جامعہ اردو : VC نے عدالتی دفاع کیلئے اسلام آباد سے 2 افسران بلا لیئے

کراچی : وفاقی جامعہ اردو کی وائس چانسلر نے کراچی کی عدالت میں ان کے خلاف ہونے والے کیس میں پیش ہونے کے لیئے ہیڈ آفس کے بجائے اسلام آباد کیمپس کے دو افسران بلا لیئے ہیں .

ٹی اے ڈی اے کی مد میں لاکھوں روپے سرکاری خزانے سے ادا کیئے جائینگے ۔ وفاقی جامعہ اردو کی وائس چانسلر روبینہ مشتاق، رجسٹرار ڈاکٹر صارم اور دیگر کے خلاف وفاقی جامعہ اردو گلشن اقبال کیمپس کے غیر تدریسی عملے کی یونین کے صدر عدنان نے مبینہ غیر قانونی اقدامات کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے ۔

وفاقی جامعہ اردو کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے ۔ جب کہ اسلام آباد کیمپس کے انچارج نے ایک خط تحریر کیا تھا کہ اس طرح کا ایک کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت تھا ۔ جس کی پیروی قانونی مشیر عطا اللہ حکیم کنڈی اور محمد عنصر نزیر کو مقرر کیا گیا تھا ۔

مذید پڑھیں :وائس چانسلرز کے تقرر کے لئے 3 امیدواروں کے ناموں کا انتخاب

جن کی وجہ سے کیس کا فیصلہ وائس چانسلر کے حق میں آیا ہے ۔ اس لیئے اس کیس میں بھی انہیں قانونی مشیر مقرر کیا جائے اور ان کو ٹی اے ڈی اے دینے کی اجازت دی جائے ۔ جس پر وائس چانسلر نے منظوری دیدی ہے ۔

روبینہ مشتاق کے خلاف دائر درخواست پر قانونی مشیروں کی فیس کے علاوہ اسلام آباد سے آنے اور واپس جانے کے لیئے ٹی اے ،ڈی اے وفاقی جامعہ اردو کے اکائونٹ سے ادا کر دی جائے گی ۔

واضح رہے کہ جامعہ اردو کی وائس چانسلر ، رجسٹرار اور دیگر اہم عہدوں پر براجمان انتظامیہ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والے ذاتی اخراجات سے فیسیں ادا کرتے ہیں جبکہ قائم مقام وائس چانسلر و انتظامیہ سرکاری خزانے سے فیسیں ادا کرتے ہیں ۔ جس پر عدالت سے علیحدہ سے رجوع کرنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے کہ اس پر آڈٹ کیا جائے اور رقم لیکر سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *