اسلام سے پہلے کا ہندوستان

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

یہ سب بچے کہاں ہیں ؟ کوئی شورو غل نہیں مچا رہا۔۔۔نائلہ نے کہا ۔

اکیسویں صدی ہے ممکن ہے ہمارے عہد کے بچے تمیز دار ہو چکے ہوں ۔شمائلہ نے نائلہ کو جواب دیا۔

صدی کوئی بھی ہو بچے تو بچے ہی ہو تے ہیں میری بچیو! نانی جان نے اپنی دونوں بڑی نواسیوں سے مسکراتے ہوئے کہا ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اسی دوران تمام بچوں نے گھر میں داخل ہو تے ہوئے کہا ۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اوہو!!! تو بچوں کی یہ پوری جماعت ، باجماعت نماز پڑھنے مسجد گئی ہوئی تھی ۔نائلہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

جی جی ۔۔۔
میں اور تمام بچے وہیں لاؤنج میں بیٹھ گئے ۔

ہاں بھئی شہزاد ! آپ کے کچھ مزید سوالات تھے ؟ میں نے شہزاد کی طرف دیکھتے ہوئے ۔
نانا جان ! ہماری مس نے بتایا تھا کہ ہندوستان ، روم ، ایران ،یونان ،مصر اور عرب اپنے وقت کی بہت بڑی طاقتیں تھیں اور تہذیب یافتہ سمجھی جاتی تھیں ۔

میرے بچو! تمہیں ایک کہانی سُناتا ہوں ۔
کہانی ! سب بچوں نے ایک ساتھ کہا تو نائلہ اور شمائلہ بھی کہانی سننے کے اشتیاق میں وہیں صوفے پر ساتھ بیٹھ گئیں ۔
ہاں !کہانی ۔

ایک جنگل میں ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہا تھا ایک دن اسے خیال آیا کیوں نا وہ بادشاہ سے جا کر ملے ۔

گھر پہنچ کر اس نےاپنی بیوی سے کہا : نیک بخت ! میں چاہتا ہوں کہ بادشاہ سے ملاقات کروں ۔
بیوی نے کہا: یہ تو بہت اچھی بات ہے تم ملاقات کر لو ۔
اس آدمی نے کہا: لیکن نیک بخت ایک مسئلہ ہے ۔
بیوی نے پوچھا : کیا مسئلہ ہے ؟

اس آدمی نے کہا مسئلہ یہ ہے کہ بادشاہ کے پاس جاؤں تو کیا لے کر جاؤں ؟ کیونکہ خالی ہاتھ جانا تومناسب معلوم نہیں ہوتا۔
بیوی نے کہا : ہاں یہ تو ٹھیک ہے تو کوئی چیز لےجاؤ۔

اس نے کہا: یہ ہی تو مسئلہ ہے لے کر کیا جاؤں ،بادشاہ کے پاس تو ہر چیز موجود ہوتی ہے کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جو بادشاہ نے نہ دیکھی ہو کبھی استعمال نہ کی ہو وہ اس کو دیکھے اور استعمال کرے تو خوش ہوجائے ۔
بیوی نے کہا : یہ بھی ٹھیک ہے۔

اس آدمی نے کہا : نیک بخت !یہ بھی ٹھیک اور یہ بھی ٹھیک ہے یہاں تک تو سب ٹھیک ہے، پر لے کر کیا جاؤں یہ سمجھ نہیں آرہا۔

بیوی نے کہا : میرے سرتاج ! آپ ایسا کیجیے کہ ہمارے تالاب میں بارش کا جو ٹھنڈا اور میٹھا پانی جمع ہے اسے بادشاہ کے پاس تحفۃً لے جائیے ایسا میٹھا اور ٹھنڈا پانی تو پورے ملک میں کہیں نہیں ہو گا۔

آدمی نے سوچا : نیک بخت یہ تو،تونے اچھا مشورہ دیا میں کل ہی بادشاہ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو جاتا ہوں ۔
آدمی نے تالاب میں جمع بارش کے پانی سے گھڑا بھرا اور بادشاہ سے ملاقات کے لیے روانہ ہو گیا پرانا زمانہ تھا گھوڑے کا سفر تھا کئی دنوں کا سفر کرکے وہ بادشاہ کے محل کےپاس پہنچا اور دربانوں سے کہا وہ بہت دور سے آیا ہے اور بادشاہ کے لیے بہت قیمتی تحفہ لایا ہے ۔

تو کیا دربانوں نے اسے اندر جانے دیا۔دانش نے پوچھا
ہاں ہاں تو دربانوں نے بادشاہ سے اجازت لی اور اس شخص کو دربار میں جانے کی اجازت میں گئی ۔
اس نے بادشاہ سے کہا : بادشاہ سلامت ! میں آپ کے لیے دنیا کا بہترین اور میٹھا پانی لے کر حاضر ہوا ہوں ایساپانی جوپورے ملک میں کہیں نہیں ہے ۔

بادشاہ کے وزیر نے گھڑے پر سے کپڑا ہٹایا تو اسے ایک دم پانی میں بدبو محسوس ہو ئی ۔
وہ کیوں ؟دانش نے پوچھا ۔
ارے بھئی کئی دن کا پرانا اور تالاب کا پانی بدبو تو آئے گی نا ! کہانی سننے دو۔شہزاد نے کہا۔

میں نے دونوں بچوں کو مسکرا کر دیکھا اور کہا : ہاں تو بدبو کی وجہ سے وزیر نے ناک پر ہاتھ رکھ لیا اور رحم دل بادشاہ سمجھ گیا کہ غریب دیہاتی بارش کا پانی جمع کر کے لے آیا اس نے کیوں کہ میٹھا پانی کبھی پیا ہی نہیں وہ اسی کو سب سےزیادہ میٹھا پانی سمجھتا ہےبادشاہ نے انگلی کے اشارے سے وزیر کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور وزیر سے کہا: اس پانی کواس گھڑے سےنکال کر اس گھڑے کو ہیرے جواہرات سے بھر دو۔
حکم کی تعمیل ہوئی ۔

اس کے بعد بادشاہ نےوزیر سے کہا : جب یہ جانے لگے تو اس کو ان چشموں سے گزار کر لے جانا جہاں سے ہمارے محل میں میٹھا پانی آتا ہے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ ہم نے اس کا تحفہ پھر بھی قبول کر لیا۔
نانا جان سانس لینےکے لیے روکے تو دانش نےبے تابی سےپوچھا: پھر کیا ہوا؟

پھر یہ ہوا کہ واپسی پر جب اسے چشمے کا میٹھا اور ٹھنڈا پانی پلایا تو اسے اندازا ہو ا کہ بادشاہ کتنا اچھا آدمی تھا کہ اس نےا س کے حقیر تحفے کو قبول کر کے اسے انعام بھی دیا۔اس آدمی کے دل میں اپنے بادشاہ سے اور بھی محبت بڑھ گئی ۔
بالکل ایسے ہی ہندوستان ، ایران ، یونان ، مصر اور روم کی سلطنتیں اسلام سے قبل اپنے اپنے زمانے میں خود کواس دیہاتی کی طرح ہی سمجھتی تھیں ۔

سب ہی بچے مسکرا دئیے ۔

ابو ریحان البیرونی ایک مسلم محقق اور سائنسدان گزرے ہیں انہوں نے ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ طویل عرصہ گزارا ان کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ان کی زبان سیکھی اور ان کے علوم سیکھے انہیں ہندوستان کے بڑے بڑے دانشور علم البحر یعنی علم کا سمندر کہتے تھے ،وہ لکھتےہیں ۔

ہندو اپنی نسلی ،علمی اور سیاسی برتری کے گھمنڈ میں اس طرح مبتلا ہیں کہ کسی کوخاطر میں نہیں لاتے اگر ان کو بتایا جائے کہ فلاں ملک میں فلاں بہت بڑے عالم ہیں تو وہ ایساکہنے والوں کو جھٹلاتے ہیں اور یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہو تے کہ ان کے علاوہ بھی دنیا میں کوئی عالم اور دانشور ہو سکتا ہے۔

نانا جان ! ایک سوال ! طلحہ نے کہا ۔
ہاں بھئی بالکل سوال پوچھیے ۔

البیرونی کا تعلق تو ہندوستان سے تھا بھی نہیں پھر وہ البیرونی کو “بحرالعلم “یعنی علم کا سمندر کیوں کہتے تھے ۔
شروع شروع میں البیرونی ان کے نجومیوں کے درس میں جاتا اور شاگردوں کی طرح خاموشی سے بیٹھا رہتاجب البیرونی کو ان کی زبان پر مکمل عبور حاصل ہو گیا تو اس نے اپنے ان نجومی استادوں سے سوالات شروع کر دئیے ۔۔۔

وہ نجومی البیرونی کے سوالات کے جوابات نہیں دے پاتے ان کے اوپر البیرونی کا علمی رعب طاری ہو گیا او راسی سبب سے وہ البیرونی کو بحر العلم (علم کاسمندر )کہنے لگے ۔

ابتدائی زمانے میں ہندوستان کے لوگ بھی تو حید کے قائل تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں گمراہی بڑھتی چلی گئی۔
وہ کیسے ؟شہزاد نے پوچھا۔

جیسےسیدنابراہیم علیہ السلام نے توحید کی دعوت دی تھی لیکن عرب کے لوگوں نے ان تعلیمات کو بھلا دیا اور بیت اللہ شریف تک میں بت لا کر رکھ دئیے اسی طرح ہندوستان میں بھی ہوا اور توحید کی تعلیم میں شیطان اور اس کے چیلوں نے شرک کی غلاظت شامل کر دی اور یہ بھی کئی خداؤں کی عبادت کرنے لگے۔

اب آپ خود بتائیے جن پتھروں کو وہ اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہیں انہیں خدا بھی جانتے ہیں ۔وہ تہذیب یافتہ قوم ہو سکتی ہے ؟

لیکن نانا جان ! جب ہم یہ بات کرتے ہیں تو لبرل اور سیکولر یہ کہتے ہیں یہ تو ان کے مذہبی عقائد ہیں ۔۔۔شمائلہ نے گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے کہا ۔

ہاں بیٹا ! بالکل ! مذہب کا تو انسانی زندگی پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے اچھا ہم ان کی معاشرتی زندگی اور مذہبی تعلیمات دیکھیں تو ہم اور اچھے طریقے سے ان کی تہذیب کے بارے میں جان سکتے ہیں ۔
ہندوستان میں ذات پات کا نظام تو آج بھی نہیں سدھر سکا ان کے ہاں چار ذاتیں ہوتی ہیں معلوم ہیں آپ کو ؟ میں نے سوال کیا ۔

جی ہاں مجھے معلوم ہیں ۔ نائلہ نے کہا ۔

آپ کو کیسے معلوم ؟ طلحہ کو شاید جیلسی محسوس ہوئی کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اس کا ہی مطالعہ اچھا ہے۔
ہماری یونیورسٹی میں پروفیسر عدنا ن صاحب ہیں وہ اکثر ہمیں تاریخ کے بارے میں اور اقوامِ عالم کے بارے میں بتاتے ہیں اس بارے میں بھی انہوں نے ہی بتایا تھا ۔نائلہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ۔

ہاں تو پھر بتائیے ہندوؤں میں یہ چار ذاتیں کون سی ہیں ؟ میں نے سوال کیا ۔

ہندوؤں کی چار ذاتیں یہ ہیں ۔
برہمن
2 ۔کھشتری
ویش
شودر
ان میں سب سے بڑی ، معتبر اور مقدس ذات برہمن مانی جاتی ہے ہندوؤں کا کہنا ہے کہ برہمن ،برہما کے سر سے پیدا ہوئے ہیں دیوتاؤں کے چڑھاوے کے لیے یہ ہی مخصوص ہیں

کھشتری ملک کی حفاظت کے لیےہیں
ویش تجارت کے لیےہیں
اور شودر ان میں سب سے مظلوم طبقہ ہے جس کے لیے ہندو کہتے ہیں کہ یہ برہما کے پیروں سے پیدا ہوا ہے اور یہ صرف تینوں کی خدمت کے لیے ہے ۔۔ شودر ذات پر سب سے زیادہ ظلم کیےگئے ۔

واہ بھئی واہ ! مجھے تومعلوم ہی نہیں تھا میری نواسی کو بھی اتنی ساری معلومات ہیں ۔
لیکن نانا جان ! اتنی معلومات تو نہیں ہیں نا جتنی آپ کو ہے ۔۔۔نائلہ نے کہا ۔
بھئی عمر کے ساتھ ساتھ ہوجائےگی مگر آج کل کے بچوں کو تو یہ معلومات بھی نہیں ہوتیں ۔

نانا جان ! ویسے یہ ذات پات تو اچھی بات نہیں ہے ۔۔دانش نے کہا۔
اور قرآن نےتوبیان کیا ہے۔ طلحہ نے قرآں کریم کی آیت تلاوت کی ۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳)
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بےشک اللہ جاننے والا خبردار ہے ۔

بھئی شاباش ماشاء اللہ !

الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ کا بہت شکر اور احسان ہے اس نے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا ۔
ویسے نانا جان ! ان کا ذات پات کا نظام کیسا تھا؟ شہزاد نے پوچھا۔
اور یہ شودر پر کیا ظلم کرتے تھے ؟طلحہ نے سوال کیا ۔
باقی باتیں اب کل ۔۔۔ان شاء اللہ ۔

بچوں کے لیے ایسی کتابیں جن کی والدین کو ہمیشہ تلاش رہتی ہے

سنہری سیریز یعنی 6 کتابیں1500 روپے میں فری ہوم ڈیلیوری
ابھی آرڈر کیجیے03082462723 فہیم بھائی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *