تمام مذاہب کی تعلیمات انسانی جان کی حُرمت کا درس دیتی ہیں : علامہ احسان صدیقی

کراچی : اسلام بھائی چارے اور روا داری کا دین ہے اور ہمیں پرامن کوششوں کے ذریعے ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہے ، جو نفرت کا پرچار کرتے ہیں ۔

ایک وقت تھا جب پاکستان میں خود کو بم دھماکے سے اڑانے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ، کیونکہ اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے ۔ لوگ اس وقت امن اور ہم آہنگی سے رہتے تھے اور کوئی فرقہ وارانہ مسائل نہیں تھے، پھر عالمی سیاست نے صورت حال تبدیل کر دی ، جب مذہب کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مذہبی اور مسلکی اختلافات کے نام پر پاکستانی ہی نہیں، دنیا بھر میں جو خون آشامی کی جا رہی ہے ، اس کا نہ تو مذہب کی تعلیمات سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کسی مسلک سے کیونکہ مذاہب اور مسالک تو دائما امن و آشتی کا درس ہی دیتے ہیں ، عالمی رہنما امن کیلئے کام کریں ۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری ، بین المذاہب کمیشن برائے امن و ہم آہنگی (ICHP) کے چیئرمین اور عالمی سفیر امن علامہ احسان صدیقی، مولانا عبدالخبیر آزادی، چیئرمین منارٹی رائٹ کمیشن کے چیلا رام و دیگر مذہبی اسکالر ، مسیحی، سکھ، باہی، ہندو برادری کے معززین نے خطاب کیا ۔

مذید پڑھیں : خانپور مزار کا طواف اور ناچ گانا کرنے والوں کو سخت دینے کا مطالبہ

کانفرنس میں  پاکستان سے تعلق رکھنے والے مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے شرکت کی اور محبت امن بھائی چارے کا پیغام دیا ۔کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے مذہبی قائدین اور عبادگاہوں کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے ، مذہبی قائدین ایسے اشتعال انگیز بیانات اور تحریروں سے احتراز کریں ، جن سے دوسروں کی دل آزاری ہو سکتی ہو ۔ مذہبی تنازعات اور اختلافات کو باہم مشوروں، افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمے کی روشنی میں طے کیا جائے ۔

تمام مذاہب کے اکابرین اور اسکالرز کو مذہبی ، معاشرتی اور ثقافتی ہم آہنگی کیلئے ایک دوسرے کی عبادت گاہوں، مثلاً مدارس، مساجد ، مندروں، گرجا گھروں اور گردواروں کے دورے کرنے چاہئے ۔ اقلیت کا لفظ ایک ایسے امتیازی تاثر کا حامل ہے جس سے کسی کے مقام کے کم تر ہونے کا پہلو ابھرتا ہے ۔ اس لفظ کے بجائے تمام مذاہب کیلئے موزوں متبادل لفظ ہونا چاہئے ۔

مزید پڑھیں : مزار کے گرد طواف کرنے پر سجادہ نشین سمیت 5 مُرید گرفتار

میثاق مدینہ اور قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی کے ممبران سے کی گئی تقریری میں دیئے گئے بین المذاہب ہم آہنگی اور بقائے باہمی کے روشن اصولوں کو نافذ کیا جائے تاکہ پاکستان میں پائے جانیوالے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔ تمام مذاہب کی تعلیمات ، مذہبی رواداری ، عدم تشدد، احترام انسانیت اور انسانی جان کی حرمت کا درس دیتی ہے ۔ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں احترام مذاہب عالم اور احترام انسانیت کی قرارداد منظور ہونا پاکستان کی عظیم فتح ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *