EFP، ILO کاکسانوں میں آگاہی بیدار کرنے کے لیےFPRW پر سیمینار کا انعقاد

ای ایف پی، آئی ایل او کاکسانوں میں آگاہی بیدار کرنے کے لیے ایف پی آر ڈبلیو پر سیمینار کا انعقاد

کسانوں اور مزدوروں کو صحت اور حفاظت کے خطرات سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے، انگریڈ کرسٹینسن

میرپوخاص، سانگھڑ میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے اعجاز احمد،فصیح الکریم صدیقی،ذکی احمد خان ویگر کا خطاب

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی کنٹری ڈائریکٹر انگریڈ کرسٹینسن نے کھیتی باڑی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بچوں سے یہ کام نہ لیا جائے اور مزدوروں سے جبراً کام نہ کروایا جائے نیز کسان اپنی مرضی کے مطابق ٹریڈ یونین میں شامل ہوسکتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے زیر اہتمام انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے پاکستان آفس کے تعاون سے کاٹن گروئنگ کمیونٹی میں کام کے مقام پراصول اور بنیادی حقوق(ایف پی آر ڈبلیو) کے منصوبے کے ذریعے آگاہی بیدار کرنے کے حوالے سے انڈی ٹیکس کی معاونت سے میرپورخاص اور سانگھڑ میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انگریڈ کرسٹینسن نے کہا کہ کسانوں اور مزدوروں کو صحت اور حفاظت کے خطرات سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور اور کسان محفوظ اور صحت مند رہیں۔ ایف پی آرڈبلیو پر ان سیمینارز کے ذریعے دیہی آبادی کے مزدوروں اور کسانوں میں مہذب انداز میں کام کرنے کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی جو ہماری زرعی معیشت میں مثبت انقلاب لاسکتی ہے۔

سیمینار کے 112 شرکاء میں 101مرد اور11 خواتین شامل تھیں جبکہ ترقی پسند کسانوں کی نمائندگی کرنے والے لیبر وہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ، محکمہ لائیو سٹاک اور محکمہ زراعت کے حکام،ای ایف پی، این ٹی یو ایف، پی ڈبلیو ایف کے نمائندے، مقامی سول سوسائٹی نے مباحثوں میں فعال طور پر حصہ لیا اور خاص طور پر کپاس کی پیداوار سے وابستہ دیہی کمیونٹی نے لیبر قانون سازی کے پھیلاؤ، اوش کے طریقوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

محکمہ لیبر سندھ کے سابق جوائنٹ ڈائریکٹرز گلفام نبی میمن اور اشرف علی نقوی اور ریسورس پرسنز نے سیمینارز میں اپنی پیپریزنٹیشن کے ذریعے شرکاء کو آئینی حقوق اور قانون سازی سے آگاہ کیا۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے نیشنل پروجیکٹ کوآرڈینیٹر اعجاز احمد نے شرکا ء کو آئی ایل او کے مینڈیٹ اور سہ فریقی کے بارے میں آگاہ کیا۔ پروجیکٹ کے تحت تیار کردہ مطبوعات بھی فراہم کی گئیں تاکہ شرکاء کو ایف پی آر ڈبلیو اور اوش سے متعلق طریقوں کے بارے میں ان کی آگاہی کو بڑھایا جاسکے۔

شرکاء نے سوشل اکنامک اور ثقافتی چیلنجزکواجاگر کیا جن کا انہیں سامنا ہے جس میں کپاس کی بیجوں م کھاد کی معیاری پیداوار میں کمی شامل ہے جس میں مڈل مین کی مداخلت کے باعث چائلڈ لیبر، بچوں کی تعلیم، بے روزگاری اور کم اجرت، چھٹیاں، اوورٹائم کے خاتمے جیسے امتیازی سلوک اور غربت وغیرہ شامل ہیں۔

مشیر ای ایف پی فصیح الکریم صدیقی نے اس موقع پر اسمال لینڈلارڈ ایسوسی ایشن میرپورخاص کے صدر مولا بخش لغاری اور سانگھڑ کے ایک زرعی کارکن نور منگی کی کاوشوں سے ترقی پسند کسانوں اور لینڈ لارڈکی دو ایسوسی ایشنز کوٹ غلام محمد ایگری کلچر ایمپلائرز ایسوسی ایشن اور سانگھڑ ایگری کلچر ایمپلائرز ایسوسی ایشن کا اعلان کیا۔ ایس آی آر اے 2013 کے تحت آجروں کی ان ٹریڈ یونینز کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

ای ایف پی کے نائب صدر ذکی احمد خان نے زوم کے ذریعے سے سیمینارز سے خطاب کرتے ہوئے اسمال لینڈلارڈ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کی اور یقین دلایا کہ ای ایف پی ان کی ایگری کلچر کمیونٹی میں کام کے حالات اور زرعی پیداوار میں بہتری لانے کے لیے اپنا بھر پور تعاون کرے گی جو زرعی شعبے میں نمو اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی۔

ای ایف پی کی ٹیم میں شامل محمد اکرم مرتضیٰ نقوی، محمد حسن اور نصرت جہاں نے ان سیمینارز کے انعقاد میں معاونت فراہم کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *