فحاشی پھیلانے والا پتھر توڑ دیا گیا

کرہ ارض پر خوبصورت مظاہر مسلسل انسانوں کی جہالت کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ یہ خوبصورت چٹان آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے ہل سرنگ میں کچھ عرصے سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن رہی تھی ۔ لوگ اس چٹان پر بیٹھ کر تصاویر بنواتے تھے ۔

جب بھی میرے سامنے یہاں کی کوئی تصویر آتی تو کچھ لمحے کے لیے وہ مجھے روک لیتی تھی ۔ چٹان سے نیچے وادی کا نظارہ عجیب دلکشں لگتا اور یہاں کی اونچائی دیکھ کر دل دہل سا جاتا تھا ۔ خواہش تھی کہ کبھی اس مقام پر جانا ہو ۔ ایک مقامی شخص کے مطابق ”یہ علاقہ یعنی ہل سرنگ کوہالہ اور دھیر کوٹ کے درمیان واقع ہے اور اس چٹان سے ایوبیہ ، نتھیا گلی ، کوہالہ ، منہاساں کا نظارہ کیا جا سکتا تھا ۔ “

مقامی شخص نے بتایا ”یہاں قریب گھر واقع ہیں ۔ تحصیل دھیر کوٹ سے یہاں نوجوانوں کی آمد ہوتی تھی اور سوشل میڈیا پر اس مقام کی بہت پبلسٹی ہو گئی تھی، اس وجہ سے اسے آج توڑ دیا گیا ہے “۔

مذید پڑھیں :حکومت اُم رباب چانڈیو کیس کے مرکزی ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرے : عوامی رائے

باغ سے صحافی راجہ طاہر گلزار نے اپنی فیس بک پوسٹ کے ذریعے ان الفاظ میں اطلاع دی : ”ہل سرنگ خوبصورتی کا شاہکار پتھر کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر توڑ دیا کہ یہاں لوگ سیلفیاں بناتے ہیں اور فحاشی ہوتی ہے “۔

آزاد کشمیر میں بے شمار ایسے سرکاری محکمے قائم ہیں ۔ جن کا کام صرف اور صرف لوگوں کو ملازمتوں میں کھپا کر تنخواہ دینا ہے ۔ یوں لگتا ہے محکمہ سیاحت کا شمار بھی اسی فہرست میں ہو گا ۔ اس محکمے کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ سیاحوں کے لیئے پرکشش مقامات کی دریافت ، وہاں سیاحوں کی بہ سہولت رسائی ممکن بنانا ، آثار قدیمہ وغیرہ کی بحالی اور حفاظت یہ سب اس محکمے کے کام ہیں لیکن صورت حال مایوس کن ہے ۔

اگر محکمہ سیاحت بیدار ہوتا، اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا تو یہ چٹان اور اس جیسے کئی اور خوبصورت قدرتی مظاہر کی حفاطت کی جاتی اور انہیں ممکنہ حد تک پروموٹ کیا جاتا ۔ افسوس ! ہم حالات بہتر بنانے کی بجائے سطح زمین کے خوبصورت نقوش چن چن کر مٹانے میں مصروف ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *