کالجز کے اساتذہ کو مبینہ جعلی صحافی ہراساں کرنے لگے

کراچی : جعلی صحافیوں نے کراچی کے کالجز میں تعینات ایماندار اساتذہ اور پرنسپلز کا نشانے پر رکھ لیا ہے ۔ ڈائریکٹوریٹ کالجز کے بعض کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے ایماندار افسران کو ٹارگٹ کرنے کے لئے باقاعدہ نام نہاد صحافیوں کو اسائمنٹ دیا جاتا ہے ۔

ایک ماہ قبل اسلامیہ سائنس کالج کے ایماندار پرنسپل پروفیسر ندیم حیدر کے خلاف سجاد لاشاری نامی ایک مبینہ صحافی نے جھوٹی من گھڑت خبریں سوشل میڈیا پر وائرل کر کے ان سے پیسوں کا تقاضہ کیا تھا ۔ اور اس حوالے سے رقم زیادہ مانگی تھی ۔ سجاد لاشاری نے مبینہ طور پر اینٹی کرپشن ، وزیر اعلی انسپکشن ٹیم سمیت دیگر کو بھی حصہ دار بنانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جس کے بعد ندیم حیدر نے وزیر اعلی انسپکشن ٹیم کو خط جاری کیا تھا جس کے بعد 8 دسمبر 2020 کو انسپکشن انکوائریز اینڈ امپلیمنٹیشن ٹیم ڈیپارٹمنٹ سندھ کی جانب سے لیٹر جاری ہوا تھا جس میں مبینی صحافی کو بلیک میلر قرار دیکر اس کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا تھا ۔

الرٹ نیوز https://www.alert.com.pk موصول ہونے والے لیٹر نمنر CII/CMIT/SA-05//2020/958 کے مطابق وزیر اعلی کی مذکورہ ٹیم کی جانب سے لیٹر میں کہا گیا تھا کہ جو خط اسلامیہ کالج کے پرنسپل ندیم حیدر نے وزیر اعلی کی انسپکشن ٹیم کے حوالے سے بھیجا ہے وہ جعلی ہے اور اس پر انکوائری کی جائے کی سجاد لاشاری نے کس حیثیت میں یہ لکھا ہے ۔

مذید پڑھیں :اینٹی کرپشن سندھ کو ٹھیکے پر دے دیا گیا : رپورٹ

ادھر گزشتہ روز کراچی کے کالجز کے متاثرہ اساتذہ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سینئر ترین پروفیسر رعنا لیاقت علی خاں کالج آف ہوم اکنامکس کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حکیم کو نام نہاد صحافیوں کی دھمکیوں کا فوری نوٹس لیا جائے ۔ سندھ کی سب سے سینئر کالج پروفیسر اور رعنا لیاقت علی خاں کالج آف ہوم اکنامکس کالج کراچی کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حکیم کو فرائض کی دیانت دارانہ بجا آوری پر نام نہاد صحافیوں کی جانب سے سنگین نتایج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔

رعنا لیاقت علی خاں کالج آف ہوم اکنامکس کراچی کے گرلز ہاسٹل ، جو صرف خواتین کی رہائش کیلئے مختص ہے ۔ اس ہاسٹل میں رہائش پذیر خواتین کی جانب سے ہاسٹل میں رہائش پذیر ایک خاتون لیکچرار کی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوٸے مبیّنہ طور پر اپنے شوہر کو ہاسٹل میں  رہائش فراہم کرنے کی کی شکایت پر ، کالج پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حکیم کی جانب سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی ، خاتون لیکچرار سے باز پرس پر ، مبیّنہ طور پر مقامی ٹی وی چینل کے نمائندوں کی جانب سے ، خاتون پرنسپل کو ، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی لیکچرار کے خلاف کارروائی کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی اور ہراساں کیا جا رہا ہے ۔

قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی خاتون لیکچرار بھی پرنسپل کو اپنے اثر رسوخ استعمال کر کے وزیر تعلیم سعید غنی کے ذریعے پرنسپل کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دے رہی ہے ۔ واضح رہے کہ نام نہاد صحافیوں کا ایک ٹولہ گزشتہ دوسال سے دیانتدار اور فرض شناس کالج پرنسپلز اور افسران کے خلاف الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹی ، بے بنیاد اور شرانگیز خبریں چلا کر انہیں بلیک میل کرنے میں مصروف ہے ۔

مذید پڑھیں :پروجیکٹ ڈاٸریکٹر ایس تھری ایک بار پھر تبدیل

افسوس اس امر کا ہے کہ محکمہ تعلیم کالجز ، ڈی جی کالجز ، ڈائریکٹر کالجز سمیت تمام کالج پرنسپلز اور اساتذہ تنظمیں اس مکروہ اور مجرمانہ مہم پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں ۔ کچھ عرصے قبل نام نہاد صحافیوں کے اسی بلیک میلر ٹولے نے ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز کے انتہاٸی دیانتدار اور فرض شناس افسران ، پروفیسر مراد علی راہموں ، پروفیسر صالح عبّاس ، پروفیسر قاضی ارشد اور پروفیسر ساجدہ پروین کے خلاف جھوٹی ، بے بنیاد اور شر انگیز خبریں چلا کر نہ صرف ان افسران کی شہرت کو داغدار کیا بلکہ انہیں ان کے عہدوں سے بھی محروم کروا دیا گیا ۔

اسی ٹولے نے حال ہی میں جعلسازی کر کے اسلامیہ سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر ندیم حیدر کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر ، مذموم مہم چلائی جس میں اس بلیک میلر اور سازشی ٹولے کو منہ کی کھانی پڑی ۔ کالج پرنسپلز اور اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ گورنر سندھ ، وزیر اعلٰی سندھ ، وزیر تعلیم ، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری کالجز اس نام نہاد صحافی بلیک میلر ٹولے کی بلیک میلنگ سے کالج پرنسپلز کو محفوظ رکھنے کو یقینی بنائیں تاکہ سرکاری کالجز کے پرنسپلز ، خصوصاُ پرنسپل رعنا لیاقت علی خاں کالج آف ہوم اکنامکس پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حکیم ، یکسوئی اور اطمینان سے اپنے فرائض منصبی سر انجام دے سکیں ۔

مزید پڑھیں :سندھ میں 37 ہزار اساتذہ کی بھرتیاں مگر کیسے ؟

ادھر سپلا کراچی ریجن کے صدر منور  عبّاس  نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ حیکم فقط صوبہ سندھ کا ہی نہیں مرے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ اصول پسند نڈر اور بیباک افسر ہیں جنہوں نے اس کالج پر بژی مافیا کو قبضہ کرنے نہیں دیا ۔ اس وقت بھی سپلا پروفیسر فیروز الدین صدیقی کی قیادت میں ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ کھڑی تھی اور آج بھی ان کے ساتھ ہیں اور مجھے یقین ہے ۔ تمام حق گو صحافی بھائی بھی میڈم کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ اسلم پرویز خاضخیلی کا کہنا ہے کہ تمام صحافی بھائیوں سے گذارش ہے کہ اس معاملے کو دیکھیں اور ان کو  سمجھائیں کہ تعلیمی اداروں اور تھانے میں فرق ہوتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *