سندھ چھوٹا صوبہ مگر کرونا پھیلاؤ میں پہلے نمبر پر : ندیم مرزا

کرا چی :چیئرمین اسٹوڈینٹس پیرنٹس فیڈریشن آف پاکستان ندیم مرزا نے کہا کہ صوبہ سندھ چھوٹا ھونے کے باوجود کرونا کے پھیلاؤ میں نمبر ایک ھے جبکہ صوبائی وزیر تعلیم سندھ صوبائی وزیر صحت سندھ کے اختلاف کے باوجود یکم فروری سے اسکول کھلوانے میں پیش پیش ہیں ۔ پورے سال اسکولوں میں صرف12 سے 18 کلاسیں ھوئیں ہیں اور سعید غنی پرائیویٹ اسکولز کو 5 ماہ کی 80 فیصد اور 5 ماہ کی پوری پوری فیسیں دلوانا چاھتے ہیں. وزیر تعلیم صرف پرائیویٹ اسکول مالکان ھی اسٹیک ھولڈرز سمجھتے ہیں ۔

سعید غنی بتائیں کہ آج کے اجلاس میں والدین کی نمائندگی کس نے کی؟ وہ کون سا جادو ھے کہ ھفتے میں تین دن اسکول جا کر بچہ 60 فیصد کورس پڑھ لے گا اور کیا دس ماہ سے گھر بیٹھے ھوئے چھوٹے بچے اتنا تعلیمی بوجھ برداشت کر لیں گے ۔

نیا تعلیمی سال شروع کرنے میں تاخیر سے اگلا تعلیمی سال بھی ضائع ھونے کا خدشہ بھی ھے، وزیر تعلیم بتائیں کہ سندھ کے تعلیمی بجٹ گھوسٹ اسکولوں کو چلانے اور گھوسٹ ملازمین کو تنخواہ دینے کے علاوہ کہاں جاتا ھے ۔

مذید پڑھیں :مراد علی شاہ اور علی زیدی کے ایک دوسرے پر سنگین الزمات

چھوٹے پرائیوٹ اسکولوں کو سود پر قرضہ لینے کی ترغیب دینے کے بجائے سندھ کے 260 ارب کے بجٹ سے امداد کیوں نہیں دے رھے جب بچے بغیر امتحان کے پاس کر دئے گئے تو پچھلے سال وصول کی گئی امتحانی فیس واپس کیوں نہیں کی گئ اور اس سال کی معاف کیوں نہیں کی گئ ۔

وزیر موصوف یہ بھی بتائیں کہ اسکول وینز ڈرائیورز کی غنڈہ گردی روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے گئے ہیں اور 5 ماہ 20 فیصد ڈسکاؤنٹ نہ دینے والے اسکولوں کے خلاف درخواست دینے والوں کو ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کی انتظامیہ دھکے کیوں کھلوا رھی ھے سرکاری بندش کے باوجود زبردستی اسکول کھولنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی اگر کی گئی ھے تو اسے پبلک کیا جائے ۔

وزیر موصوف پرائیویٹ اسکولز کو فیس دلوانے کی مہم چلانے کے بجائے سرکاری اسکولوں کی حالت زار درست کرنے پر توجہ دیں اور فوری طور پر سندھ میں بند اسکولوں اور وینز ڈرائیورز کی مارچ 2020 سے جنوری 2021 تک فیس وصولی پر پابندی لگائی جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *