مولنا فضل الرحمن وفاق المدارس میں کیوں ۔۔؟

مولانا فضل الرحمٰن

تحریر : مفتی انعام الحق 

مدارس اور مدارس کے طلبہ کے غم میں رو رو کر ہلکان ہونے والوں کی شکلیں دیکھ کر مجھے بھی رونا آتاہے انکا نوحہ سنیں تو کئی دن کھانے کو دل نہیں کرتا انسان ہنسنا بھول جاتا ہے کیونکہ بیچارے بہت ہی زیادہ پریشان ہیں اور سب سے زیادہ پریشان علامہ مسٹر برطانوی ہے کیونکہ مدارس کی جمعیت اور اتحاد کو توڑنے کے تمام ٹینڈرزاسی کے پاس ہیں ۔

آج کل اس نے دوبارہ وفاق المدارس کے مقابلہ میں وفاق بنانے پر زور دے رکھا ہے اسکی فائل اداروں میں گولی کی طرح چل رہی ہے تاریخ کا یہ عجوبہ بھی ہوہی جائے تو اچھا ہوگا کہ مدارس کا ایک ایسا بورڈ بھی بنے جسکا سربراہ مسٹر برطانوی کی شکل میں جھل مرکب ہو اس کے ناظم اعلی کے لئے بہترین چوائس حریم شاہ ہے کیونکہ وہ بھی کوالیفائیڈ ہے اور مسٹر برطانوی کے مدارس بورڈ کی سرپرستی کے لئے مفتی عبدالقوی ججتا ہے پھر دیکھو لوگ کیسے کھچے کھچے آئیں گے ۔

مسٹر برطانوی ،اپنی ناظمہ اعلی اور سرپرست عبدالقوی کے ہمراہ ہیرا منڈی کا ایک دورہ کھڑکائیں تو ہیرا منڈی نور منڈی میں بدل جائے گی اور سب سے پہلے یہی لوگ آپ سے الحاق کریں گے وہاں دینی تعلیم کی ضرورت بھی زیادہ ہے مزید نور کے دیئے جلانے ہوں تو میرے دوست اور مسٹر برطانوی کے جہلم الٹی والے دور کے میڈیا کوآرڈینیٹر عمر عبدالرحمن کی خدمات بھی حاصل کریں وہ آپ کو ملالہ کی سرپرستی بھی لے دے گا ۔

پھر دیکھو تمہارا یہ بورڈ رات کی تاریکیوں میں کیسے چمکے گا اندھیری راتوں کے مسافر کس طرح اسکی روشنی میں اپنی منزل پائیں گے ۔۔خیر بات دوسری جانب نکل رہی ہے وفاق المدارس کی مجوزہ سپریم کونسل کی سربراہی مولنا فضل الرحمان کو دینے میں کوئی قیامت نہیں آئے گی بلکہ مدارس میں روز روز کی سرکاری چخ چخ ختم نہ ہوئی کم ضرور ہو گی ۔ تمام علما اس پر مطمئن ہیں البتہ چند علما کی جانب سے گزشتہ دنوں وفاق المدارس کی قیادت کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا جسمیں مولنا فضل الرحمان کو وفاق المدارس کی سپریم کونسل کی سربراہی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق یہ کشتہ بھی حکیم مسٹر برطانوی کے مطب خاص میں تیار کیا گیا تائید کنندگان کے نام بھی زبردستی لکھوائے گئے اسی لئے اس خط پر کسی کے دستخط بھی نہیں ہیں ۔

مذید پڑھیں :آرٹس کونسل آف پاکستان میں اصل مسئلہ کیا ہے ؟

میڈیا پر یہ خط چلوایا بھی مسٹر برطانوی نے کیونکہ PTV سے زیادہ مستند سرکاری جھوٹ بولنے والے ARY میڈیا گروپ نے اس پروپگنڈے کو پھلانے میں اپنی مخلصانہ کاوشیں فراہم کیں ۔ پھر سوشل میڈیا پر بھی یہ خط مسٹر برطانوی نے ہی وائرل کرایا لیکن اس میں پاکستان شرعیت کونسل اور تحریک خدام اہلسنت کا نام بھی تھا ان دونوں جماعتوں نے آفیشل طور پر تردید کر دی ہے ۔ مولانا لدھیانوی اور مولنا فاروقی بھی اس خط کے مندرجات سے متفق نہیں ۔ ان کے معتمد خاص کے مطابق ہم ایسی کسی لابنگ کے حصہ دار نہیں بلکہ مدارس کی مقتدر علمی اور تعلیمی شخصیات جو بھی فیصلہ کریں گی ہم انکے ساتھ ہیں ۔

ایک طرف تو یہ لوگ مدارس کی خدمات پر مرے مرے جاتے ہیں کہ تقریباً چالیس لاکھ طلبہ کو رہائش،تعلیم ،کھانا اور میڈیکل کی سہولیات مفت دے رہے ہیں گورنمنٹ ایک روپیہ کی مدد نہیں کرتی کوئی سبسڈی نہیں کوئی گرانٹ نہیں کوئی مطالبہ نہیں دوسری جانب آئے روز ارباب مدارس کو تنگ کرنا ہرآنے والی گورنمنٹ کا شعار بن چکاہے جو مسٹر برطانوی جیسے مسترد کردہ نان کوالیفائیڈ لوگوں کے ذریعہ مدارس کو کنٹرول کرنے کی سعی لاحاصل میں مگن رہتے ہیں اور اشرفی ٹریڈ مارکہ بیرون دنیا کو جھوٹی تسلیاں دیکر اپنے معاشی الو سیدھے کرتا رہتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ آج کل فائیو سٹار ہوٹلوں کا مکین اور ہر ساقی کے میخانہ کی زینت کچھ عرصہ پہلے اسقدر بوسیدہ معاشی صورتحال کا شکار تھا کہ بس کے اندر سیٹ پر ٹکٹ لیکر بیٹھنے کی سکت نہیں رکھتا تھا بلکہ بس کی چھت پر کنڈیکٹر کے ہمراہ سفر طے کرتا تھا آج کل وہ اربوں کھربوں کا مالک ہے کوئی اس سے پوچھ سکتا ہے کہ آپ نے بس کی چھت پر کنڈیکٹر کی معیت میں یہ جائز اثاثہ کیسے بنائے ۔۔؟

مذید پڑھیں :متنازعہ DG کالجز نے ایماندار پرنسپل کیخلاف انوکھی انکوائری کمیٹی قائم بنا دی

عالمی دنیا اور ریاستی ادارے ٹھنڈے دل سے یہ تو سوچیں کہ طاہر اشرفی جیسا خود ساختہ علامہ آپ کو اتنا چونا لگا رہا ہے تم اسکو کنٹرول نہیں کر پاتے اس نے تمہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے ہرروز نئی ڈیمانڈ نکال مارتا ہے تو تم لوگ شیخ الھند کے وارث کوالیفائیڈ عالم دین مولنا فضل الرحمن کو کیسے کنٹرول کرو گے ۔ یہ جس شخصیت کا پیروکار ہے اس نے برطانیہ جیسی ایسی طاقت کا مقابلہ کیا اور ان سے لوہے کے چنے چبوائے جسکی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا بہرحال اللہ نے لوگوں کی روزی روٹی کا بھرپور انتظام کررکھا ہے جیسے طالبان سے بات چیت کے چکر میں امریکہ کو کتنے ہی خانوں نے چ بنایا اور خوب ڈالرز سمیٹے طاہر اشرفی بھی ایسا ہی ایک ڈیلر ہے ۔

اب واپس اصل مدعی پر آتے ہیں کہ مولنا فضل الرحمن کو وفاق المدارس کی سپریم کونسل کی سربراہی پر آپ کو اس لئے اعتراض ہے کیونکہ یہ سیاسی شخصیت ہے اس سے تعلیمی اداروں میں سیاست ہوگی معیار تعلیم گرے گا ۔  تو میرا سوال یہ کہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کے جتن کئے جارہے ہیں اور وزارت تعلیم کی ہائی اتھارٹی بھی سیاسی شخصیت اور وفاقی وزیر تعلیم ہوتا ہے یہ سیاسی شخصیت تو تعلیمی اداروں کی کمان کرتے ہوئے قبول ہے لیکن مولنا کی سیاسی شخصیت قبول نہیں مطلب یہ ہوا کہ تمہارے دلوں میں مولنا کا خوف ہے آپ جانتے ہو کہ مولنا تو ہر سیاسی گھاٹ کو جانتا ہے عالمی دنیا پر نظر رکھتا ہے اسکو ٹھگی لگانا آسان نہیں لیکن تمہارا یہ خواب خواب ہی رہے گا ۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ ریاست نے اسلامی نظریاتی کونسل کو وفاقی شرعی عدالت کو جس طرح چاند پر پہنچایا اسی طرح وہ مدارس کو بھی چاند پر لے جانے کے خواہاں ہیں دنیا کا گورنمنٹ آف پاکستان پر یہ اعتماد رہ گیا کہ ریاست کے جہاز کو ملائشیانے پکڑ کر بند کردیاکہ بقایا جات دو اور لے جاؤ شرم مگر تم کو نہیں آتی ۔ قومی کونسا ادارہ ہے جس کا جنازہ نہیں نکالا گیا ۔ پاکستان میں تین بڑے ادارے ہیں جو خالصتا مذہبی نوعیت کے ہیں وفاق شرعی عدالت ،اسلامی نظریاتی کونسل اور محکمہ اوقاف انکو کس بری طرح ناکارہ بنا کر رکھا ہوا ہے ۔ اب مدارس کو بھی اسی عروج تباہی پر لے جانا چاہتے ہو ریلوے ،PIA, سرکاری تعلیمی اداروں،سرکاری ہسپتالوں اور واپڈا،سمیت ہر ادارہ تباہی اور بربادی کی ایک داستان ہے اب مدارس میں بھی ایسی ریفارمز کریں گے جو ان مذکورہ اداروں میں کیں۔۔۔؟

چلو مان لیا آپ کر لوگے ذرا مشرف کے لائے ہوئے ماڈل دینی مدارس کا رزلٹ تو بتاؤ آپ پہلے ان مدارس کو تو چلا کر دکھاؤ ان سب کا مہتمم مسٹربرطانوی کو بناؤ پھر سب کو دکھاؤ کہ دیکھو ہم نے یہ کیا ہم چاہتے ہیں سب مدارس بھی ایسا کریں دنیا کا یہ عجوبہ ہے کہ جو گورنمنٹ تین یا چار ماڈل دینی مدارس کو نہیں چلا سکی وہ چالیس ہزار کے قریب مدارس چلانے کی خواہاں ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے اور امپورٹڈ برٹش مارکہ نیو ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرداروں سے ملک قوم اور قومی اداروں کو محفوظ رکھے امین یارب العالمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *