شاعر اہلبیتؓ ڈاکٹر ریحان اعظمی انتقال کر گئے

کراچی : بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی علالت کے باعث انتقال کر گئے ۔

اردو زبان کے معروف سخن ور، نوحہ و مرثیہ نگار عالمی شہرت یافتہ شاعر اہلبیتؑ ریحان عزاء ڈاکٹر ریحان اعظمی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔ ان کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغربین مرکزی امام بارگاہ جعفر طیار سے متصل مسجد میں ادا کی جائیگی ۔ مرحوم نے پسماندگان میں دو بیٹے، عزا دران سیدالشہداء سمیت پاکستان کے علم دوست، ادب کے چاہنے والوں اور اردو زبان کے صاحبان ذوق کو سوگوار اور اشکبار چھوڑا ہے ۔

ڈاکٹر ریحان اعظمی کی علمی و ادبی خدمات کا احاطہ فوری طور پر ممکن نہیں تاہم ان کے ادبی ترکے میں معروف کتب ہائے سخن جیسے چہاردہ معصومین کے قصائد کا مجموعے ”بارگاہ عقیدت“، ”تہذیب منقبت“،سہ جلدی سلسلہ وار کلام” ایک آنسو کربلا میں“ ، مجموعہ غزلیات”دے کر خیرات سخن ہم نے قلم توڑ دیا“ ۔ ”مجموعہ مراثی”نوائے منبر“،چار مصرعے،حریت فکر، لالو کھیتی کی ڈائری، منظوم صحیفہ کاملہ سمیت پی ٹی وی کے ہزارو ں نغمات بھی شامل ہیں ۔

ان کی متعدد کتب کو ہندی، گجراتی، سنسکرت، تامل، تلگو اور رومن زبانوں میں ترجمے کاشرف حاصل ہوا ۔ ڈاکٹر ریحان اعظمی 1956 میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے اور ادبی سفر کا آغاز 1974 میں کیا،دشت کی اس سیاحی میں سینکڑوں کی تعداد میں اعزازات اور اسناد حاصل کیں۔

مذید پڑھیں :مذہبی منافرت کے خاتمے کیلئے JUI کا کردار اہم رہا ہے : مولانا امجد خان

عہدحاضر کے معروف نوحہ خوانوں نے آپ کے سخن پر مبنی کلام کی ہزاروں کی تعداد میں آڈیو کیسٹس جاری کرکے اوج شہرت پرمقام پایا۔ ڈاکٹر ریحان اعظمی کا شمار پاکستان کے زود گو شعرائے کرام میں ہوتا تھا 1997 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ان کا نام سب سے زیادہ اشعارکہنے والے شعراء کی فہرست میں شامل تھا۔ 25 سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے چار ہزار سے زیادہ نغمات لکھے اور اپنی شہرت کی بلندی پر اپنی رومانوی شاعری کو خیر بادکہہ کر اپنے قلم کو غم اہلبیتؑ کیلئے وکف کر دیا ۔

انہوں نے نوحہ نگاری و مرثیہ میں نئے اسلوب متعارف کرائے آنے والے شعراء کیلئے سوچ کے نئے زاویے متعین کئے انکی موت سے پیدا ہونے والا خلا ع عرصے دراز تک پر نہیں ہو سکے گا ۔ نومبر 2018 آپ کے خواں سال بڑے بیٹے سلمان اعظمی کے انتقال نے بہت غمگین کیا۔جو کہ خود بھی کم عمری سے نوحہ نگاری میں مہارت رکھتے تھے، انہوں نے بھی اپنے والد کی طرح سینکڑوں نوحے مرتب کئے، جو ملک و بیرون ملک متعدد معروف نوحہ خوانوں نے مومنین کی خدمت میں پیش کئے ۔

ڈاکٹر صاحب ادبی اور صحافتی خدمات کے علاوہ پیشہ ورانہ حیثیت سے گروپ آف علی علی اسکولزمیں بطور مدرس سربراہ شعبہ اردو رہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی نے ملک کے عالمی شہرت یافتہ نامور ادیب، مصنف و شاعر ڈاکٹر ریحان اعظمی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے علم و ادب کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ریحان اعظمی سرمایہ ملت تھے۔ ان کے انتقال پر پوری قوم سوگوار ہے۔

مذید پڑھیں :سندھ مدرسہ کے اساتذہ نے تحریک چلانے کا اعلان کر دیا

پاکستانی شعراء میں ریحان اعظمی وہ قدآور شخصیت تھے جنہوں نے مدح اہلبیت ع میں سب سے زیادہ لکھا۔ وطن عزیز میں مرثیہ و نوحوں کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ان کی ساری زندگی مدح اہلبیت اطہار علیہم السلام میں بسر ہوئی۔ ان کے تخلیق کردہ نوحوں، مرثیوں،۔منقبت اور شاعری کی بین الااقوامی سطح پر پذیرائی ان کے غیر معمولی علمی و ادبی شخصیت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ان جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ۔

وہ اپنے منفرد اسلوب کیسبب علمی و ادبی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی بلندی درجات اور پسماندگان کے صبر کی دعا کی ہے۔دریں اثناء ڈاکٹر ریحان اعظمی کی نماز جنازہ بعد نماز مغربین مرکزی مسجد و امام بارگاہ جعفر طیار سو سائٹی میں ادا کی گئی جس سیاسی ومذہبی،سماجی شخصیات سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک ہوئی اور مرحوم کی علمی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *