عمرِ ثالث ….. چوتھی قسط    ملا عمر کا دفتر … احمد شاہ ابدالی کا مزار … اور دشتِ لیلی کے شہداء

عمرِ ثالث ….. چوتھی قسط

.           ملا عمر کا دفتر … احمد شاہ ابدالی
.           کا مزار … اور دشتِ لیلی کے شہداء

ملا عمر مجاہد کے دفتر جاکر ہم ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہوگئے ، ملا عمر اور ملا حسن ایک عام سی پرانی ٹیبل کے گرد بھان کی سیدھی کرسیوں پر بیٹھے تھے اور ان کے سامنے سائلین ہاتھوں میں درخواستیں لئے دو قطاروں میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ، ان میں ایک لائن مردوں اور دوسری خواتین کی تھی ،  کسی تکلف ، کسی پروٹوکول اور کسی مصنوعیت کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں تھا ۔۔۔

ہر کام ایک فطری انداز میں آگے بڑھ رہا تھا ۔۔۔ ملاعمر ، ملاحسن اور سائیلین کی پوزیشن میں بظاہر فرق یہی تھا کہ وہ دونوں عام سی کرسیوں پر بیٹھے تھے اور دیگر لوگ لائین میں کھڑے تھے ، ان کے درمیان نہ وزراء ، سیکریٹریز ، اے ڈیسیز اور کسی لمبے چھوڑے چینل کا کوئی وجود حائل تھا اور نہ ان کے کپڑوں اور باڈی لینگویج سے ایک کے رعایا اور دوسرے کے حاکم ہونے کا گمان ہورہا تھا ۔۔۔۔

مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر سچ کہوں تو ہمارے ایک 10 گریڈ کے کلرک کے ظاہری ٹھاٹ بھاٹ ، پروٹوکول اور کروفر آفغانستان کے اس سربراہ اور قندھار کے گورنر سے زیادہ ہونگے لیکن کارکردگی ، اخلاص اور معنوی اعتبار سے ہمارے یہ سارے صدر ، وزیراعظم ، وزیر ، جنرلز اور سیاستدان مل کر بھی وہاں کے ایک 10 گریڈ کے کلرک کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے ۔۔۔۔

گورنر صاحب سائل سے درخواست وصول کرتے ۔۔۔ اسے ملا عمر مجاہد کے سامنے پڑھتے اور اسی وقت موقع پر ہی اس پر مناسب احکامات صادر کردیئے جاتے ،یہ ان کا روز کا معمول تھا  ، آفغانستان کا دارلخلافہ اگرچہ کابل تھا لیکن ملا عمر مجاہد قندھار میں رہ کر ہی حکومت کے سارے امور نمٹاتے تھے اور انکی رہائش بھی یہیں تھی ۔۔۔۔

ہم وہاں تقریباً پندرہ منٹ تک نم آنکھوں کے ساتھ کھڑے رہے اور بڑے غور سے اس کھلی کچہری کا جائزہ لیتے رہے شیخ صاحب نے باہر جانے کا اشارہ کیا تو ہم اس ہال سے باہر نکل آئے اور یہاں کے دیگر دفاتر کا جائزہ لینے چلے گئے ۔۔۔۔

یہاں کے ہر دفتر میں موجود عملہ انہماک کے ساتھ اپنے کام میں مصروف تھا اور وہاں باقاعدہ ہر ادارے سے متعلق علیحدہ ڈپارٹمنٹ قائم تھا اور ریاست کے تمام امور ایک منظم انداز میں باقاعدہ ایک ضابطے کے تحت انجام دیئے جارہے تھے ۔

ہم داخلی امور ( وزارت داخلہ ) کے دفتر میں وہاں کے ایک ذمہ دار کے سامنے بیٹھ گئے ہمارے ڈرائیور جو ہمارا گائیڈ بھی تھا ، نے ان سے ہمارا تعارف کروایا ، موصوف انتہائی خندہ پیشانی سے ملے اور وہاں موجود دفتر کے ایک اہلکار کو چائے کیلئے کہہ دیا ، ہم نے ان سے ان کی خیریت دریافت کی اور افغانستان کے عمومی حالات اور مشکلات سے متعلق چند سوالات کئے ،

انہوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ آفغانستان تقریباً بیس سال کی خونریزیوں اور اندرونی اور بیرونی جنگوں کی وجہ سے بے انتہاء مسائل اور مشکلات کا شکار ہے لیکن ہم اسکے باوجود انتہائی صبر اور استقامت کیساتھ ان مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں ،  ( اب تو تقریباً 42 سال ہوگئے ، یہ 22 سال پہلے کی بات ہے )

میرے اس سوال پر کہ افغانستان نے اب تک IMF ، ورلڈ بینک اور دیگر ممالک سے اپنی مشکلات کم کرنے کیلئے کتنا قرضہ لیا ہوگا ۔۔۔ انہوں نے ہمیں جو جواب دیا وہ میرے لئے قابلِ حیرت ہی نہیں قابلِ فخر بھی تھا اور بحیثیت ایک قوم ہمارے لئے تقلید کے قابل بھی  ۔۔۔۔

انہوں نے فرمایا کہ ہم نے آج تک ان اداروں اور ممالک سے نہ کوئی قرض لیا ہے اور نہ ہی لینے کا کوئی ارادہ ہے ، قرض شخصی ہو یا ملکی یہ اپنا ضمیر ، اپنی خودی اور اپنی آزادی گروی رکھنے کے مترادف ہے ، الحمدللہ ان مشکل حالات کے باوجود آفغانستان کے اوپر کسی کا ایک روپے قرض بھی نہیں ہے ۔۔۔۔

یہ جواب جہاں میرے لئے امت کے ایک فرد کی حیثیت سے باعثِ افتخار تھا وہاں ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ میرے لئے ندامت کا باعث بھی تھا ، آفغانستان کے مقابلے میں اُس وقت اور اِس وقت بھی ہمارا داخلی آمن اور انفرا سٹرکچر کئی گنا بہتر ہے ، تمام ادارے ایک روٹین اور سٹیبل انداز میں کام کر رہے ہیں ۔

لیکن اس کے باوجود ہم بیرونی قرضوں کے بغیر سانس تک نہیں لے سکتے اور ہم نے آدھے پاکستان کو قرض دینے والے اداروں کے ساتھ گروی رکھ دیا ہے اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ یہاں ہر چھوٹا بڑا، وزیراعظم سے لے کر چپراسی تک سب کرپشن کے موذی مرض کا شکار ہیں ،

ہم پاکستان کے اپنے وسائل اور عوام کے نام پر لئے گئے قرضے اس ملک اور عوام کی بجائے اپنی جیبوں میں ڈالنے کے عادی ہیں اور جب تک جمہوریت کے طفیل سیاسی ڈاکو ہمارے رہنماء بنتے رہینگے ہماری آزادی اور خودداری قرضوں کے عوض بیرونی دشمن قوتوں کے ہاں گروی رہیگی ،

مسلسل تباہی اور زوال کی اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ جمہوری طرز انتخاب سے ہٹ کر دیانتدار اور اہل لوگوں پر مشتمل قومی حکومت بنائی جائے اور نہ صرف ملک کی باگ ڈور اسکے حوالے کردی جائے بلکہ قوم کا پیسہ کھانے والوں کو بے رحم احتساب کے حوالے کرکے ان سے تمام لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے اور اپنے وسائل میں رہ کر ملک کے معاملات چلانے کے خوددارانہ اندازِ حکمرانی کی داغ بیل ڈالی جائے ۔۔۔۔

اللہ تعالی نے علامہ اقبال کو ہمارے حصے میں لکھ دیا تھا لیکن مجھے یوں لگا کہ اس کی ساری سوچ اور فلسفہء خودی کے نچوڑ کی جھلک افغانوں میں جھلکتی نظر آئی ۔۔۔ اور مجھے بے اختیار علامہ کا یہ شعر یاد آیا ۔۔۔۔

؎

.        فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
.        یا بندہء  صحرائی  یا مردِ  کوہستانی

ہم نے ان کی مہمان نوازی اور طویل گپ شپ سے مستفید ہونے کے بعد ان کا شکریہ آدا کرتے ہوئے ان سے رخصت چاہی اور دفتر کے مین گیٹ سے باہر آگئے ۔

دفتر سے باہر نکلتے ہی ایک ساتھی نے بتایا کہ روڈ کے اس پار ملاعمر مجاہد کے دفتر کے سامنے احمد شاہ ابدالی رحمتہ اللہ علیہ کا مدفن ہے ، ہمارے پاس نماز ظہر تک ابھی ایک گھنٹے کا وقت باقی تھا  ، ہم نے اس وقت کو اس خطے کے عظیم فاتح احمد شاہ ابدالی کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کرلیا اور  سب کو بلاتاخیر وہاں جانے کا مشورہ دیا ،

مزار کے احاطے میں داخل ہوئے ، اور کچھ دیر وہاں کے در و دیوار کی خستہ حالی کا جائزہ لیتے رہے ، پختون خود کو احمد شاہ ابدالی سے منسوب کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور بلاشبہ آپ کی بہادری ، آپ کی فتوحات اور سادگی آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ اور روحانی تسکین  کا باعث ہے ۔

قندھار میں ابدی نیند سونے والے اس مردِ قلندر  کا زندہ کردار آج بھی جرات اور بے باکی کی میراث کو اپنی نسل میں منتقل کر رہا ہے اور الحمدللہ اسکے پیشروؤں نے آزادی اور خودداری کا یہ پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔ قبر کے سرہانے کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھی اور سیدھے گورنر ہاؤس جاکر ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد قندھار کے باہر دشتِ لیلی کے شہداء کے قبرستان روانہ ہوگئے ۔۔۔۔

قبرستان پہنچے تو کئی لائنوں میں نسبتاً تازہ  سینکڑوں قبریں ہمارے سامنے تھیں یہ انہی شہداء کی قبریں تھیں جو دشتِ لیلی میں جنرل دوستم اور اسکے حامی شمالی اتحادیوں نے بڑے ظالمانہ طریقے سے شہید کیا تھا جن میں ایک بڑی تعداد پاکستانی مجاہدین کی بھی تھی اور انہی میں سے ایک شیخ فضل محمد صاحب کے بھانجے بھی تھے جو کہ مفتی تھے اور اس کا ایک بھائی بھی اس کی قبر کا سراغ لگانے کیلئے ہمارے ساتھ آیا تھا ۔۔۔ جنرل دوستم کے لوگوں نے انہیں شہید کرنے کے بعد چونے میں جلاکر انہیں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا تھا لیکن طالبان نے وہ علاقہ فتح کرنے کے

بعد انکی لاشوں کو وہاں سے نکالا اور قندھار کے نواح میں باقاعدہ جنازہ پڑھ کر اس قبرستان میں دفن کر دیا تھا اور ورثاء کی سہولت کیلئے ہر شہید کی کوئی نہ کوئی نشانی اس کے قبر کے اوپر رکھ دی تھی تاکہ ورثاء ان نشانیوں کے ذریعے آسانی سے اپنے پیاروں کی قبروں تک پہنچ سکیں ان قبروں میں کسی کے اوپر شہید کی ٹوپی ، کسی کے اوپر کوٹ تو بعض پر شہید کے کپڑے رکھ دیئے گئے تھے  ،

ہم نے ایک قبر پر رکھی گئی ٹوپی جب اٹھا کر الٹ دی تو اس ٹوپی کے اندر شہید کے سر کی کچھ ہڈیاں اور بال چپکے ہوئے تھے ، جسے دیکھ کر سب کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، قبروں کے اوپر رکھی گئی تمام اشیاء کیساتھ شہداء کا خون ، گوشت یا ہڈیوں کے ٹکڑے چپکے ہوئے تھے ، لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہم سب نے ایک نہایت غیر معمولی بات یہ نوٹ کی کہ وہاں نہ تو کوئی بدبو تھی اور نہ ہی ہمیں وہاں ایک مکھی نظر آئی ۔۔۔۔

مفتی صاحب کا بھائی اور ہم تمام قبروں پر گئے اور اسکے اوپر رکھی گئی نشانیوں کو غور سے اٹھا اٹھا کر دیکھا لیکن مفتی صاحب کے  قبر کا تعین نہ کرسکے ۔۔۔  اور ہم شام کے قریب بوجھل دل کے ساتھ وہاں سے اپنے جائے رہائش کی جانب روانہ ہوگئے ۔۔۔۔۔

ہم قندھار میں تقریباً 13 دن رہے اور ہم روزانہ وہاں کے کسی نہ کسی ذمہ دار کیساتھ نشست رکھتے اور ان سے آفغانستان کے حالات ، وہاں کی مشکلات اور آگے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بات کرتے ، اسی ضمن میں ہم ایک دن آفغانستان کے وزیرِ اوقاف و مذہبی امور کے ہاں چلے گئے ، موصوف کا نام مفتی معصوم تھا لیکن وہ اپنے نام کی بنسبت کچھ زیادہ ہی معصوم لگ رہے تھے ،ویسے بھی انکی عمر 30 سال سے کسی طرح زیادہ نہیں رہی ہوگی لیکن وہ اپنی معصوم شکل وشباہت سے سترہ آٹھارہ سال سے زیادہ نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔

ان سے ملاقات کی تفصیل ان شاء اللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔

{ ڈاکٹر سید محمد اقبال }

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *