14ہزار KMC ملازمین کو تنخواہ کی اداٸیگی کا منصوبہ

کراچی (رپورٹ۔ اسلم شاہ)

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC)کے14ہزار ملازمین کی بروقت تنخواہیں کی ادائیگی کا منصوبہ بندی تیار کرلیا گیا اوروزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی منظوری کے بعد 72کروڑ روپے کا امدادی پیکج جاری کردیا جائیگاماہانہ ملنے والے فنڈز میں 17کروڑ روپے اضافہ کی توقع ہے،جس کے نتیجے میں سندھ حکومتKMCکی ماہانہ خصوصی گرانٹ میں اضافہ کیا جائے گااور KMC کو ماہانہ 430 ملین سے بڑھا کر 600 ملین روپے ماہانہ کردی جائے گی

یہ فنڈز اس شرط کے ساتھ کہKMC کو حکومت کے ذریعہ فراہم کردہ تمام فنڈز صرف ملازمین کے لئے استعمال ہوں گی،ہر مہینے کے ایم سی کے لئے سینئر افسر کے دستخط پر دستخط فراہم کریں گے جو فراہم کردہ فنڈز صرف تنخواہ / پنشن کے لئے استعمال ہوں گے،

تنظیم نو کا فیصلہ خود محکمہ / KMC انتظامیہ کی سطح پر کیا جائے گا اورمتعلقہ اخراجاتKMC کے اپنے وسائل سے کوئی اور اخراجات پورے ہوں گے چونکہ KMCکی23 ڈیپارٹمنٹ اور تمام شعبے جات کی مجموعی آمدن صرف 6کروڑ 70روپے تک ہے، KMCکو ایک بل آوٹ پیکج کی سفارش ایڈمنسٹریٹر کراچی KMCکی سفارش پر صوبائی سیکریٹری بلدیات اینڈ ٹاون پلاننگ سندھ نجم احمد شاہ نے تیار کیا ہے،

صوبائی سیکریٹری سندھ حسن نقوی نے سمری چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ کے ذریعہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو ارسال کردیا گیا ہے،فنانس ڈیپارٹمنٹ سندھ نے KMCکی انتظامی اور مالی پلان کی سپورٹ کے لئے اپنی سفارشات پر مشتمل سمری کی منظوری دیتے ہوئے حکومت سندھ چھ اقساط میں KMC کو 720 ملین روپے کی اضافی گرانٹ فراہم کرنے کا منصوبہ بندی تیار کیا ہے،

بل آوٹ پیکج کی شرائط منظوری کے لئے KMC کو یہ ضمانت دینا ہوگا کہ وہ متوقع آمدن کا کم سے کم 50فیصد وصول کریں گا اور مالی سال 2020-2021 کے دوران اس کے اخراجات میں 20 فیصد وصولی کا استعمال کرے گی،

صوبائی سکریٹری بلدیات کے تحت ایک اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے،KMC کی تنظیم نو کی جانچ پڑتال کرنے، KMCکی زمین،جائیداد اور ٓاثاثوں کے موثر استعمال پر غور کرنے اور محصولات کی دیگر ممکنہ تجاویز کی توثیق کرنے کی سفارش بھی کیا گیا ہے اور کمیٹی میں پرائیویٹ پبلک پارنٹر شپ یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل خالد محمود شیخ سربراہ ہوں گے،

کمیٹی کے دیگر اراکان میں فنانس ڈیپارٹمنٹ، میٹروپولیٹن کمشنر، بلدیات اور فنانس کے نمائندے، مشیر مالیات KMCاور کسی بھی دوسرے نمائندہ کو شامل ہے،کمیٹی KMCکے مالی اورانتظامی امور پر غورو خوص کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کریں گی اور تین ماہ کی مدت میں اپنی سفارشات کو حمتی شکل دے دی،کمیٹی KMCکے او زیڈ ٹی شیئر کو بڑھانے اور اس مدت کے دوران کی جانے والی او زیڈ ٹی کے بدلے ایڈوانس دینے پر غور کیا جارہا ہے۔

اگر کے ایم سی کو پیشگی پیشگی اطلاع نہ پہنچنے کی صورت میں، اس کے قسطوں میں بعد کے مہینوں سے کٹوتی کی جائے گی۔KMCکی آئندہ مالی سال میں بجٹ میں اضافہ کیا جائے گاواضح رہے کہ صوبائی فنانس کمیشن کی اجراء پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے 16سال سے نہیں کیا اور پی ایف سی کو نہ ملنے پر KMCسمیت سندھ کی تمام ادارے کی مالی حالت ابتر ہوچکا ہے،

ملازمین کی تنخواہیں کی ادائیگی کا بروقت نہ ہونے پر اداروں کی کارکردگی بھی متاثر رہی ہے سابق میئرکراچی وسیم اختر کا تعلق رکھنے کی وجہ سندھ حکومت نے KMCکی مالی حالت خراب ہونے کی وجہ فنڈز میں اضافہ نہ کیا گیا کراچی آکٹرو ضلعی ٹیکس کی مد میں سالانہ اضافہ ہورہا ہوتا تو 23سال بعد یہ فند ز 25ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے ۔

تاہم دلچسپ امریہ ہے کہ KMCکے اکٹر ضلعی ٹیکس کی سالانہ آمدن 6ارب روپے تھی اور اب 16سال کے بعد بھی KMCکو اکٹرضلعی ٹیکس کی مد میں صرف ساڑھے پانچ ارب روپے مل رہا ہے جس کے نتجے میں ملازمین کو تنخواہیں بروقت ادائیگی کرنا ممکن نہیں رہا اور ہر ماہ 22کروڑ روپے کا شارٹ فال ہوتا ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *