واٹر بورڈ افسران نے "اپنے ہی گھر کو آگ لگا دی”، آفیسرز کلب مسمار کردیا گیا ،

واٹر بورڈ‌ کا آفیسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے کروڑوں روپے مالیت کا قائم کردہ آفیسرز کلب مسمار کردیا گیا ،دو روز مسلسل انہدامی کارروائی جاری رہی جس کے بعد کروڑوں روپے مالیت کا کلب گرایا جاسکا ہے .جب کہ دوسری جانب واٹر بورڈ کے افسران خود اپنی زمینوں پر قبضوں میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے وہاں پر قبضے ختم نہیں کرائے جاسکے .

واٹر بورڈ‌ کے شعبہ تعلقات عامہ کے افسر جن کی اپنی کوئی متعلقہ تعلیمی قابلیت نہیں ہے ، محمد رضوان حیدر کی جاری کردہ پریس ریلیز میں آفیسرز کلب اور اس کے ساتھ قائم گرینڈ مارکی کو گرانے کے عمل کو فتح کرنے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے ،پریس ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر واٹربورڈ آفیسر کلب اور اس میں قائم شادی ہال کے انہدام کی کارروائی بلاکسی وقفہ کے بدھ کو بھی جاری رہی، کلب میں قائم شادی ہال ”گرینڈکنونشن مارکیو “کومکمل منہدم جبکہ آفیسر ز کلب کا 75 فیصد حصہ مسمار کردیا گیا ہے، باقی ماندہ تعمیرات بھی تیزی سے منہدم کی جارہی ہیں.

افسران نے باہمی چپقلش میں ایک عمارت کو گرا کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایم ڈی واٹربورڈ اسدالللہ خان نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے واٹربورڈ نائنتھ مائلز کارساز کے دفاتر کے ساتھ قائم واٹربورڈ آفیسر زکلب اور اس میں ”گرینڈکنونشن مارکیو “کے نام سے قائم شادی ہال کو مسمار کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں. ان ہدایات پرعملدرآمد کرتے ہوئے واٹربورڈ کے ایگزیکٹیو انجینئر کے ڈی سول ون عمران عبداللہ اورچیف سیکورٹی آفیسر و ڈائریکٹر انفورسمنٹ تابش رضا حسنین نے واٹربورڈ کے عملے کے ساتھ آفیسرز کلب اور شادی ہال مسمار کرنے کیلے کارروائی کا فوری آغاز کردیا تھا .

انتظامیہ نے انتقامی جذبے کے تحت کارروائی کرتے ہوئے درختوں کو بھی ملیا میٹ کیا

انہدامی کارروائی بھاری مشینری کی مدد سے منگل کی درمیانی شب اور بدھ کو دن بھر جاری رہی ،بدھ کو کلب میں قائم شادی ہال ”گرینڈ کنونشن مارکیو “مکمل منہدم جبکہ آفیسر ز کلب کا 75 فیصد حصہ مسمار کردیا گیا ہے ،باقی ماندہ تعمیرات بھی تیزی سے منہدم کی جارہی ہیں، ایم ڈی واٹربورڈ اسداللہ خان نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب اور بدھ کی صبح انہدامی کارروائی کا معائنہ کیا تھا ۔

چند روز قبل یہی کلب شہر کے بہترین کلبوں میں شامل تھا

معلوم رہے کہ مذکورہ کلب ویلفیئر کی زمین پر قائم تھا جس میں افسران کی ایسوسی ایشن کے مطابق افسران کے لئے فلاحی و صحت مندانہ سرگرمیاں ہی جاری رکھی جاتی تھیں ، واٹر بورڈ‌ کے افسران کے پاس اچھی نشست ، افسران کے بچوں بچیوں کی شادی کی تقریبات ،برتھ ڈے ،نکاح و منگنی کی تقریبات کے علاوہ افسران کی الواداعی تقریبات بھی سستے داموں اس کلب میں منعقد ہوجاتی تھیں تاہم بعض افسران کی باہمی چپقلش کی وجہ سے موجودہ انتظامیہ جن میں قائم مقام ایم ڈی اسداللہ خان ،سید تابش رضا حسنین ، اسداللہ کے بھانجے عمران عبداللہ سمیت دیگر شامل ہیں ،انہوں نے عدالت میں بغیر دفاع کیئے اس معیاری نوعیت کے کلب کو گرا کر ہی سکھ کا سانس لیا ہے .

ہرے بھرے درختوں کے ساتھ بھی دشمنوں والا سلوک کیا جارہا ہے

حیرت انگیزطور پر واٹر جیسے ماحول دوست سمجھے جانے والے ادارے کے انتظامیہ نے کم از کم وہاں قائم درختوں ،پودوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے بجائے انہیں بھی منٹوں میں بلڈوزر کے آگے تہس نہس کرکے ماحول و انسان دشمنی کا ثبوت دیا ہے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *