واٹر بورڈ کے کرپٹ ترین افسر کو S-III کا PD بنا دیا گیا

کراچی : کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے اہم ترین سیوریج کا منصوبہ ایس تھری کے پروجیکٹ ڈائریکٹر چھ روز بعد ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا ۔

نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر اویس ملک ( گریڈ 19) کو تعینات کیا گیا ہے ۔ وہ سپرٹینڈنٹ انجینئر ضلع غربی کے علاوہ آر او پلانٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کا عہدہ بھی بیک وقت فرائض ادا کریں گے ۔ ان کا حکمنامہ چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے ۔

مزید پڑھیں: واٹر بورڈ TP-II کالونی میں غیر قانونی تعمیرات شروع

حکم نامہ نمبر (SO1(SGA&CD)-2/7/2015(LG-08) بتاریخ 13 جنوری 2021ء کو جاری کیا ہے ۔ اس بارے میں چیف سیکریٹری سندھ نے صوبائی سیکریٹری بلدیات نجم احمد شاہ کے دستخط سے جاری ہونے والے حکم نامہ SOVII(LG)/2-8/2020 بتاریخ 7 جنوری 2021ء کو منسوخ اور واپس لے لیا ہے ۔

جس کے تحت پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس تھری محمد حنیف بلوچ کو تبدیل کر کے K-4 پروجیکٹ کے سپرٹینڈنٹ انجینئر اکرم بلوچ کو تعینات کر دیا گیا تھا ۔ جنہوں نے اپنے عہدہ کا چارج لے لیا ہے اور 6 روز بعد تبدیلی کا حکم نامہ جاری ہوا ہے ۔ اس طرح ایس تھری کے 7 پروجیکٹ ڈائریکٹر تبدیل کئے جا چکے ہیں ۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تبدیلی کی منظوری چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ ، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سے نہیں لی گئی تھی ۔ صوبائی سیکریٹری بلدیات سندھ نجم احمد شاہ نے از خود پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تبدیلی کا حکم نامہ جاری کیا تھا ۔

مذید پڑھیں :ٹوکیو میں جعل سازی پر صحافی عرفان صدیقی پر پاکستان میں مقدمہ درج

مصدق ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں بیرونی مداخلت کی وجہ انتظامی امور میں براہ راست تبدیلی عمل میں آئی ہے اور ایسی طرح مذید تبدیلی کا امکانات بڑھ گیا ہے ۔ ادارے میں تبادلے کا سلسلہ جاری ہے ۔ پروجیکٹ K-4 کا منصوبہ واپڈا کے حوالے جلد ہونے سے اس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اسد ضامن بھی تبدیل کر دیا جائے گا ۔ سندھ حکومت کی جانب سے پانی کے فلٹریشن پروجیکٹ بند ہونے پر اس کے ڈائریکٹر قادر بلوچ کی خدمات بھی واپس لے لیا گیا ۔

واضح رہے کہ ایس تھر ی کراچی کے سیوریج اور گندھا آلودہ پانی کو ٹرٹیمنٹ کا کراچی گریٹر منصوبہ ہے ۔ جس میں TP-1 ہارون آباد شیر شاہ ، TP-2 محمود آباد ، TP-3 ماری پور ہاکس بے کا منصوبہ کے تحت ٹرٹیمنٹ کرنا تھا ۔ محمود آباد میں زمین پر قبضہ کی وجہ تعمیرات شروع نہ ہو سکا ۔

ماری پور میں ایک 77 ملین گیلن یومیہ کا ٹرٹیمنٹ دو سال قبل شروع ہوا تھا ۔ اب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ بند ہو گیا ہے TP-1,TP-3 منصوبہ پر تعمیراتی کام فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کام گزشتہ ڈیڑھ سال سے بند ہے ۔ اس منصوبہ میں TP-4 کورنگی کریک شروع ہونے سے قبل سندھ حکومت نے ایک حکم نامہ کے تحت یہ منصوبہ پبلک پارٹنر شپ یونٹس کے حوالے کر دیا ہے ۔

مزید پڑھیں : لیاری میں سیوریج کا مسئلہ حل کیا جائے : داخدا اشرف ذئی بلوچ

اس کے علاوہ یونٹ کو واٹر بورڈ کے بجلی گھر کا منصوبہ دیا گیا تھا ۔ جو تاحال کاغذی کارروائی سے آگے نہ بڑھ سکا ۔ ایس تھری کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تبدیلی سے سندھ حکومت کراچی کے اہم تعمیراتی منصوبہ میں غیر سنجیدگی یعنی عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے ۔

منصوبہ میں تعطل کی وجہ فنڈز کی عدم فراہمی ہے جس پر توجہ دینے کے بجائے تبادلے تقرری کیا جا رہا ہے ۔ نئے حکم نامہ میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد حنیف بلوچ کی تعینات کے بجائے او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے ۔ ان کی تقرری کا حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا ہے ۔

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس تھری نے سیکریٹری بلدیات سندھ نجم شاہ کو منصوبہ پر کام کے لئے پانچ ارب روپے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور ٹھیکہ دار پاک اوسس نے گذشتہ دو سال سے فنڈز کی عدم فراہمی پر تعمیراتی کام بند رکھا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *