کراچی کا سب سے بڑا K4 منصوبہ 4 برس بعد مکمل ہو گا ۔

 

کراچی : کراچی کے پانی کا میگا پروجیکٹ K-4 کا صرف سول ورک کی تعمیراتی لاگت 12.35 ارب سے بڑھ کر 25.551 ارب روپے تک پہنچ گیا،اور چیئر مین واپڈا نے K-4 منصوبہ کی نگران جنرل مینجر ساوتھ فرحت کمال کو تعینات کردیا ہے، وہ اپنی ٹیم بنائیں گے ۔

منصوبہ کی ارسال سے 1200 کیوسک پانی کوٹہ کی اجازت اور نئے کنسلٹنٹ کے ساتھ ٹھیکہ الاٹمنٹ میں ایک سال لگ سکتا ہے،منصوبہ کی تکمیل کی مدت چار سال لگایا گیا ہے اس طر ح کراچی میں K-4 سے پانی کی فراہمی 2025ء تک ممکن نہیں ہوگا، قومی اقتصادی کونسل کی ایگز یکٹو کمیٹی (ایکنک) نے فنڈز کی منظوری کے ساتھ ساتھ منصوبہ باقاعدہ اب واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی(واپڈا) کے سپرد کرنے کی منظوری بھی دیدیا ہے ۔

قبل ازیں وفاقی حکومت کی سینٹر ل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے بھی ایک ماہ قبل منظوری دیدیا تھاواضح رہے کے K-4 منصوبہ سے سندھ حکومت، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، کنسلٹنٹ عثمانی اینڈ کمپنی کے ساتھ ٹھیکہ دار ایف ڈبلیو او کے مابین ہونے والے تمام معاہدہ منسوخ ہوگیا منصوبہ پر اب تک آنے والی لاگت 11.85 ارب روپے ضائع ہونے کی تصدیق واپڈ ا حکام نے کر دی ہے۔

عثمانی اینڈ کمپنی نے پی سی ون اور پی سی ٹو، روٹس کی منظوری، 21 روٹس میں ردوبدل، تبدیلی ٹھیکہ دار کے معاہدہ میں بھی سنگین بے ضابطگیا کی تصدیق بھی کیا گیا ہے اور نہ ہی کنسلٹنٹ فرم بھی اتنے میگا پروجیکٹ کی ڈیزائن کے فرائض ادا کیا ہے فرم کی ناتجربہ کاری کے باعث حکومت کی خطیر رقم ضائع ہوا ہے، جرمن کی انٹریشنل کنسلٹنٹ فرم بھی جعلی ثابت ہوا ہے، 11 دسمبر 2014ء کو کنسلٹنٹ کو دیئے جانے والے منصوبہ جون 2018 میں مکمل ہونا تھا اب یہ منصوبہ 11 سال تاخیر سے مکمل ہو گا۔

واپڈا حکام کا کہنا تھا سول ورک میں 99 کلو میٹر اوپن کنال 28 کلو میٹر کنڈٹ کی تعمیر کا منصوبہ ہے اور 265 ملین گیلن پانی کے میگا پروجیکٹ K-4 میں دو پمپنگ اسٹیشن، دو فلٹر پلانٹ کے ساتھ ساتھ شہر میں پانی کا منصوبہ کے ساتھ ساتھ 35 میگا واٹ کا بجلی کا منصوبہ شامل ہیں ۔

ان میں پانی کی شہر میں تقسیم کا منصوبہ سندھ حکومت نے اپنے ذمہ لیا ہے اس کی تمام تر لاگت سندھ حکومت ادائیگی، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ کا منصوبہ بھی واپڈ ا کریں گی اور بجلی کا منصوبہ پبلک پارنٹر شپ یونٹس سندھ کے حوالے کیا گیا ہے واپڈ ا جلد کنسلٹنٹ اور ٹھیکہ کی پیشکش طلب کریں گا ۔

علاوہ ازیں پروجیکٹ ڈائریکٹر K-4 اسد ضامن نے منصوبہ کے ریکارڈ، مقدمات، ڈیزائن، نقشے جات، گاڑیوں اور دیگر قیمتی سامان کی فہرست مرتب کرلی ہے جلد ان کو واپڈا حکام کے حوالے کیا جائیگا ۔

اس منصوبہ کے تمام اخراجات اور پیٹرول ڈیزل سمیت دیگر امور پر پابندی عائد کردیا ہے صرف منصوبہ کے عمارت پروجیکٹ آفس کا فیصلہ نہ ہو سکا یہ زمین اور عمارت کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ملکیت آثاثہ ہے دلچسپ امر یہ کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر K-4 منصوبے میں تمام بدعنوانی، ناہلی، غفلت پر تحقیقاتی کمیشن اپنا کام کررہی ہے اس کی رپورٹ بھی دو ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ظاہر کیا جارہاہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *