سر اللہ آپکو بہت دیگا

کورونا

تحریر:برگیڈیئر بشیر آرائیں

میں گاڑی چلاتے موبائیل فون استعمال نہیں کرتا مگر جب سے کورونا نے حملہ کیا ہے، اپنا یہ اصول جزوی طور پر توڑ چکا ہوں۔ اگر کسی انجانے نمبر سے فون آئے تو فوراً اٹھاتا ہوں کیونکہ اس طرح کے فون ہمیشہ مریضوں کے لواحقین کے ہوتے ہیں۔ مدتوں بعد میں بیگم کے ساتھ سپر ہائی وے پر ڈنر کرنے جا رہا تھا کہ ایک فون آیا اور بات کرنے والا  انجکشن Remdesivir کی اسپیلنگ بتا کر پوچھ رہا تھا کہ یہ دوائی چاہیے ۔میں نے جواب دیا کہ صبح مل جاٸیں گیں مگر اسے تو ابھی رات کو ہی چاہیے تھی۔ کہنے لگا میری ماں کو 3 انجیشکن لگ چکے ہیں، 3 اور لینے ہیں ۔قیمت کا پوچھا تو میں نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کیلئے ہر دوائی فری ہے مگر اس انجیکشن کی آدھی قیمت آپ اور آدھی ہم دیں گے۔

مزید پڑھیں: انشاءاللہ بہت جلد عوام کو کرونا وائرس وبا سے بچاؤ ملے گا۔حسنہ نثار

پوچھنے پر میں نے 3 انجیشکن کی آدھی قیمت بغیر حساب کیے 7500 روپے کہہ دی ۔رات کے 11 بجے کا وقت طے ہوا ۔میں نے کہا کہ آپ مجھے Whatsapp پر میسیج کریں تو میں آپکو اپنے گھر کی لوکیشن بھیج دیتا ہوں۔کہنے لگا میرا فون نیٹ والا نہیں سادہ ہے ۔ایڈریس بھیج دیں میں پیسوں کا بندوبست کرکے آتا ہوں۔ 10 بجے دوبارہ فون آیا اور کہنے لگا سر پیسوں کا بندوبست نہیں ہوا اسلئے میں کل آؤنگا۔ میں نے پریشان ہو کر فوراً کہا کہ نہیں نہیں تم آکر انجیکشن لے جاؤ، پیسے جب بندوبست ہو جائیں، تب دے دینا ۔میں رات 11 بجے گھر پہنچا تو دروازے کے پاس پرانی خستہ حال موٹر سائیکل پر بیٹھا ایک غریب سا پریشان حال نوجوان لڑکا میرا انتظار کر رہا تھا ۔پوچھا تو کہنے لگا ماں کے لیے انجیکشن لینے آیا ہوں وہ امام کلینک میں ہے مگر میں پیسے دو تین دن بعد دونگا۔

پتہ چلا اسکا گھر بھی کٹی پہاڑی کے پاس ہے جو عسکری 4 سے ایک گھنٹے کا سفر ہوگا ۔میں نے گھر سے Remdesivir کے تین انجیکشن کے ساتھ Vit D کے چار انجیکشن اور Vit C کی ایک بوتل لی اور باہر آکر تھیلی اسے تھما دی وہ شکریہ کہہ کر جانے لگا تو میں نے کہا ۔بیٹا جو انجیکشن ماں کو لگتے ہیں میں انکی آدھی قیمت بھی نہیں لیا کرتا۔ جاؤ یہ سب فری ہے ۔وہ دھڑام سے زمین پر بیٹھ گیا اور ہچکیاں لیتے بتاتا رہا کہ پچھلے ایک ہفتے میں چالیس ہزار ادھار لیکر ماں کا علاج کروا رہا ہوں ۔ مزدوری پر بھی نہیں جا سکتا ۔ ہاسپیٹل اور ڈاکٹر کچھ خیال نہیں کرتے ۔بہت پیسے مانگتے ہیں ۔میں نے تسلی دی تو ذرا سنبھل گیا اور موٹر ساٸیکل پر بیٹھ کر کہنے لگا “سر لکھ لو میری یہ بات اللہ آپکو بہت دیگا” ۔کمال کا لڑکا تھا ۔یہاں تک مجھے سنائی دیتا رہا وہ جاتے ہوٸے کہتا رہا  “سر اللہ آپکو بہت دیگا”

مزید پڑھیں: کورونا سے مُلاقات کی بے ذائقہ سی کہانی 

میں آج فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور پرائیویٹ ہاسپیٹلز کے مالکان سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم سب کو پتہ ہے منافع کما کر بھی ہم ساری دوائیاں آدھی سے کم قیمت میں بھی مہیا کر سکتے ہیں لوگ آج بہت مشکل میں ہیں کیا پتہ ہمیں ایسی ہی کوئی دعا لگ جائے کہ “سر لکھ لو میری یہ بات۔ اللہ آپکو بہت دیگا”

ای میل پتہ-
ceo@bashsonpharma.com
Whatsapp. 03000300098

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *