اندرونی دہشت گردی نے سپر پاور کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا

رپورٹ : علی ہلال

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایمرجنسی کا نفاذ ،واشنگٹن میں تعینات فوجیوں کی تعداد افغانستان میں امریکی فورسز سے بڑھ گئی ۔

2001ء سے اسلامی دنیا کے دو ممالک پر خونریز جنگ مسلط کر کے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے سپر پاور امریکہ کو اندرونی دہشت گردی نے لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ امریکہ نے اکتوبر 2001ء میں افغانستان میں طالبان کی حکومت پرحملہ کر کے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی ۔

دولت وطاقت کے نشے سے سرشار امریکی اداروں نے اس جنگ کے ساتھ پوری اسلامی دنیا کو وارننگ دے دی کہ وہ ان کے دوست یا دشمن میں سے کسی ایک کیٹگری کو اختیار کریں ۔ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان میں جس وحشیانہ سفاکی کا مظاہرہ کر کے نہتے انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے ۔خواتین کو بے عزت کیا ہے ۔ بچوں کو قتل کیا ہے اور املاک تباہ کرنے کے ساتھ جس انداز سے افغانی وسائل لوٹے ہیں وہ ایک مستقل اسٹڈی ہے ۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ افغان وار میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں کیونکہ اس حوالے سے درست یہ اعداد و شمار کبھی شائع نہیں ہوئے ۔ البتہ جنوری 2019 میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ صرف 2014 سے اب تک 45 ہزار افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر رپورٹوں کے مطابق 2001 میں امریکی یلغار کے بعد سے ایک لاکھ سے زائد انسان امریکی بموں اوربارود کی نذر ہو گئے ہیں ۔

مذید پڑھیں :بیت المقدس پر قبضہ کرنے والوں کی حمایت ذہنی پستی ہے : JUI گلگت

فروری 2019 میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 32000 شہری ہلاک ہوئے ہیں ۔ براون یونیورسٹی میں قائم واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے تخمینے کے مطابق طالبان کے 42 ہزار جنگجو مارے گئے ہیں۔ اسی انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 2001 سے افغانستان، پاکستان، عراق اور شام میں ہونے والی جنگوں پر امریکا کی 5.9 ٹریلین ڈالر لاگت آئی ہے ۔

جب کہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق امریکہ نے صرف افغان جنگ پر 500 ارب ڈالر کی رقم پھونک دی ہے ۔ امریکہ نے گوانتا ناموبے کے جزیرے میں ایک بدنام زمانہ عقوبت خانہ بنایا ۔ جہاں دنیا بھر سے امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی القاعدہ اور دیگر عسکری تنظیموں سے عملی ،نظریاتی اور فکری و مالی وابستگی کے نام پر ہزاروں انسانوں کو گرفتار کر کے پہنچا دیا ۔

امریکہ نے عالمی میڈیا پر گوانتا ناموبے کے عقوبت خانے کے دروازے کھول دیئے تاکہ دنیا میں امریکہ کے دشمن امریکی ظلم و ستم اور طاقت و جبروت کی اس بد ترین اورخوفناک نشانی کو دیکھ سکے ۔ 19 مارچ 2003ء کو امریکہ نے عراق پرحملہ کیا ۔یکم مئی 2003ء کو عراق پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ۔

امریکہ نے عراق پر حملے کے لئے 1 لاکھ 45 ہزار فوجی بھیجے ۔ 62 ہزار برطانوی فوجیوں نے عراق جنگ میں حصہ لیا ۔ جب کہ آخر میں یہ تعداد 3 لاکھ تک پہنچ گئی ۔ عراق پرحملے کی قیادت کرنے والے امریکی جنرل ٹومی فرانکس نے ایک پریس کانفرنس میں نہایت غرور کے ساتھ صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس لاشیں گننے کے لئے وقت نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں :عامر لیاقت حسین کا انتہائی خطرناک نشہ میں مبتلا ہونے کا انکشاف

امریکن یونیورسٹی جان ہاپکنز کی رپورٹ کے کے مطابق عراق پر امریکی حملے میں 6 لاکھ 54 ہزار انسان لقمہ اجل بنے ۔جن میں سے 6 لاکھ انسان مزاحمت کے بغیر تشدد اور امریکی کارروائیوں میں بغیر کسی ردعمل کے مارے گئے ۔ 2007ء میں برطانوی ادارے "Opinion Research Business نے اپنی سروے رپورٹ میں بتایا کہ عراق میں امریکی جنگ کے دوران 10 لاکھ 33 ہزار انسان مارے گئے ۔

اس کے بعد ایک اور سروے رپورٹ میں عراق میں امریکی جنگ سے مارے جانے والوں کی تعداد 24 لاکھ بتائی گئی ہے ۔امریکہ نے 2011 میں عراق میں جنگ کے خاتمے اور فوجی انخلا کا رسمی اعلان کر دیا مگر اس دوران امریکہ نے سینکڑوں ٹنوں کی تعداد میں عراقی سونا اور دیگر ذخائر لوٹ کر امریکہ پہنچا دئے ۔

ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں پیدا ہونے والی نایاب کھجوروں کے ہزاروں پو دے بھی امریکہ نے نہ صرف نکال کر اپنے ملک اسمگل کئے بلکہ عراق میں اس نسل کی تمام کھجور کو کیمیکل کے ذریعے ختم کر دیا ۔ امریکہ نے عراق میں رقبے اور مالی لاگت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا سفارت خانہ تعمیر کیا ۔ یہ روم میں واقع کھیتولک عیسائیوں کے روحانی مرکز ویٹی کن سٹی سے بھی رقبے میں بڑا ہے ۔ اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر سے بھی اس کا رقبہ چھ گنا بڑا ہے ۔

عالمی سطح پر دباﺅ پر امریکہ نے اس سفارت خانے میں 16 ہزار اسٹاف ظاہر کیا ۔ یہ دنیا کا سب سے زیادہ پر امن اور محفوظ سفارت خانہ تھا ۔ جس سے کئی کلو میٹر کے فاصلے میں کسی قسم کی حربی ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن نہیں تھا ۔ امریکہ نے عراق کی ابو غریب جیل میں ہزاروں عراقیوں کو انتہائی بدترین حاالت میں ڈال کر وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایا ۔

مذید پڑھیں :80 گزاور 120 گزکےمکانوں کےنقشوں پرون ونڈوکی سہولت ختم

جن میں سے ایک بڑی تعداد نفسیاتی صلاحیت کھو بیٹھی ۔ امریکی فوجیوں کی اہانت آمیز تلاشی کے باعث سینکڑوں تعلیم یافتہ عراقی خواتین ہمیشہ کے لئے ملک چھوڑ گئیں ۔ سال 2018ء میں امریکہ نے اپنے بدترین حریف افغان طالبان کے ساتھ قطر کے تعاون سے مذاکرات شروع کئے ۔ مذاکرات کے ان ان طویل ادوار میں امریکی وزیر خارجہ اور اعلی مذاکرات طالبان کے ان ذمہ داروں کے ساتھ سرجو ڑ کر بیٹھ گئے جنہیں گرفتار کرنے کے بعد امریکہ نے جسم کے تمام بالوں اور کپڑوں سے فارغ کر دیا تھا اور انہیں ہاتھ لگانے کو امریکی اپنے لئے اہانت تصور کرتے تھے ۔

امریکہ نے طالبان چھ ہزار قیدیوں کو رہائی دی ۔ گوانتا ناموبے سے تمام طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا ۔ طالبان کے تمام راہنماﺅں کے نام سفری پابندیوں کی لسٹوں سے خارج کر دیئے ۔ امریکہ نے طالبان کو قانونی اور شرعی گروپ کے طور پر تسلیم کر لیا اور انہیں افغانستان کے حقیقی نمائندوں کی حیثیت سے پروٹوکول دے دیا ۔

امریکہ نے فروری 2020ء میں دوحہ میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ بھی کیا اور مئی 2021ء تک افغانستان سے اپنی تمام فوجیں نکالنے کی یقین دہانی بھی کروائی ۔عالمی رپورٹوں کا مطالبہ کر کے یہ تجزیہ کرنا مشکل نہیں کہ دسمبر 2019ء میں عراق میں شروع ہونے والے حالات سے اندازہ لگانا مشکل نہیں رہا کہ اب بازی پلٹ گئی ہے ۔ عراق میں ایران کے تعاون سے بنے ہوئے عسکری گروپوں کے الائنس الحشد الشعبی نے امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات پرحملے شروع کر رکھے ہیں ۔

31 دسمبر 2019ء کو دنیا کے سب سے بڑے امریکی سفارت خانے میں گھس کر ہزاروں افراد نے امریکی غرور کا سر کچل دیا ۔سفارت خانے کے اندر توڑ پھوڑ کیا اور آگ لگائی ۔ امریکہ کی خیرات سے بننے والی کٹھ پتلی عراقی حکومت کے پارلیمنٹ نے امریکہ نے فوجی انخلا کا مطالبہ کیا جب کہ عوامی سطح پر امریکہ کو غیر معمولی رسوائی کا سامنا ہے ۔

مذید پڑھیں :جہات || پاکستان ہے یا انوری کا گھر …

امریکہ نے دسمبر میں عراق میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس کی بندش کا قوی امکان ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کو آج عراق میں انہیں گروپوں کے ہاتھوں رسوائی کا سامنا ہے ۔ جنہیں امریکی سرپرستی میں بنایا گیا تھا ۔آج وہیں تنظیمیں امریکی عزت کاجنازہ نکالنے کے لئے میدان میں ہیں ۔

معاملہ صرف عراق تک محدود نہیں بلکہ 6 جنوری کو دنیا بھر کی آزادی کنٹرول کرنے کے ادارے کانگریس پر چڑھائی ہوئی ۔ چڑھائی کرنے والے کوئی امریکی باشندے تھے ۔ پراوئڈ بوائز نامی متشدد نسل پرست تنظیم اس دخل اندازی کی قیادت کر رہی تھی ۔ جس کی سرپرستی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں ۔ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں مسلح تنظیم کو میدان میں آنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ملک کے اوپر خانہ جنگی کے سائے پھیلے ہوئے ہیں ۔

ان حملہ آوروں نے امریکی کانگریس سمیت پچاس ریاستوں میں حکومتی تنصیبات کے احاطوں میں بم اور بارودی مواد نصب کیا ہے اور امریکی سی آئی اے ، سیکرٹ سروس اور ایف بی آئی اپنی رپورٹوں میں تاکید کر چکی ہے کہ امریکہ دوسری مرتبہ خانہ جنگی کے خطرے سے دو چار ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *