حکومت متنازع اور غیر شرعی وقف املاک ایکٹ 2020 کو واپس لے : اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان

کراچی : اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کا ایک اہم اجلاس جامعہ اشرفیہ لاہور میں زیر صدرات مفتی منیب الرحمن سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان و صدر تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان بروز اتوار 25 جنوری 2021 ء کو منعقد ہوا ۔

اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے مولانا انوار الحق ،مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا فضل الرحیم، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان سے صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی ، مولانا ریحان امجد نعمانی ، رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان سے مولانا عبدالمالک ، ڈاکٹر عطاء الرحمن، مولانا سید قطب ، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان سے مولانا یاسین ظفر، پروفیسر عبدالستار حامد، حافظ محمد یونس عاجز اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان سے علامہ محمد افضل حیدری نے شرکت کی۔

مفتی منیب الرحمن اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا اور اس درمیانی عرصے میں جو پیش رفت ہوئی اور جو واقعات رونما ہوئے، ان کے بارے میں شرکائے اجلاس کو تفصیلات پیش کیں ۔ بعد ازاں شرکاء نے تمام زیرِ بحث امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور  اپنی اپنی آراء پیش کیں ، تفصیلی بحث کے بعد اتفاقِ رائے سے مندرجہ ذیل اعلامیے کی منظوری دی گئی ۔

مذید پڑھیں : سینکڑوں پرائمری اسکولوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا : رپورٹ

(۱) ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متنازع اور غیر شرعی وقف ایکٹ کو واپس لیا جائے، ورنہ برسبیلِ تنزّل اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے، قومی اسمبلی کے اسپیکر جناب اسد قیصر اس کا وعدہ کر چکے ہیں۔

(۲) محکمہئ اوقاف کی طرف سے بعض مساجد اور مدارس کو فارم بھیجے گئے ہیں، انہیں واپس لیا جائے، مدارس ومساجد کے منتظمین کو چاہیے کہ جب تک اتفاقِ رائے نہ ہوجائے، ایسے کسی پروفارمے کو پُر نہ کریں ۔

(۳) وفاقی وزارتِ تعلیم کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا، وہ قائم ہے، لیکن رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے سے پہلے حکومت کی طرف سے بعض اقدامات لیے جانے ناگزیر ہیں،جن کا ہمیں انتظار ہیں اور وہ اس معاہدے کی روح کے مطابق ہیں، اس دوران بالواسطہ طور پر حکومت کے ذمے داران کو اُن کے ان اقدامات کی معقولیت اور ضرورت سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے۔

(۴) دینی مدارس وجامعات میں مختلف ایجنسیوں کے افراد کی آمد اور مختلف پروفارمے پُر کرنے کے سلسلے کو موقوف کیا جائے، جب   اتفاقِ رائے سے تمام معاملات طے ہوجائیں گے، تو اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان خود مدارس سے کہے گی کہ وہ اس عمل کو شروع کریں ۔

مذید پڑھیں : مذہبی منافرت کے خاتمے کیلئے JUI کا کردار اہم رہا ہے : مولانا امجد خان

(۵) حکومت خود یہ استعداد نہیں رکھتی کہ ملک میں پیدا ہونے والے اور شعوری عمر میں داخل ہونے والے ہر بچے اور بچی کے لیے تعلیم لازمی قرار دیدے، تو ہر مدرسے کے بارے میں یہ کیسے فرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ اتنی استعداد اور وسائل کے حامل ہیں، اس عمل میں تدریج، حکمت اور مطلوبہ استعداد کو پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔

(۶) اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان اور اُس سے ملحق تنظیمات حکومت سے محاذ آرائی نہیں چاہتیں، ہم تفہیم وتفہّم سے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، تعاون پر بھی آمادہ ہیں، لیکن حکومت کو بھی حقائق کا ادراک ہونا چاہیے، جبر کے حربے اختیار کرنے کے بجائے رضا کارانہ طور پر معاملات کو حل کرنا حکومت، دینی مدارس وجامعات اور ملک و ملت کے مفاد میں ہے ۔

(۷) حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ حسبِ سابق جاری رکھا جائے گا، نیز حکومت کو یہ باور کرنا چاہیے کہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان اور ان تنظیمات سے ملحق دینی مدارس وجامعات کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، یہ تعلیمی ادارے ہیں اور اپنے اکیڈمک ایجنڈے تک محدود رہیں گے، البتہ بعض ناقابلِ قبول فیصلوں پر احتجاج سب کا آئینی، قانونی اور شرعی حق ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *