وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے جامعہ اقرا کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کر دیا

کراچی : وائس چانسلر اقراء یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے ہفتہ کو یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد مسرور اور شعبہ نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر شہلا نعیم ظفر بھی موجود تھیں ۔ یہ تقریب حسین لاکھانی ہسپتال، ناظم آباد میں منعقد کی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وسیم قاضی نے پاکستان میں شعبہ نرسنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ صرف یہ کہ ڈاکٹرز، بلکہ نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بھی کمی ہے ۔ اور پچھلے سال -19 COVID کی وبائی صورتِ حال میں یہ کمی بہت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں 1500 مریضوں کے لیے اوسطاً صرف ایک نرس موجود ہے۔ جب کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے 2019 میں کئے گئے سروے کے مطابق پاکستان بھر میں نرسوں کی کل تعداد 112,123 ہے ۔ یہ اعداد و شمار بہت تشویشناک ہیں ۔

پاکستان میں مریضوں کی بلند شرحِ اموات کی وجوہات میں بنیادی طبی سہولیات کے فقدان کے علاوہ طبی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ افرادی قوت کی کمی بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹر قاضی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان سے تعلیم و تربیت حاصل کرکے متعدد نرسیں بیرون ملک کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں افرادی قوت میں کمی کا سامنا ہے ۔

مذید پڑھیں :براڈشیٹ تحقیقات: عظمت سعید پر مشتمل ایک رکنی کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری

ڈاکٹر قاضی نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم و تربیت سے بہت ساری متوسط طبقے کی خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ملازمت کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقرا یونیورسٹی نے نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے تعلیمی نصاب اور تربیتی طریقہء کار کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی امتحانات میں بھی کامیاب ہو سکیں۔ اس کے علاوہ اقرا یونیورسٹی نے اپنے طلبہ و طالبات کے لئے بین الاقوامی نرسنگ فیکلٹی کا بندوبست بھی کیا ہے تا کہ ہمارے نوجوان عالمی معیار کے طریقہء کار اور طبی ضابطوں سے آگاہ ہو سکیں ۔

بانی چانسلر نے پاکستان میں طب کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے آج سے دو سال قبل فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کی بنیاد رکھی ۔ جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں شعبہ فارمیسی اور شعبہ فزیو تھراپی کا آغاز کیا گیا۔ طب کے تعلیمی میدان میں قدم رکھنا اور عوام الناس کو سستی طبی سہولیات فراہم کرنا حنید لاکھانی کے مرحوم والد حسین لاکھانی کا مشن تھا . اس مشن کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے بہت جلد اقرا یونیورسٹی MBBS اور BDS ڈگری پروگرام کا آغاز بھی کرے گی۔

کیمپس کی سہولیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قاضی نے بتایا کہ نرسنگ کالج 8 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے . جس میں طلبہ و طالبات کے لئے کیمپس کے اندر محفوظ رہائش کا بندوبست بھی موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ کالج کا اپنا تدریسی ہسپتال ’حسین لاکھانی ہسپتال“ بھی ہے ۔ 6 ایکڑ اراضی پر پھیلا یہ ہسپتال 300 بستروں پر مشتمل ہے اور جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ ہے ۔

مزید پڑھیں :امریکا افغانستان میں شہریوں پر بمباری کر رہا ہے، طالبان

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمد مسرور نے کہا کہ نرسنگ کالج ہمارے نرسنگ طلبا کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لئے پوری طرح سے جدید سہولتوں اور معیاری ساز و سامان سے لیس ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ کالج پاکستان نرسنگ کونسل کے ذریعہ رجسٹرڈ اور تسلیم شدہ ہے ۔ محکمہ صحت سندھ نے بھی نرسنگ کالج کا دورہ کیا ہے اور اسے نرسنگ پروگرام شروع کرنے کے لئے جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ پایا ہے ۔

تقریب سے کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر شہلا نعیم ظفر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ شعبہ نرسنگ کے تحت Spring 2021 میں داخلے شروع کیے جا رہے ہیں . جس کے لیے نرسنگ کونسل آف پاکستان سے پہلے ہی این او سی لی جا چکی ہے ۔ اس شعبے کے تحت ایک چار سالہ BSN ڈگری پروگرام، ایک دو سالہ Post RN BSN ڈگری پروگرام اور ایک دو سالہ CNA ڈپلومہ پروگرام آفر کیا جا رہا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *