پابہ رِکاب مجنوں تجھے سلام

تحریر : علی ہلال

ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ایک یادگار شخص کے طورپر امریکی سیاسی تاریخ کا حصہ رہے گا ۔ جن لوگوں کو شکوہ ہے کہ ٹرمپ نے اسلامی دنیا کے لئے تو کچھ نہیں کیا تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ٹرمپ اسلامی دنیا کے صدر نہیں تھے ۔ بلکہ وہ سپر پاور امریکہ کے صدر تھے جنہوں نے حلف اٹھاتے ہوئے امریکی مفادات کو تحفظ دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر میرے خیال سے یہ کیا کام ہے کہ اس شخص نے اپنے حامیوں کے ذریعے اس سپر پاور کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ جس نے نائن الیون کے بعد دنیا کو بوٹوں تلے کچل کو خوف میں مبتلا کر رکھا تھا ۔

کبھی وہ وقت تھا جب افغانستان ،عراق اور پاکستان میں وزیر اعظم یا صدر کی تقریب حلف برداری کے لئے ہزارو ں سیکورٹٰی اہلکار تعینات ہوتے تھے مگر آج دنیا نے وہ منظر بھی دیکھ لیا جب واشنگٹن امریکی فوج ،سی آئی اے کے ایجنٹوں، ایف بی آئی کے اہلکاروں، سیکرٹر سروس کے کنٹریکٹرز کی چھاونی کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ اس وقت امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں افغانستان اور عراق دونوں ممالک سے زیادہ فوجی تعینات ہیں ۔

مذید پڑھیں :متنازعہ DG کالجز نے ایماندار پرنسپل کیخلاف انوکھی انکوائری کمیٹی قائم بنا دی

بہت کم دوست جانتے ہوں گے کہ امریکہ نے کسی کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے شرط لگائی تھی کہ ہر وہ شخص جو امریکی باشندوں یا قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہو اور وہ امریکی نہ ہو ۔انہیں دہشت گرد قرار دیا جائے گا ۔ 6 جنوری کو امریکہ میں جو کچھ ہوا ہے اس میں ملوث افراد کے جرائم ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے کئی گنا زیادہ سنگین ہیں ۔ عافیہ پر امریکی فوجیوں پر اسلحۃ اٹھانے کا جرم ہے مگر امریکہ کے 160 سفید فام باشندوں پر امریکی صدر جوبائڈن کے قتل ،کانگریس کے ارکان اور فیصلہ سازوں کو بموں سے اڑانے کی کوششیں ثابت ہو چکی ہیں مگر اپنے ہونے کے ناطے امریکی اداروں نے ان کے جرائم کو ہلکا قرار دیکر ان سے نرمی برتنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

تازہ معلومات کے مطابق امریکی فوج میں 20 جنوری سے قبل بڑے پیمانے پر بغاوت کا خطرہ ہے ۔ سی آئی اے اور ایف بی آئی نے اس حوالے سے اپنی رپورٹ دے دی ہے ۔ واشنگٹن میں تعینات پچیس ہزار سے زائد سیکورٹی اہلکاروں کی نئی سکروٹنی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور فوج کے اہلکار بغاوت کر کے نئے صدر کو قتل کر سکتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :وفاق المدارس مولانا اور موہوم اندیشے

یہ خطرے کی سنگین صورت ہے مگر پھر بھی وہاں جرائم پیشہ افراد کو معافی دینے کی باتیں ہو رہی ہیں ۔یہ وہ معاملات ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر اسلامی دنیا کا ایک باشندہ یہ تمنا کرتا ہے کہ کاش وہ مسلمان ملک کے بجائے کافر ملک میں آنکھیں کھولتا ۔ جہاں اپنے اپنے ہی ہوتے ہیں ۔ ان کی غلطی کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو۔ ایک ہمارے اسلامی ممالک ہیں جنہوں نے امریکی مطالبے پر ہزاروں شہریوں کو پکڑ پکڑ کر دنبوں کی طرح امریکہ کو پیش کیا تھا اور ایک امریکہ ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنے حامیوں کے حق میں صدارتی معافی جاری کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ساکھ اور غرور کا بت پاش پاش کر دیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *