقوق دلائیں گے ۔

ہل پارک کی مسجد سمیت شہر کی مارکیٹوں میں قائم ایک ایک مسجد کی حفاظت کریں گے ۔ مساجد کے تحفظ کے لیے اگرہم کو اپنی جانیں بھی دینا پڑیں تو دریغ نہیں کریں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ شہر میں جو کچھ ہورہاہے ، ایسا لگتا ہے کہ کوئی والی وارث نہیں ہے ، تمام سیاسی پارٹیاں اس شہر کو سونے کی چڑیا سمجھتے ہیں ، ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی والے کراچی کو تباہ کرنے میں متفق ہوگئے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے حکم کے نام پر لوگوں پر ظلم کیا جارہا ہے ۔

سپریم کورٹ کاحکم چائنا کٹنگ ، پارکوں اور میدانوں پر قبضے ختم کرانے کے لیے تھا ۔انہوں نے کہاکہ وسیم اختر 26/26ارب روپے کے تین بجٹ پاس کراچکے ہیں لیکن کراچی کے عوام کو کچھ نہیں ملا ۔ہل پارک کی مسجد میئرکراچی کو قبضہ نظر آتی ہے لیکن بابر غوری کے قبضے نہیں نظر آتے ۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے قرآن پاک کے تقدس کو پامال کیا مسجد شہید کی 295-A کے تحت ان سب پر مقدمہ کیا جائے ، مسجد کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے ، جب تک انہیں سزا نہیں ملے گی ہماری جدوجہد جاری رہے گی

انہوں نے کہاکہ حکومت تمام مارکیٹوں اور دکانداروں کو متبادل فراہم کرے اور میئر نے سپریم کورٹ کے حکم کے نام پر جو تجاوز کیا ہے اس کا نوٹس لیا جائے ۔قاری محمد عثمان نے کہاکہ ہم اعلان کرتے ہیں کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق جمعہ کو ہل پارک میں شہید کی جانے والی مسجد کے مقام پر مل کر نماز جمعہ ادا کریں گے اور پوری قوت اور طاقت کامظاہرہ کریں گے ، ہم نے میئر کراچی کے ساتھ کوئی سودے بازی نہیں کی ہے اور نہ کریں گے ، کل تک تو میئر کراچی اور ان کے ترجمان ہل پارک میں مسجد کی موجودگی کو ہی تسلیم نہیں کررہے تھے اور سراسر انکاری تھے لیکن آج انہوں نے مسجد کی حیثیت کو تسلیم کرلیا ہے .

یہ ہم سب کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مسجد کو شہید کرنے اور قرآن پارک کی بے حرمتی کرنے والوں پر دفعہ 295-A کا قانون لاگو ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نعمت اللہ خان کے دور میں اس مسجد کے حوالے سے ان کے احکامات موجود ہیں ، ہم نے وہ سب ثبوت اور پلان میئر کراچی کو دکھایا ۔

نعمت اللہ خان کے دور میں نیو سبزی منڈی آباد کی گئی اور لیاری ایکسپریس وے تعمیر ہوا کسی کو بھی بے روزگار اور بے گھر نہیں کیا گیا ،ہزاروں افراد کو متبادل جگہ اور دکانیں فراہم کی گئیں لیکن بدقسمتی سے آج ایسا نہیں ہورہا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کسی کوبھی بدمعاشی کی اجازت نہیں دی جائے گی ،کراچی کو بچانے کے لیے اہل کراچی کو نکلنا ہوگا ، بڑے تاجروں کو چھوٹے تاجروں کے ساتھ آکر کھڑاہونا ہوگا اسی طرح کراچی کو بچایا جاسکتا ہے ورنہ کوئی بھی باقی نہیں بچے گا ۔

جنید مکاتی نے کہا کہ 50سال سے ہل پارک میں مسجد قائم ہے ، اسے اچانک شہید کردیا گیا ، ہم نے تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی، وہاں نمازیں ادا کرنا دوبارہ سے شروع کیں ، میئر کراچی کے ترجمان نے پہلے تو ہل پارک میں مسجد کی موجودگی کو ہی تسلیم نہیں کیا۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ میئر کراچی اور دیگر ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے لیکن آج ظہر میں جاکر کہا کہ ہم یہ مسجد وہاں از سر نوتعمیر کریں گے ۔

انہوں نے کہاکہ سٹی کونسل میں ہماری قرارداد پیش نہیں کرنے دی گئی ، جب ہم نے نعرے لگائے ،احتجاج کیا توہمارے اوپر تشدد کیا گیا ، ہم میئر کراچی کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم دینی معاملات پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دیں گے ہم کفن پہن کر آتے ہیں اور ہم شہاد ت کے لیے تیار ہیں۔

الحاج محمد رفیع نے کہاکہ ہل پارک میں شہید کی جانے والی مسجد کو دوبارہ تعمیرکیا جائے ، مسجد کی شہادت کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں ،بلدیہ کی جانب سے قانونی طور پر قائم کی گئی مارکیٹوں کو توڑنا بھی ناقابل فہم ہے ، ان تمام لوگوں کو متبادل فراہم کیا جائے ۔مولانا عبد الوحید نے کہاکہ ہم مسجد کی شہادت کی مذمت کرتے ہیں اور بے دخل لوگوں کو متبادل فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

مولانا عبدالکریم عابد نے کہاکہ کسی کو بھی متبادل فراہم کیے بغیر بے دخل کرنا سراسر ناانصافی اور خلاف قانون ہے ، عدلیہ ایسا کچھ بھی نہیں کرسکتی کیونکہ عدلیہ کا کام تو عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے ، ہل پارک کی مسجد ، لی مارکیٹ اور گارڈن سمیت دیگرمارکیٹوں اور دکانوں کو گرانا سراسر ظلم و ناانصافی ہے ،اسے ختم کیا جائے اور بے دخل لوگوں کو متبادل فراہم کیا جائے ۔

مفتی حماد اللہ مدنی نے کہاکہ دکانیں توڑی گئیں ، گھر بار ختم کیے گئے ،ہم خاموش رہے لیکن اب مسجد گرادی گئی ہے ، اب وقت آگیا ہے کہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور عملی طور پر اقدامات کریں ،زبانی جمع خرچ کا وقت گزرگیا ہے ۔محبوب اعظم نے کہاکہ کراچی میں تجاوزات کے نام پر ظلم و ستم کے خلاف پورے ملک میں آواز اٹھائی جائے اور سینٹ وقومی اسمبلی میں اس پر قرارداد پیش کی جائیں ۔

سعداللہ کاکڑ نے کہاکہ مسجد کی بے حرمتی کے لیے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے اس کے بعد ہم اپنی دکانیں بھول گئے ہیں ہم ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں ۔سید سعد اللہ آغا نے کہاکہ جب کراچی کی تمام جماعتوں نے ہمارا ساتھ چھوڑدیا تو اس وقت بھی جماعت اسلامی نے ہمارا ساتھ دیا اور آج بھی یہ جماعت ہمارے ساتھ کھڑی ہے ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے لیاری ایکسپریس وے بنایا تو ہزاروں لوگوں کو متبادل فراہم کیا۔ میئر کراچی اپنے دور کی چائنا کٹنگ کو چھپانے کے لیے قانونی وجائز دکانیں توڑر ہے ہیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *