درویش صفت اور بزرگ صحافی قاضی سراج سے ملاقات

ملاقات : اسرار ایوبی

ماہر سماجی تحفظ

اگرچہ قومی اخبارات میں سیاست، بزنس،فلم ٹی وی اور اسپورٹس کی خبروں سمیت دیگر شعبوں کے لئے رپورٹرز اور صفحات مختص کئے گئے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ملک کے پیداواری عمل اور ترقی و ترویج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل پانچ کروڑ سے زائد کاشت کاروں، مزدوروں، محنت کشوں اور تنخواہ دار ملازمین کی سرگرمیوں اور انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے کسی بھی قومی اخبار و جرائد کے پاس کوئی علیحدہ لیبر رپورٹر اور صفحہ مختص نہیں ہے ۔

یہ لاکھوں محنت کشوں پر مشتمل ایک ایسا مظلوم اور مجبور طبقہ ہے جسے ملک کی تعمیر اورترقی کے لئے اپنا نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود قومی ذرائع ابلاغ کی غیر منطقی پالیسیوں کے باعث بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ جس کے باعث اس مظلوم طبقہ کو ملک بھر میں صنعتوں، کارخانوں، کاروباری اور تجارتی اداروں میں بدترین استحصال، بدترین غلامی اور بیگاری کا سامنا ہے ۔

جن میں ملکی قوانین کے تحت ملازمت کے لئے تقررناموں کا جراء، حکومت پاکستان اور عالمی ادارہ محنت (ILO) کے تسلیم شدہ 8 گھنٹے کے اوقات کار، قلیل اجرتوں، اوور ٹائم، کام کی جگہ پر مزدور کی صحت اور زندگی کے لئے حفاظتی اقدامات، علاج و معالجہ، بچوں کی تعلیم، ہفتہ واری رخصت اور ملازمت سے سبکدوشی کے بعد پنشن جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں۔ جس کا واضح ثبوت صنعتی اداروں، کارخانوں، کوئلہ کی کانوں، کاروباری اور تجارتی دفاتر کی عمارتوں میں آئے دن رونما ہونے والے آتشزدگی، بوائلر پھٹ جانے، کان بیٹھ جانے، کیمیاوی ٹنکیوں میں مزدوروں کے ڈوبنے جیسے روح فرساء واقعات قومی ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ لیکن قومی رحجان یہ ہے کہ محنت کشوں کے ساتھ سنگین سے سنگین حادثات پر وقت گزر جانے کے بعد انہیں فراموش کر کے کسی نئے واقعہ کا انتظار کیا جاتا ہے ۔

ایسے میں روزنامہ جسارت کراچی زبردست خراج تحسین کا مستحق ہے۔ جس کے زیر اہتمام قاضی سراج کی ادارت میں ہر پیر کے دن بلا ناغہ اور نہایت باقاعدگی سے شائع ہونے والا صفحہ محنت کش وطن عزیز کے محنت کشوں کی سرگرمیوں اور انہیں درپیش مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنا منفرد اور یکتا مقام رکھتا ہے ۔

مذید پڑھیں :ہراساں کرنے کے واقع کا نوٹس لےلیا۔

صفحہ محنت کش کے روح رواں، محنت کشوں کی دنیا میں قاضی سراج کے نام سے معروف لیکن اس بے لوث مزدور دوست اور سچے صحافی کا پورا نام سراج العابدین ہے ۔ جن کا صحافت سے تعلق صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک طرح کا جنون ہے۔ جو گزشتہ تین دہائیوں سے کسی صلہ اور ستائش کی تمناء کئے بغیر اپنے محدود وسائل اور سہولیات کے بغیر وطن عزیز کے لاکھوں مظلوم محنت کشوں کی ترجمانی میں مصروف ہیں ۔

قاضی سراج نے 1948ء میں برصغیر کے تاریخی اور علمی شہر علی گڑھ (ہندوستان) کے ایک معزز خاندان میں جنم لیا۔ ان کے والد محترم محکمہ پولیس میں کانسٹبل کے طور سے ملازمت کرتے تھے اور ایک مذہبی اور دیانتدار انسان تھے۔ قاضی سراج نے پرائمری تا نویں جماعت تک منٹو سرکل ہائی اسکول علی گڑھ شہر میں تعلیم حاصل کی اور 1964ء میں والد صاحب کی وفات کے بعد پیدا ہونے ہونے والے مسائل کے پیش نظر پاکستان میں مقیم ان کے ماموں نے ان کے اہل خانہ کو پاکستان بلا لیا تھا ۔

جہاں انہوں نے پاکستان کوارٹرز میں اپنے ماموں کے گھر قیام کیا اور نامساعد حالات میں اپنے تعلیمی سلسلہ کا دوبارہ آغاز کیا اور 1966ء میں شہر کے نامور تعلیمی ادارہ گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول، کوتوال بلڈنگ بابائے اردو روڈ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ بعد ازاں گورنمنٹ سٹی کالج ناظم آباد سے انٹر میڈیٹ اور 1971ء میں جناح پولی ٹیکنیک سنٹر سے میکینیکل کے شعبہ میں ڈپلومہ امتحان پاس کیا۔ اس دوران فنی اور نصابی تعلیم کے باوجود عرصہ دو برس تک نوکری کی تلاش میں سرگرداں رہے ۔

بالآخر ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں انہیں 1974ء میں پاکستان مشین ٹول فیکٹری میں آپریٹر کی ملازمت مل گئی، لیکن یہاں دو ماہ کے مختصر عرصہ کام کرنے کے بعد انہیں خوش قسمتی سے جہاز سازی کے قومی کارخانہ کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس(KS&EW) ویسٹ وہارف کراچی میں ٹیکنیکل اسسٹنٹ کے عہدہ پر ملازمت مل گئی ۔

ٍ اس دور میں کراچی شپ یارڈ میں سینکڑوں کارکنان ملازمت کیا کرتے تھے۔ چونکہ قاضی سراج کی ذات میں محنت کشوں کی بے لوث خدمت اور انسانیت سے ہمدردی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ لہذاء جلد ہی کراچی شپ یارڈ کے محنت کشوں کے لئے جذبہ خدمت اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لئے انہوں نے ادارہ کی ٹریڈ یونین تحریک میں شمولیت اختیار کر لی ۔

اگرچہ انہیں یونین میں خزانچی کا عہدیدار منتخب کیا گیا تھا لیکن اپنے ذوق مطالعہ، اخبارات بینی اور لکھنے پڑھنے کے شوق کے باعث قاضی سراج جلد ہی یونین کے لئے پبلسٹی سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دینے لگے اور اس دوران بڑی بھاگ دوڑ کرکے اخبارات و جرائد میں نہایت باقاعدگی سے یونین کی سرگرمیوں اور کراچی شپ یارڈ کے مزدوروں کے مسائل پر مبنی پریس ریلیز، خبریں اور رپورٹیں شائع کرایا کرتے تھے ۔

مذید پڑھیں :خواجہ سراوں کے تحفظ، حقوق ایکٹ کے رولز 2020 عدالت میں جمع

ملازمتی مصروفیات اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے باوجود قاضی سراج نے دوران ملازمت اپنی اعلیٰ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم جاری رکھتے ہوئے اپنے پسندیدہ شعبہ صحافت میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی محنت اور سخت جدوجہد کی بدولت 1983ء میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو سے میکینیکل کے شعبہ میں بی ٹیک آنرز اور 1985ء میں جامعہ کراچی سے پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے ایم اے صحافت کی ڈگری بھی حاصل کی ۔

چونکہ کراچی شپ یارڈ کی ٹریڈیونین سرگرمیوں اور محنت کشوں کے مسائل کی خبروں اور رپورٹوں کی قومی اخبارات میں اشاعت کے لئے انہیں پریس ریلیز تیار کر کے اور فوٹو کاپیاں کرا کے مختلف اخبارات کے دفاتر میں ان کی باقاعدہ آمد ورفت رہا کرتی تھی ۔ چنانچہ قاضی سراج کے شعبہ صحافت سے گہرے لگاؤ اور ٹریڈ یونین تحریک میں بیش بہاتجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے 1991ء میں روزنامہ جسارت کراچی کی جانب سے قاضی سراج کو محنت کشوں کی خبروں کے لئے مختص صفحہ محنت کش مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی، جو انہوں نے بصد اعزاز قبول کر لی ۔

قاضی سراج کراچی شپ یارڈ کے محنت کشوں کے مسائل اور ٹریڈ یونین کے مقاصد سے اس قدر سچا لگاؤ تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کی اعلیٰ تعلیمی اور فنی قابلیت اور سینیاریٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں دو بار سپروائزر کے عہدہ پر ترقی کے لئے پیشکشیں کی گئیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ قاضی سراج نے محنت کشوں کے عظیم ترمفاد میں اپنا ملازمتی کیریئر قربان کرتے ہوئے دو بار اپنی جائز ترقی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ جو ان کی شخصیت کا محنت کشوں کی بے لوث خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قاضی سراج 1995ء تک کراچی شپ یارڈ کی ٹریڈ یونین تحریک کا سرگرم حصہ رہے ۔ بعد ازاں 1995ء میں قاضی سراج کو چار و ناچار کراچی شپ یارڈ میں سپروائزر کے عہدہ پر ترقی کو قبول ہی کرنا پڑا اور وہ 2000ء تک اس کارخانہ میں سپروائزر کی حیثیت سے بحسن و خوبی خدمات انجام دیتے رہے ۔

مذید پڑھیں :تحریک عدم اعتماد کا مشورہ اور سیاسی ہلچل !!

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کراچی شپ یارڈ میں ناساز گار ملازمتی حالات اور تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی اور دیگر مسائل کے پیش نظر انہوں نے 2001ء میں اس کارخانہ سے اپنی طویل وابستگی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا اور انہیں اپنی ملازمت کے خاتمہ کے لئے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کی انتظامیہ سے سنہری مصافحہ (Golden Hand shake) کرنا پڑا ۔ قاضی سراج کراچی شپ یارڈ میں دوران ملازمت ا ی او بی آئی کے بیمہ دار فرد تھے، لہذاء آپ کا فی عرصہ سے ای او بی آئی کے پنشن یافتہ بھی ہیں۔ کراچی شپ یارڈ سے ملازمت کے اختتام کے بعد قاضی سراج نے خود کو مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے مکمل طور پروقف کر دیا اور کل وقتی طور سے نئے جذبہ اور توانائی سے محنت کشوں کی صحافت میں بھرپور انداز سے کام کا آغاز کر دیا ۔

73 سالہ قاضی سراج کا برسوں سے یہ معمول ہے کہ وہ اس پیرانہ سالی اور چلنے پھرنے میں مشکلات اور شہر کی ایک دور دراز مضافاتی بستی میں رہائش کے باوجود سے بے لوث انداز میں کسی ذاتی سواری کے بغیر پبلک ٹرانسپورٹ یا کسی مہربان موٹر سائیکل سوار کی مدد سے کراچی شہر کے مختلف صنعتی علاقوں سائٹ، کورنگی، لانڈھی، شمالی کراچی، پاکستان اسٹیل ملز، شپ بریکنگ یارڈ گڈانی اور حب(ضلع لسبیلہ) میں قائم صنعتی اداروں اور کارخانوں اور دیگر اداروں کا دورہ کرکے وہاں خدمات انجام دینے والے محنت کشوں کی اجرتوں، حالات کار، درپیش مسائل اور سہولیات کے متعلق معلومات اور آگہی اور انٹرویو کر کے اسے اپنے اخبار کے صفحہ محنت کی زینت بنا کر ان مسائل کو ارباب اختیار اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اسی طرح قاضی سراج وقتا فوقتا محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لئے قائم وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اداروں ای او بی آئی (EOBI)، ورکرز ویلفیئر بورڈ، ادارہ سماجی تحفظ (SEESI)، صنعتی تعلقات کے قومی کمیشن (NIRC) محکمہ محنت و ترقی انسانی وسائل کے دفاتر اور مزدور عدالتوں کا دورہ کر کے محنت کشوں کے حالات کار، انہیں میسر سرکاری سہولیات، مسائل اور زیر سماعت مقدمات سے آ گہی اور معلومات حاصل کر کے ان کی رپورٹیں اپنے صفحہ محنت کش کی زینت بناتے ہیں ۔

قاضی سراج کا کہنا ہے کہ روزنامہ جسارت کی پالیسی صفحہ محنت کش پر محنت کش طبقہ کی بلا امتیاز خبریں شائع کرنا ہے ۔ لہذاء اسی پالیسی کے پیش نظرہمارا صفحہ محنت کش ملک بھر کے دائیں اور بائیں بازو کے علمبردار تمام محنت کشوں میں یکساں مقبول ہے۔ دراصل مزدور تحریک میں دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاح بے مقصد معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ ہماری رائے میں وطن عزیز کا مزدور صرف مزدور ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق سے بری طرح محروم ہے ۔

مذید پڑھیں :شوہر نے بیوی اور بیٹی کو تیز دھار آلہ سے قتل کر دیا

انہوں نے محنت کش طبقہ کی زبوں حالی کا ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور آجر برادری کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ملک میں محنت کشوں کے لئے مجموعی طور پر ملازمتی قوانین تشکیل شدہ ہیں اوراس طبقہ کی فلاح و بہبود کے لئے متعدد قومی اور صوبائی سطح کے ادارے بھی قائم ہیں ۔ لیکن حکومت کی عدم دلچسپی اور آجروں کی جانب سے ان قوانین پر عملدرآمد نہ کئے جانے کے باعث محنت کشوں کی بڑی تعداد اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے ۔ دوسری جانب اگرچہ ملک میں قومی سطح پر محنت کشوں کے حقوق کی علمبردار بے شمار مزدور فیڈریشنز اور ٹریڈ یونینز سرگرم عمل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ملک کی کروڑوں آبادی پر مشتمل محنت کش طبقہ کی ا یک بڑی تعداداپنے بنیادی حقوق سے محرومی ایک سوالیہ نشان ہے ۔

صنعتوں میں خدمات انجام دینے والے کارکنان قلیل اجرتوں، طویل اوقات کار، صحت و حفاظت، آمدورفت کے مسائل اور دن بدن بڑھتی مہنگائی اور اہل خانہ کی کفالت کے لئے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ذاتی الجھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان میں محنت کش طبقہ کو درپیش مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے آپس میں رابطوں کا زبردست فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے آج کا مزدور اپنی ذات کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر انہیں اپنے ذاتی مسائل سے نجات ملے تو وہ دوسرے کارکنوں سے رابطے قائم کر کے مشترکہ جدوجہد میں شرکت کر سکتے ہیں ۔ قاضی سراج کا کہنا ہے کہ ہمارا ملک کی محنت کش برادری سے یہ عہد ہے کہ جہاں جہاں مزدوروں کا استحصال اور ان پر ظلم ہو گا ۔ ان شاء اللہ روزنامہ جسارت وہاں محنت کشوں کے حقوق کی پاسداری میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا ۔

قاضی سراج نے ملک کے محنت کش طبقہ کو درپیش مسائل اجاگر کرنے کیے لئے جسارت لیبر فورم کی بنیاد بھی ڈالی ہے۔ جس کے تحت شعبہ محنت کے محکموں کے اعلیٰ افسران، مزدور رہنماؤں اورمحنت کشوں کو ایک میز پر جمع کر کے انہیں آپس میں مکالمہ اور سوالات و جوابات کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح قاضی سراج کی انتھک کوششوں سے جسارت لیبر فورم کے تحت مسائل کا شکار مظلوم محنت کشوں کی قانونی رہنمائی اور انہیں سستی قانونی امداد فراہم کرنے کی غرض سے مزدور قوانین کے ممتاز وکلاء ملک محمد رفیق ایڈوکیٹ، جناب رفیع اللہ ایڈوکیٹ (اب مرحوم) اور ایم اے کے عظمتی ایڈوکیٹ (اب مرحوم)اور شعاع النبی ایڈوکیٹ کے قانونی لیکچرز کا بھی اہتمام کیا جاتا رہا ہے ۔

جسارت لیبر فورم کے تحت اب تک شعبہ محنت کے متعلق بے شمار موضوعات پر پروگرام منعقد ہو چکے ہیں اور قاضی سراج کراچی کے علاوہ 1995 میں صوبہ پنجاب کا پندرہ روزہ دورہ کر کے ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات اور فیصل آباد کے صنعتی علاقوں میں بھی کامیاب پروگرام منعقد کر چکے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے مظلوم محنت کشوں کی فلاح و بہبود میں کوشاں بزرگ صحافی قاضی سراج کو خرابی صحت، وسائل کی کمی،مختلف رکاوٹوں اور بار ہا آزمائشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے پایہ استقامت میں کبھی ذراسی بھی لغزش نہیں آئی۔

مذید پڑھیں :چنیوٹ:چناب نگر میں حادثات میں دو خواتین سمیت 3افراد جاں بحق

سال 2001ء کا ذکر ہے کہ کراچی پریس کلب کے سامنے ایک صنعتی ادارہ سندھ الکلیز لمیٹیڈکے محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مسائل کے حل کے لئے مظاہرہ کرنے میں مصروف تھی اور حکومت نے مظاہرین سے نمٹنے کے لئے اس علاقہ کو حساس علاقہ قرار دے کر دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی۔ لیکن محنت کشوں کے مسائل میں گہری دلچسپی اور ان کے مطالبات سے ہمدردی کے باعث قاضی سراج بھی شانہ بشانہ مظاہرین کی صف میں شامل تھے ۔ لہذاء پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے زبردست لاٹھی چارج کیا اور دیگر محنت کشوں کے ساتھ ساتھ قاضی سراج اور ملک محمد رفیق ایڈوکیٹ کو بھی حراست میں لے کر آرٹیلری میدان تھانہ کی حوالات میں بند کر دیا ۔

جہاں آپ محنت کشوں کے ساتھ تقریبا 8 گھنٹے تک پولیس حوالات میں بند رہے اور بالآخر امیر جماعت اسلامی کراچی نعمت اللہ خان کی جانب سے شخصی ضمانت پر رہا ہوئے ۔ لیکن دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا یہ مقدمہ ایک برس تک عدالت میں چلتا رہا اور قاضی سراج مزدورں کی ہمدردی کی سزا کے طور پر پیشیوں پر پیشیاں بگھتتے رہے اور پھر بالآخر ایک برس بعد بریت کے ذریعہ خلاصی پائی ۔ قاضی سراج کو اپنی طویل صحافتی زندگی میں کئی جان لیوا حادثات سے گزرنا پڑا۔ چونکہ وہ نہ تو موٹر سائیکل چلانا جانتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ذاتی سواری ہے۔ لہذاء بعض اوقات مہربان دوستوں سے لفٹ لے کر پرگراموں، تقریبات میں شرکت کرتے ہین اور دفتر جسارت جاتے ہیں ۔

اس دوران وہ کئی بارچلتی موٹر سا ئیکلوں سے گر کر زخمی بھی ہو چکے ہیں اور اب وہ ان پے درپہ حادثات کے باعث اس قدر خوف زدہ ہو گئے ہیں کہ جب کبھی کسی موٹر سائیکل سوار کے پیچھے بیٹھتے ہیں تو غیر ارادی طور پر برابر سے گزرنے والی سواری سے بار بار اپنے گھٹنوں کو بچاتے ہیں کہ کہیں کسی گزرتی گاڑی سے ان کے گھٹنے نہ ٹکرا جائیں ۔

اسی طرح سال 2008ء کا ایک درناک قصہ ہے کہ قاضی سراج دفتر روزنامہ جسارت میں اپنا صفحہ محنت کش ترتیب دے کر شب 11 بجے کراچی کی مشہور زمانہ پبلک ویگن W-11 کے ذریعہ اپنے گھر جارہے تھے۔ کراچی کے لوگ بخوبی واقف ہیں کہ ویگن W-11 کا عملہ مسافروں سے دھونس و بدتمیزی، گاڑیوں میں بلند آواز میں گانے بجانے اورگاڑیوں کی اندھا دھند ریس لگانے کتنا بدنام ہے۔ ان گاڑیوں میں دوران سفر اس قدر بلند آواز میں گانے بجائے جاتے ہیں کہ مسافروں کے کان پھٹ جائیں۔ لیکن مسافروں کے احتجاج کے باوجود اس ویگن کے کنڈکٹر اور ڈرائیوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ قاضی سراج نے ویگن ڈرائیور کو بے ہنگم گانوں کاشور شرابہ ختم کرنے اور مسافروں کے سکون کے لئے بار ہا گانے بند کرنے کا کہا لیکن وہ اپنی ضد سے باز نہیں آیا اور ان سے الجھنے لگا ۔

مذید پڑھیں :سربراہ قادریہ عالمیہ یونیورسٹی نیک آباد مراڑیاں شریف ریحانہ کوثر قادری انتقال کرگئیں

کریم آباد کے بس اسٹاپ پر قاضی سراج احتجاجا ویگن سے اتر کر عملہ کی شکایت کرنے کے لئے ٹریفک پولیس کی چوکی جانب بڑھے ہی تھے کہ اچانک شقی القلب اور سفاک ڈرائیور نے غصہ کے عالم میں ان پر اپنی گاڑی چڑھا کر انہیں روندھنے کی کوشش کی ۔ جس کے باعث قاضی سراج ویگن کی زور دار ٹکر سے سڑک پر گر گئے اور آنا فانا گاڑی کے نیچے آ گئے ۔

اسی اثناء میں شور شرابے پر لوگ جمع ہو گئے اور انہیں سخت زخمی حالت میں گاڑی کے نیچے سے نکالا گیا اوراس دوران پولیس بھی موقعہ پر پہنچ گئی۔ قاضی سراج کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا۔ اس حادثہ میں قاضی سراج کے بائیں پاؤں کی پنڈلی اور ٹخنہ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور ویگن کے پہیوں کے نیچے کچلے جانے کے باعث ان کا دایاں ہاتھ بری طرح متاثر ہو اتھا جو کافی علاج و معالجہ اور پلاسٹک سرجری کے باوجود آج تک ناکارہ ہے۔

اسپتال میں کافی عرصہ زیر علاج رہنے اور متعدد آپریشنز سے گزرنے اور دائیں ہاتھ کی پلاسٹک سرجری کے بعد ہی قاضی سراج کافی عرصہ بعد صحت یاب تو ہو گئے لیکن اس حادثہ نے ان کے جسمانی اعضاء کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس دوران پولیس نے روائتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظالم ڈرائیور سے جوڑتوڑ کر کے اسے چھوڑ دیا ۔ لیکن اس ظالم اور سفاک ڈرائیور کی جانب سے جان لیوا حرکت کے باعث درویش صفت بزرگ صحافی قاضی سراج کا بڑی جراءت اور بیباکی سے محنت کشوں کے مسائل اجاگر کرنے والا قلم بردار دایاں ہاتھ تقریبا مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور اب وہ اپنے دائیں ہاتھ سے بمشکل قلم پکڑ پاتے ہیں۔

لیکن ان تمام آزمائشوں اور حوادث کے باوجود قاضی سراج بر صغیر کے عظیم المرتبت اور درویش صفت صحافی مولانا حسرت موہانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں اور مزدور صحافت کو اپنے خون سے سینچنے میں مصروف ہیں ۔ اس مادہ پرستی کے دور میں وہ آج بھی حسب معمول اپنا قلم سنبھالے ایک ہمدرد مزدور صحافی کی حیثیت سے مظلوم محنت کشوں کی خدمت کے لئے شب و روز کوشاں ہیں اور اپنے ہفت روزہ صفحہ محنت کش کے ذریعہ وطن عزیز کے اس کمزور اور مظلوم طبقہ کے مسائل کو ارباب اختیار اور ایوانوں تک پہنچانے میں شب و روز مصروف رہتے ہیں۔

اگرچہ ڈاکٹروں نے قاضی سراج کو گھٹنے میں تکلیف کے باعث زیادہ چلنے پھرنے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر اور موٹر سائیکل پر بیٹھنے سے منع کیا ہے اور اسی طرح ان کی قوت سماعت بھی متاثر ہوئی ہے ۔ لیکن اپنے سفر حیات کی سات دہائیاں گزارنے کے باوجود درویش صفت اور بزرگ صحافی قاضی سراج آج بھی انتہائی سادہ لباس میں ملبوس، سر پر سفید ٹوپی اور ہاتھ میں کاغذات کے پلندوں سے بھرے کپڑے کا تھیلہ اٹھائے جگہ جگہ محنت کشوں کے اجتماعات، مظاہروں اور تقریبات کی کوریج کرتے نظر آتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :سکرنڈ میں زمین ہتھیانے کیلئے بچہ اغوا

قاضی سراج اب کچھ عرصہ سے اسمارٹ فون کا استعمال کر نے لگے ہیں جس کی بدولت انہیں ملک بھر سے محنت کشوں کی سرگرمیوں، خبروں کے حصول اور محنت کشوں سے فوری رابطوں میں بیحد آسانی پیدا ہو گئی ہے۔ قاضی سراج کا کہنا ہے کہ الحمد للہ میں نے ساری زندگی کوئی ذاتی مفاد حاصل نہیں کیا۔محنت کشوں کے حقوق کے لئے اپنے قلم کے ذریعہ صدا بلند کرنا میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ کیونکہ مزدور کو اللہ کا دوست قرار دیا گیا ہے۔

لہذاء مزدورو طبقہ کے لئے جدوجہد میرے لئے ایک عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ میرے 30 برسوں پر محیط صحافتی سفر کے دوران بے شمار مسائل، آزمائشوں اور جان لیوا حادثات کا سامنا کرنے کے باوجود آج بھی مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے میدان عمل میں سرگرم رہنا صرف اور صرف مزدوروں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

قاضی سراج کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ وطن عزیز کی مزدور تحریک کی نشوو نماء اور آبیاری میں نمایاں کردار ادا کرنیوالے محنت کشوں کے قائدین کی ایک طویل فہرست ہے۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر بابائے مزدور پروفیسر محمد شفیع ملک، شعبہ محنت کی قد آور شخصیات جناب نبی احمد مرحوم، ایس پی لودھی مرحوم اور سلیم رضا مرحوم کی شخصیات اور ان کی محنت کشوں کے لئے مثالی خدمات نے بیحد متاثر کیا ہے۔

قاضی سراج دو سعادت مند اور باصلاحیت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبزادوں کے والد محترم ہیں۔ ان کے بڑے صاحبزادہ محمد وہاج چارٹرڈ اکاؤٹنسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور چھوٹے صاحبزادہ محمد معاذ ایم بی اے، ماہر ای ، کامرس، قلم کار اور اپنے یوٹیوب چینل پرپرسنل اور پیشہ ورانہ ترقی کے موضوعات پر ماہرین سے گفتگو کرتے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *