مقام ابراہیمؑ

حضرت ابراہیم علیہ السلام

مسجد حرام کے صحن مقدس (مطاف) میں واقع ایک جگہ کو ”مقام ابراہیم“ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں مقام ابراہیم کو حق تعالیٰ کی بڑی نشانی قرار دیا گیا ہے۔

اہل اسلام کے لیے مقام ابراہیم اجنبی مقام نہیں، مگر اس کی جزئیات کے بارے میں کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ مسجد حرام میں ایک سنہری کرسٹل شکل کا ایک ”قد آدم جار“ ہے، جس میں ایک پتھر پر گارے کے اندر پیروں کے دو نشان کندہ ہیں۔ اس پتھر کو ”حجر اسماعیل“ بھی کہا کا جاتا ہے۔ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبے کی دیواریں چن رہے تھے۔

اس کی ضرورت اس وقت پڑی تھی جب دیوار اونچی ہو گئی تھی اور پتھر پر پتھر رکھتے چلے جانا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بس سے باہر ہوگیا تھا۔ مجبوراً وہ پتھر پر کھڑے ہوکر چنائی کا کام کرنے لگے تھے۔ مقام ابراہیم کو حجر ابراہیم علیہ السلام سے تعبیر کرنے والوں میں جلیل القدر مفسر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: فلسطین میں ساڑھے 5 ہزار سال پرانا درخت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ہمعصر ہے ۔

مقام ابراہیم زمین سے تھوڑا اونچا لکڑی کے گنبد پر مشتمل ہے۔ یہ گنبد چار ستونوں پرکھڑا ہے۔ اس گنبد کے اندر وہ پتھر موجود ہے، جس میں پاؤں کے نشانات ہیں۔ ان چاروں ستونوں کے ساتھ چار آہنی دریچے بنائے گئے ہیں۔ جس سمت سے مقام ابراہیم میں داخل ہونے کا راستہ ہے، اس میں سنہری اور منقش نشانات ہیں۔ وہیں چار ستونوں کے درمیان مصلیٰ ساباط ہے۔ دو ستونوں پر گنبد ہے۔ ان کے اطراف میں گنبد کے اندر سونے کے پانی سے آیات اور مقدس عبارات منقش ہیں۔

مقام ابراہیم کے کمرے کا رقبہ 18 مربع میٹر تھا، جبکہ مقام ابراہیم ڈیڑھ میٹر سے زیادہ نہ تھا۔ 18 رجب 1387ھ کو مقام ابراہیم کو اعلیٰ درجے کے کرسٹل کے بنے ہوئے شوکیس میں رکھنے کی تقریب منعقد کی گئی، جس کی بدولت حرم شریف میں تقریباً 5 مربع میٹر کا رقبہ خالی ہوگیا۔ مقام ابراہیم کے گنبد کو کئی بار مرمتی عمل سے گزارا گیا۔ آخری بار مقام ابراہیم کی مرمت اور تزئین 1387ھ میں کی گئی۔

 

شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود نے مقام ابراہیم پر لگا عارضی پردہ ہٹا کر کرسٹل شکل کا گنبد لگوایا۔ شاہ فہد بن عبد العزیز آل سعودی نے مقام ابراہیم کا پورا ڈھانچہ دھاتوں سے تیار کرایا اور اس کی تیاری میں اعلیٰ معیار کا تانبا استعمال کیا گیا۔ اس کے اندرونی حصے میں سنہرے پانی سے تیار دریچہ نصب کرایا۔ اس کے علاوہ اس کے فرش پر سیاہ گرینائیٹ کی جگہ سنگ مرمر لگایا۔ مقام ابراہیم کے گنبد کا خالص وزن 1 کلو 750 گرام ہے۔ اس کی اونچائی ایک اعشاریہ 30 میٹر ہے۔ زیریں قطر 40 سینٹی میٹر اور بالائی حصے سے قطر 20 سینٹی میٹر ہے۔ بیرونی زیریں قطر 80 سینٹی میٹر اور نچلا دائرہ 2 اعشاریہ 51 میٹر ہے۔

مزید پڑھیں: مسجد نبوی کی محرابیں

حرمین شریفین جنرل پریزیڈینسی کی تکنیکی سروس کی انتظامیہ نے مقام ابراہیم کو منور اور معطر رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ حجر اسماعیل پر ایک فانوس نصب کرنے کے ساتھ اس کا بیرونی ڈھانچہ دھاتی مواد سے تیار کیا ہے۔ مقام ابراہیم کا اصل پتھر جنت کا ہے۔

ترمذی، احمد، حاکم اور ابن حبان کی روایت ہے کہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ”حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں، حق تعالیٰ نے ان کی روشنی مٹا دی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کردیتے۔“ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب حجر اسود اور مقام ابراہیم کی تعظیم کیا کرتے تھے۔

اچھی بات یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان دونوں کو بت نہیں بننے دیا، عربوں نے کبھی ان کی پوجا نہیں کی، خانہ کعبہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ حق تعالیٰ نے ان تینوں مقدس جگہوں کیلئے امت محمدیہ کیلئے شرک کی آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف رکھا۔ مقام ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانوں کی اصل ہیئت بدل گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ پتھر کھلا ہوا تھا۔ کثرت سے زائرین کا ہاتھ لگنے سے اس کے نقوش ماند پڑگئے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر جوتوں کے بغیر ننگے پیر کھڑے ہوتے ہوں گے، اس لئے کہ جوتوں کے بجائے پیروں کے نشان پڑے ہوئے ہیں۔ مسلم خلفاء اور سلاطین نے مقام ابراہیم کی بڑی خدمت کی۔ بعض نے اسے سیسے کی پلیٹوں سے بنی کرسی پر چسپاں کرایا، خلیفہ منتصر نے 241ھ میں سیسے کے بجائے چاندی کی پلیٹیں تیار کرائیں،آگے چل کر مقام ابراہیم کیلئے ایک کمرہ بنوایا گیا۔ 900ھ میں اسے از سرنوتعمیر کرایا گیا۔ عثمانی سلطان عبد العزیز نے گنبد کو ڈیڑھ میٹر اونچا کرادیا۔ پھر جب امیر سعود بن عبد العزیز آل سعود نے ساتواں حج کیا تو انہوں نے گنبد ختم کرا دیا۔

مزید پڑھیں: شاہ فیصل مسجد

عوام، مقام ابراہیم اور اس پر قدموں کے نشانات کھل کر دیکھنے لگے۔ حج، طواف اور نماز ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو محسوس کیا گیا کہ مسجد الحرام میں مقام ابراہیم کی وجہ سے نماز میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی نے اس سے متعلق جائزہ تیار کرایا اور شاہ فیصل کی خدمت میں پیش کردیا۔ تجویز کیا گیا تھا کہ مقام ابراہیم میں جو اضافے کرائے گئے ہیں، انہیں ختم کرادیا جائے اور اسے شیشے کے کیس میں رکھوا دیا جائے۔ ایسا کرنے سے جگہ میں اضافہ ہوگا اور اسی کے ساتھ ساتھ عوام الناس کا یہ عقیدہ بھی غلط ثابت ہوجائے گا کہ اس جگہ ابراہیم علیہ السلام کی قبر ہے۔

18 رجب 1387ھ کو مقام ابراہیم کو اعلیٰ درجے کے کرسٹل کے بنے ہوئے شوکیس میں رکھنے کی تقریب منعقد کی گئی، جس کی بدولت حرم شریف میں تقریباً 5 مربع میٹر کا رقبہ خالی ہوگیا۔ اب یہ 75سینٹی میٹر اونچے سنگ مرمر کے چبوترے پر رکھا ہوا ہے۔اس پتھر کا مجموعی وزن 1700 کلوگرام ہے، اس میں 600 کلوگرام چبوترے کا وزن ہے۔

(ضیاء چترالی)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *