تحریک انصاف ’’ترین‘‘ گروپ کے وزیر توانائی عمر ایوب خان پرائویٹ آئل مافیا کو نوازنے لگے

رپورٹ : شہزاد ملک/ ناصر جمال

وزیراعظم سے سیاسی ٹیم نے وزارت توانائی کے ماتحت اداروں کے ایم ڈیز ہٹوانے کا غلط فیصلہ کروایا لیا ،وزارت بجلی/توانائی کے اصل بحران کی ذمے دار ہے ،وزارت بجلی پھر سے فرنس آئل پر مہنگی بجلی پیدا کروانا چاہتی ہے ،ای سی سی میں انتہائی فنکارانہ مبہم سمری پہلے دی، پھر واپس لے لی ،وزیر پٹرولیم، وزارت پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے اپنی وزارت کی بدنامی کا سبب بنے ،گرمیوں میں پھر نیا بحران ہوگا، پھر دونوں گیس کمپنیوں کے ایم ڈیز قربان ہوں گے .

پاور ڈویژن نے لازمی چلانے والے پاور پلانٹ کی آڑ میں مہنگے فرنس کا کھیل کھیلا، سزا کے بجائے، اس پر داد پائی ،ندیم بابر نے عالمی ثالثی عدالت سے سوئی ناردرن گیس کمپنی سے مقدمہ ہارنے کا اُدھار چکایا اور بے قصور ایم ڈی کو عہدے سے فارغ کروا دیا ،وزیراعظم کا حیران کُن فیصلہ ، پاور اور پٹرولیم سیکٹر کے لوگوں پر بجلی بن کر گرا ہے جس کی وجہ سے اعلی افسران بددلی کا شکارہو گئے ہیں .

اسلام آباد وزارت بجلی حکومت کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے۔ وہ پھر سے فرنس آئل پر مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے کی خواہش مند ہے۔ ای سی سی میں وہ ایک بار پھر سمری لے گئی، سوئی ناردرن گیس کمپنی کے سبسڈی کے 7 ارب روپے پھنس گئے۔ وزارت خزانہ ایک ہفتے سے سمری لے کر بیٹھی ہوئی ہے۔ دونوں گیس کمپنیوں کے ایم ڈی ناحق قربان کیے گئے۔ لازمی چلانے والے پاور پلانٹ کی آڑ میں پُراسرار ہاتھ نے فرنس والے پلانٹ بھی چلوادیے۔ اس کے باوجود سیکریٹری پاورکی سرزنش کرنے کے بجائے الٹا اسے شاباش دی گئی۔ گدو پاور پلانٹ کو 360 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جاتی ہے مگر وہ استعمال 200 کرتا ہے۔ نندی ایک عرصہ سے بند ہے۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی آر ایل این جی کے تین پاور پلانٹ کو معاہدے کے مطابق گیس دینے کا پابند تھا، دو کی ڈیمانڈ ہی نہیں تھی، بھکی ڈیفالٹ کرگیا تھا‌.

گدو پاور پلانٹ کو 360 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جاتی ہے مگر وہ استعمال 200 کرتا ہے

اصل خرابی پاور سیکٹر کی ہے، موجودہ سیکریٹری پاور، سابقہ سیکریٹری پاورکی روش پر ہیں کہ اپنی ٹوپی دوسرے کے سرپر ڈال دو۔ ڈیمانڈ بتاتے ہیں، پیسے کیسے دینے ہیں اس پر بات نہیں کرتے۔ ’’ڈسکوز‘‘ آئوٹ آف کنٹرول ہیں، (ن) لیگ حکومت کو یہ بات مئی 2018 میں سمجھ میں آئی، مگر اس وقت وہ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ آنے والی گرمیوں میں ایک بار پھر سوئی ناردرن اورسوئی سدرن کے قائم مقام ایم ڈی قربانی کے نئے بکرے ہوں گے۔ وزیراعظم نے ایم ڈی امجد لطیف کی انتہائی موثر بریفنگ کے بعد اپنے وزراء کے دبائو میں غلط فیصلہ کیا۔ سیکریٹری پٹرولیم نے اپنی رپورٹ میں ذمے داری کا تعین نہیں کیا، خرابی کی نشان دہی کی مگر کسی کو بری الذمہ بھی نہیں کیا، وزیر پٹرولیم کا اپنی وزارت کے امور پر عبور نہ ہونا بھی وزارت کی ناکامی کا سبب بنا۔

نندی پور پاور پروجیکٹ ایک عرصہ سے بند ہے۔

معتبر ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی سی (اقتصادی رابطہ کمیٹی) میں وزارت بجلی (پاورڈویژن) ایک بار پھر فرنس آئل پر مہنگی بجلی پیدا کرنے کی ایک ’’چکرباز‘‘ سمری لے گیا تھا۔ فرنس پر بجلی پیداکردو فیول ایڈجسٹمنٹ ابھی کنزیومر کو’’پاس آن‘‘ مت کرو۔ جس کو اتنی فنکاری سے مبہم بنایا گیا تھا کہ پٹرولیم ڈویژن کے لوگ سرپکڑ کر بیٹھ گئے کہ پاور ڈویژن چاہ کیا رہا ہے ۔وزارت پاور کا لیپ ٹاپ مافیا آئل مافیا کو ہرصورت میں سرخرو کرنا چاہ رہا تھا۔ اس مافیا نے گزشتہ مہینوں میں لازمی چلنے والے بجلی کے کارخانوں (Must Run plant) کی آڑ میں ای ای سی سی کو کھسیانے انداز میں بتایا کہ انہوں نے فرنس پر بجلی پیدا کی ہے۔ یہ ایک دھماکہ خیز صورتحال والی خبر تھی مگر ای سی سی کے سربراہ اسد عمر اسے پتہ نہیں کیسے ہضم کرگئے’’مسٹ رن پلانٹس میں ہائیڈل، نیوکلیئر، ونڈ، سولر، بگاس، کول، ساہیوال+ پورٹ قاسم) شامل ہیں۔

فرنس آئل پر مہنگی بجلی پیدا کرنے کی سمری بنانے والے معتبر ٹھہرے

15 جنوری کو ہونے والی ای سی سی میں آخری وقت میں پاور ڈویژن نے فرنس آئل چلانے والی سمری اچانک واپس لے لی۔ سردیوں میں مسٹ رن پلانٹس اور وقف شدہ گیس پر چلنے والے پلانٹس جس میں اوچ i، اوچ ii، گدو سے طلب پوری ہوتی ہے۔ 36 سو میگاواٹ کے آر ایل این جی، حویلی بہادر شاہ اور بلو کی کی جنوری تک ڈیمانڈ ہی نہیں تھی جبکہ بھکی ڈیفالٹ پر تھا، ہر پلانٹ 1200 میگاواٹ کا ہے، سوئی ناردرن معاہدے کے تحت انہیں گیس دینے کا پابند ہے۔ اگر کسی پلانٹ کے پاس فالتو گیس ہو تو وہ نیشنل‌‌‌‌ پاور‌‌‌‌ کنٹرول سینٹر یعنی NPCC کو بتاتا ہے۔ جو آگے سوئی ناردرن کو کہتا ہے کہ آپ فلاں پلانٹ کو گیس دے دیں۔ پھر سیف، سنائر ہالمور اورینٹ، مظفرگڑھ، نندی پور، روش اور ایس کے پی ایل کو گیس سہولت کے مطابق دی جاتی ہے۔

نندی پور کو 85 ایم ایم سی ایف ڈی گیس جاتی تھی۔ وہ ایک عرصہ سے بند پڑا ہے، اسے اب ایل این جی دی جاتی تھی، 360 میگاواٹ والے تین پلانٹس کی طلب 180 + 180 + 180 ہے۔ گدو جو کہ بنیادی طورپر 747 میگاواٹ ہے۔ اس کی اپ گریڈیشن کے بعد یہ 777 میگاواٹ پرچلتا ہے۔ اس کی ٹیم ٹربائن پر مسئلہ حل نہیں ہورہا۔ تمام اینی شینٹ پلانٹس اگر اپنی پوری استعداد پر چلیں تو پانچ روپے کا یونٹ پیدا کرتے ہیں۔ نومبر، دسمبر میں گیس کی بجائے فرنس کا استعمال خلاف عقل تھا۔ نومبر میں گیس دستیاب تھی۔ سوئی ناردرن کا سسٹم پیک 4700 اور سوئی سدرن کا 2000 پرتھا۔ پائپ لائنز پھٹنے کا خطرہ ہو چلا تھا ایسے میں ایل، این، جی کو روکنا پڑا۔ 200، ایم ایم سی، ایف زیرو ریٹیڈ انڈسٹری، 300 ڈومیسٹک کے سر تھوپنا پڑی۔ جبکہ 70 فرٹیلائزرکو دی گئی، 230پاور سیکٹر کو گئی۔ یہی پاور سیکٹر کی اس سیزن میں پیک ڈیمانڈ تھی۔ مگر نالائق سیکریٹری پاور نے اس مہینے 820، ایم ایم سی ایف ڈی کی طلب ظاہر کی، دسمبر میں 780، جنوری میں 780اور فروری میں 680 گیس ڈیمانڈ کی گئی، اس کے لیے باقاعدہ خط لکھا گیا جبکہ تاریخی طور پر یہ ممکن ہی نہیں تھا اور وہی ہوا۔

گدوکو کندھ کوٹ گیس فیلڈ اور ماڑی سے 360، ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملتی ہے جب کہ اس کا استعمال صرف 200 کا ہے، یہ ’’ڈیڈی کیٹیڈ‘‘ ہے۔ اور اوچ پاور پلانٹ I اور II بھی ڈیڈی کیٹڈ ہیں، انہیں او جی ڈی سی ایل براہ راست اوچ گیس فیلڈ سے گیس دیتی ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کو 65 گیس براہ راست ملتی ہے، لبرٹی کو 45 اوجی ڈی سی دیتی ہے۔ اورینٹ کو 40 ملتی ہے۔ یہ ندیم بابر کا پلانٹ ہے ، جو انرجی کمیٹی کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ایس این جی پی ایل کے 80 کروڑ دینے ہیں، بین الاقوامی ثالثی عدالت میں بھی یہ اپنا مقدمہ ہار چکے ہیں مگر ادائیگی نہیں کر رہے، مارچ سے نومبر اور نومبر سے مارچ تک گیس طلب کا پاور ڈویژن کا فارمولا ایک نئے بحران کی نشان دہی کر رہا ہے ۔ پہلے 8 ماہ ہائی ڈیمانڈ کے ہیں۔ اس وقت فیول اور پلانٹس کی ترجیحی لسٹ کیا ہوگی۔ گیس کمپنیوں کو ابھی سے ڈیمانڈ دینا ہوگی مگر پیسے کون دے گا ؟

اورینٹ کو 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ملتی ہے۔ یہ ندیم بابر کا پلانٹ ہے ،

پی ایس او 40 ارب، پی ایل ایل 7 ارب کی ایل این جی کے سرکلر ڈیٹ کے نیچے ہے ، 2 آر ایل جی کے جہاں کچھ ایسے ہی تنا ظر میں واپس بھجوائے گئے تھے۔ فرنس آئل پر پلانٹ چلانے کی وجہ سے ساہیوال اور پورٹ قاسم پلانٹ بند کرنے پڑے ہیں ، سردیوں کے مہینے میں ایک ٹرمینل آؤٹ پر جاتا ہے تو فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔ اصل مسئلہ ہے کہ رقوم کی ادائیگی کیسے ہوگی۔ 200 روپے والے گھریلو صارف سے اضافی 1200 روپے آپ کیسے وصول کریں گے۔گرمیوں میں جب بجلی کی ڈیمانڈ زیادہ ہوگی۔ فیول کی سپلائی طلب کی جائے گی مگر پاور سیکٹر پے منٹ پہ آتا ہی نہیں پھر کیا ہوگا۔ دونوں گیس کمپنیوں کے قائمقام ایم ڈی پھر فارغ ہوں گے .؟

فرنس آئل پر پلانٹ چلانے کی وجہ سے ساہیوال اور پورٹ قاسم پلانٹ بند کرنے پڑے ہیں

پاور اور خزانہ والے تو حکومت کے لاڈلے ہیں۔ خاقان عباس نے پاور سیکٹر کی اصل خرابی اور بدمعاشی سمجھ لی تو مئی آچکا تھا، سب سے بڑی خرابی ڈسکوز میں ہے۔ وہ ایک ڈیمانڈ دیتے ہیں پھر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ بجلی پھر آپ کہاں لے کر جائیں، یہ بہت بڑامافیا ہیں، گیس کا حالیہ بحران کچھ بھی نہیں تھا۔ مول اور نشپا سے 330 کے قریب گیس آتی ہے، اٹک ریفائنری ان کا کروڈ (خام آئل) اٹھاتی ہے۔ اس نے خام آئل اٹھانے سے انکار کردیا۔ سسٹم میں یہاں جب پیداوار کم کرنا پڑی تو دستیاب گیس صرف 160 رہ گئی۔کنرپیا کی (ڈی) اور آدم میں بھی تیل کی پیداوار کم کرنا پڑی، وہاں سے صرف 50ایم ایم سی ایف ڈی سسٹم سے نکلی تھی، ایک سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا۔ ایم ڈی امجد لطیف نے انرجی کمیٹی میں اس صورتحال پر چیخ وپکار کی، دونوں انکوائری رپورٹس میں سسٹم کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔سیکریٹری پٹرولیم نے اگر کسی پر اپنی دوسری رپورٹ میں ذمے داری نہیں ڈالی تو انہوں نے دونوں ڈی ایم ڈی کو اس سے کلیئر بھی نہیں کیا۔

اٹک ریفائنری ان کا کروڈ (خام آئل) اٹھاتی ہے۔ اس نے خام آئل اٹھانے سے انکار کردیا۔

عمر ایوب خان، فنانس منسٹر اور ندیم بابر آپس میں مل گئے ۔ ندیم بابر نے عالمی عدالت میں کیس ہارنے کا غصہ نکالا اور کہا کہ یہ گیس کمپنی اور انتظامیہ آپ کو آگے بھی مروائیں گے۔ سیکریٹری پاور نے اپنی تمام تر زیادتیاں اور نالائقیاں بھی گیس کمپنیوں کے سرتھوپ دیں۔وزیر پٹرولیم کو اپنے شعبے پر عبور ہی نہیں تھا، وہ اپنی کمپنیوں کی وکالت ہی نہیں کرسکے۔ وزیراعظم نے پوری تصویر سامنے آنے کے باوجود اپنی سیاسی ٹیم کے دباؤ میں غلط فیصلہ کردیا۔ دونوں ایم ڈیز کی قربانی دے دی گئی۔ پاور سیکٹر چالاکی سے ایک بار پھر اپنے گلے کا پھندا تاریخی ریکارڈ کے مطابق دوسرے کے گلے میں ڈال گیا ۔

تحقیقاتی صحافی شہزاد ملک اور ناصر جمال نے وزیر توانائی عمر ایوب خان اور ان سے ملے ہوئے افسران کا بھانڈا پھوڑ دیا

اب سوئی ناردرن کے گلے میں 7 ارب کی سبسڈی کی ہڈی پھنسی ہوئی ہے۔ ٹیکسٹائل کا ریٹس، سرجیکل، اسپورٹس جیوٹ، چمڑے اور کھادی کی صنعتوں نے 7 ارب کی سبسڈی لے لی ہے مگر حکومت نے کمپنی کوپیسے نہیں دیے، دوسرا ہفتہ شروع ہے۔ 4 ارب 70 کروڑ کھاد اور 3 ارب 30 کروڑ زیرو ریٹڈ صنعتوں کی سبسڈی ہے۔ وزارت خزانہ ایک ہفتہ سے اوپر ہوگیا ہے اس فائل پر بیٹھ گئی ہے۔ فروری اور مارچ میں ایک اور مہنگی ایل این جی کی مبینہ خریداری طے ہورہی ہے جو ایک اور اسکینڈل بن سکتا ہے، 900 سے 1 بی سی ایف کی گرمیوں میں طلب گیس کمپنیوں اور ان کی انتظامیہ کے لیے کیا گل کھلائے گی، یہ طے شدہ ہے کہ ان کے لیے مشکل ہی مشکل جب کہ پاور والوں کے مزے ہی مزے ہوں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *