دیامر JUI کی DC چوک سے ریسٹ ہائوس تک اسرائیل نامنظور ریلی

گلگت : جمعیت علماء اسلام ضلع دیامر کی جانب سے ڈی سی چوک سے ریسٹ ہاؤس تک اسرائیل نامنظور ریلی نکالی گئی ۔ جس کی صدارت صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری بشیر احمد قریشی نے کی ۔

ریلی میں شرکا نے اسرائیل اور حکومت کے خلاف منظم نعرہ بازی کی ۔ ریلی میں بڑی تعداد میں عوام اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی ۔ دوران ریلی اسرائیل نامنظور ، اسرائیل مردہ باد کے ترانے بجائے گئے ۔

ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام ضلع دیامر کے جنرل سیکرٹری بشیر احمد قریشی نے کہا کہ اسرائیل غاصب ملک ہے جس نے فلسطینی مسلمانوں کی زمین پر زبردستی قبضہ جمایا ہوا ہے اور بیت المقدس سے مسلمانوں کا عقیدہ وابسطہ ہے اور جب تک بیت المقدس اور یروشلم کو آزادی نہیں ملتی کسی کے مائی کے لال میں جرات نہیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر سکے ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ سیلیکٹڈ حکومت کو اسی ایجنڈے کے تحت ملک پر مسلط کیا گیا ہے لیکن پاکستان کے غیور عوام اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پاکستان محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اسرائیل مسلمانوں کے دل پر خنجر چلا کر بنایا گیا ہے جسے پاکستان کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا ۔

مذید پڑھیں :عدالتی حکم پر کاغان کوآپریٹو سوسائٹی کیخلاف انکوائری معطل

بشیر احمد قریشی نے کہا کہ چند سالوں سے جیل میں بند قادیانی گستاخ قرآن عبدالشکور نامی شخص کو موجودہ حکومت نے آتے ہی رہا کردیا اور اس گستاخ کو سہولت کاری کے ذریعے امریکہ پہنچایا گیا جہاں وہ صدر ٹرمپ سے مل کر پاکستان پر چڑھائی کی بات کرتے ہیں اور آپ کو بخوبی علم ہے کہ قادیانیوں کے پست پر اسرائیل کھڑا ہے ، 1974 میں جب پاکستانی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تو قادیانیوں نے پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور پھر اسرائیل نے ان کی پشت پناہی کی آج اسرائیل کی فوج میں بڑی تعداد میں قادیانی موجود ہیں جو ہمہ وقت پاکستان سے بدلہ لینے کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ستر سالوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان کے اندر اسلام آباد میں ایک شخص حکومت کے ناک کے نیچے کیمپ لگا کر سترہ دنوں تک اسرائیل تسلیم کرنے کے لئے آواز اٹھاتا رہا ، پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی عاصمہ قدیر قومی اسمبلی میں کھڑی ہوکر اسرائیل کی وکالت کی جرات کرتی ہے اور باز ریٹائرڈ جنرلز ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر اسرائیل تسلیم کرنے کی باتیں کرتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

اور پھر قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان کا ڈنڈہ پڑتا ہے تو سیلیٹڈ وزیر اعظم کہتے ہیں اسرائیل کو تسلیم کون کر رہا ہے ؟ اگر تم اسرائیل کو تسلیم کرنا نہیں چاہتے ہو تو آپ کی حکومت میں کھلے عام اسرائیل کی لابنگ کرنے والے کیوں دندناتے پھر رہے ہیں؟ ہم سمجھتے ہیں ان اسرائیلی حمایتوں کے پشت پر خود خود عمران خان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا جاتابیت المقدس اور یروشلم کو فلسطینیوں کے حوالے نہیں کیا جاتا، ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔

مذید پڑھیں :ملین مارچ یا عوامی فیصلہ

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام ضلع دیامر کے سینئر نائب امیر مولانا محمد شریف نے کہا کہ موجودہ حکومت اسرائیل کی خوشامد چاہتی ہے جو ہمیں قبول نہیں اور ہم فلسطین کی آزادی تک فلسطینوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔

اسرائیل نامنظور ریلی سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ دینی محاذ کے صدر مفتی محفوظ اللہ نے کہا کہ آج قائد جمعیت نے بروقت اسرائیل کی سازشوں کو بھانپتے ہوئے ان کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا ہے اور ہم جمعیت علماء اسلام کے مشکور ہیں کہ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ کیا اور میں اپنی جماعت کی جانب سے اعلان کرتا ہوں کہ جب بھی طاغوت کے خلاف قائد جمعیت کا حکم ہوگا ہم جمعیت والوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔

اشاعت توحید و سنت ضلع دیامر کے ناظم مولانا حضرت اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علما اسلام خراج تحسین کے مستحق ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں جہاد کا الم بلند کیا ہے جو وقت کی ضروت ہے اور صیہونی لابی کو لگام دینے اور موجود حکومت کو خبردار کرنے کے اس جہاد میں ہم جمعیت کے ساتھ ہیں

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے یوتھ علما کونسل کے ضلعی صدر مولانا عبد المالک نے کہا کہ اسرائیل جب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتا اور بیت المقدس کو آزاد نہیں کرتا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نور محمد قریشی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل کے خلاف مسلمانوں کو متحد کرنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے ہم اس پر جمعیت علماء اسلام کو داد دیتے ہیں اور ہم فلسطین کی حمایت میں چلنے والی تحریک کے ساتھ ہیں۔

مذید پڑھیں :عورت کا مقام کیا ہے ؟

اسرائیل نامنظور ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ کے رہنما شجاع الحق نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف نکلنا جہاد ہے اور اس جہاد میں ہم جمعیت علماء اسلام کے ساتھ ہیں اور پاکستان مسلم لیگ کی طرف سے میں پیغام دیتا ہوں کہ کوئی مائی کا لال اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جرات نہیں کر سکتا ۔

اسرائیل نامنظور ریلی میں جمعیت علماء اسلام ضلع دیامر کے امیر مفتی عبدالرحمان نے قرار داد پیش کی ۔ جو مندرجہ ذیل ہے ۔ آج کا یہ احتجاجی مظاہرہ فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے ۔ عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لیں ۔

1940 میں بانی پاکستان محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اسرائیل امت مسلمہ کے دل پر گھونپا گیا جنجر ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا ۔ جب کہ موجودہ حکمرانوں کے ایک رکن اسمبلی قومی اسمبلی کے اندر کھڑی ہو کر اسرائیل کی وکالت کرتی ہے جو ملک دشمنی کے مترادف ہے ۔ آج کا یہ احتجاجی مظاہرہ پاکستان کے اندر سے اسرائیل کے لئے لابنگ کرنے والے عناصر کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

آج کا یہ احتجاجی مظاہرہ سوشل میڈیا پر کاتب وحی اور جلیل القدر صحابی حضرت امیر معاویہ رض کی شان میں گستاخی کرنے والے شخص کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ فوری اس گستاخ کو گرفتار کر کے سزا دی جائے تاکہ گلگت بلتستان کے امن میں خلل نہ پڑے۔

آج کا یہ احتجاجی مظاہرہ واپڈا کے رویے کا بھر پور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ گریڈ ون سے 16 تک ملازمتوں پر مقامی افراد کا حق ہے لہذا حالات خراب کئے بغیر مقامی افراد کو فوری بھرتی کیا جائے ۔

ضلع دیامر کے عوام کی زندگی آئے روز بجلی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے دوبھر ہو چکی ہے اور نااہل انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی یہ مظاہرہ مطالبہ کرتا ہے کہ فوری ایکشن دیامر کو تبدیل کر کے اہل آفیسر کو تعینات کیا جائے ۔

آج کا یہ احتجاجی مظاہرہ متاثرین ڈیم کے چولہوں کی ادائیگی میں تاخیر حربوں ، لفٹ آورز اور سی پیک روڈز کے ایواڈز پر جلد کام مکمل نہ کرنے پر نااہل ترین اور بدمست انتظامیہ کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ان عوامی مسائل کو جلد از جلد نمٹایا جائے ۔

یہ مظاہرہ آر ایچ کیو ہسپتال کی خستہ حالی ، سٹاف کی غیر حاظری اور مشنری کی خرابی پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سمجھتا ہے کہ موجودہ مسلط شدہ حکومت ضلع دیامر کے عوام کے صحت کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی لہذا مطالبہ کرتا ہے کہ تما۔ ڈاکٹروں کو حاظر کر کے وقت کی پابندی اور دیگر مسائل فوری حل کریں ۔

آج کا یہ احتجاجی مظاہرہ خود ساختہ گندم بحران کی بھر پور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ گندم کی کمی کو پورا کر کے غریب عوام تک گندم کی رسائی ممکن بنایا جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *