چنڑے (قسط بارہ)

تحریر : علی ہلال

وہ پہاڑی علاقہ شدید سردیوں کی لپیٹ میں تھا ۔ سانپ کی طرح بل کھاتے پہاڑی راستوں پر برف جمی ہوئی تھی ۔ ہر سمت ٹھنڈی اور یخ ہواوں کا راج تھا ۔ مٹی کے گھارے اور پتھر سے بنی اس مسجد کے اندرونی ہال کے عین وسط میں کوئلے کی انگیھٹی لگی تھی ۔ جس کے اندر بھری ہوئی شاہ بلوط کے تناور درختوں کی سرخ رنگ کی موٹی لکڑیوں پر جلتی ہوئی آگ کا دھواں چھت میں نکلی ہوئی چمنی سے نکل رہا تھا ۔

مسجد میں قالین کی جگہ بروزہ نامی پہاڑی گھاس بچھی ہوئی تھی جو تپش کے ساتھ ایک عجب قسم کی نرمی کا احساس بھی دے رہی تھی ۔ گاوں میں رات کا کھانا مغرب کے بعد مسجد میں کھانے کی روایت تھی ۔ والد مرحوم اور گاوں کے ایک معزز حاجی صاحب اس محفل کے مرکزی منتظمین ہوا کرتے تھے جبکہ دیگر افراد کی تعداد موقع و مناسبت سے گٹتی بڑھتی رہتی تھی ۔

گائوں میں ایک خصوصی روایت شب برات سے جڑی ہوئی تھی ۔ اس سے دو دن قبل گائوں کے بچے پرانے کپڑوں سے چھوٹے چھوٹے گیند بناکر انہیں مٹی کے تیل میں رکھتے تھے ۔ شب برات کو مغرب کے بعد چھتوں پر چڑھ کر ان گیندوں کو آگ دکھاتے ۔ بڑھکتے شعلوں میں لپٹے ہوئے گیند کو کھلے ہاتھ سے پکڑ کر فضا میں اچھالتے جسے پکڑنے کے لئے ہرکوئی دوڑتا ۔

اس گیند کو مقامی زبان میں ’’ شرشرہ کئی ‘‘ کہا جاتا تھا ۔ یہ بٹاخوں کا کلاسیکل روپ تھا ۔ اب نہ تو شر شرہ کئی رہے اور نا ہی ان کے بنا کر اچھالنے والے ۔

مذید پڑھیں :مولانا عبدالخبیر کا فواد چوہدری – مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ساتھ چلنے کا انوکھا عزم

ماہ رمضان کا چاند چڑھتے ہی گائوں کی رونقوں میں ایک دل آویز اضافہ ہوجاتا تھا ۔ مفتی منیب اور پوپلزئی صاحبان کے نام سے بے خبر گائوں کے سادہ لوح باشندے عصر پڑھتے ہی چاند دیکھنے کے لئے سرمہ لگا کر چھتوں پر بیٹھک لگا لیتے تھے ۔ چاند نظرآتے ہی گولیاں چلنے کی آوازوں سے علاقہ گونج اٹھتا ۔

مرد اپنے گھروں میں مسجد کے لئے کھانا بنانے کی ہدایت کرکے مسجد کا رخ کرتے ۔رمضان میں بغیر کسی عذر کے گھر پر افطاری کرنا مردانہ شان کے خلاف تھا لہذا ہر کسی کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کے گھر سے بروقت اورمناسب کھانا مسجد پہنچے ۔

مسجد میں ماہ رمضان میں ایک طویل دسترخوان بچھتا۔ جس پر تمام گھروں سے لایا ہوا کھانا چن دیا جاتا تھا ۔ کون کیا لایا اس بارے کبھی پتہ نہ چلتا ۔ کھانا لگانے والے کمال ہنر مندی کے ساتھ اطباق (ڈشوں) کو تقسیم کرکے رکھتے ۔

کھانا نماز سے قبل ہوتا تھا ۔ نماز کے بعد چائے کی باری ہوتی تھی ۔ نماز مغرب کے بعد مسجد میں سلور کی کھیتلیوں اور تھرماسوں کی چویل قطاریں سج جاتی تھیں ۔ نوجوان لڑکے دھلی ہوئی صاف پیالیوں میں چائے بھر بھر کر حاضرین میں لبریز کپ تقسیم کرتے ۔

اس دوران فضائل اعمال کا درس ہوتا یا کسی فقہی مسلے پر بحث ہوتی ۔ مسجد میں کھانا اور چائے پہنچانے کی ذمہ داری بچوں اور نوجوانوں کی ہوتی تھی ۔ سو ایک عرصے تک گھر میں یہ ذمہ داری میرے سر تھی ۔ اس رمضان میں ابھی ہماری مسیں نہیں بھیگی تھیں ۔

مذید پڑھیں :چنڑے ( قسط گیارہ )

اس سے قبل ہمیں امامت کے مصلی پر کھڑا ہونے کا تجربہ بھی نہیں تھا مگر ہم دو ساتھیوں نے تراویح میں قرآن کریم سنانا تھا۔ گاوں کی روایت کےمطابق تراویح میں ختم قرآن کا دورانیہ چھ راتوں سےزیادہ نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔ گاوں دیہات کے باشندوں کا خیال ہوتا ہے کہ جلد ازجلد قرآن کی سماعت مکمل ہو تاکہ اپنے کاموں کے لیے فارغ ہوں ۔

اس طرح سے ہم نے اس رمضان میں زندگی کا پہلا مصلی سنایا ۔ اس کے بعد ایک دوسرے گائوں کی مسجد میں دوسرا مصلی سنانے کی بھی سعادت حاصل ہوئی ۔اس کے بعد کئی سالوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا جو بعد ازاں درجہ خامسہ کے بعد جاکر منقطع ہوگیا۔

مصلی سنانا مشکل تو نہیں البتہ اس کے دوران کھانے پینے میں احتیاط ایک بڑی قربانی ہوتی ہے ۔ جب تک مصلی سنایا مغرب کو کھانا نہیں کھایا ۔ خالی چائے پر اکتفا کرکے تراویح کے بعد کھانا کھاتے تھے ۔

ہمارے علاقوں میں اس وقت حفاظ کی تعداد نہایت کم تھی ۔تراویح میں تیز پڑھنا اور کم وقت میں زیادہ پارے پڑھنا ایک اچھے حافظ کی نشانی ہوا کرتی تھی ۔ جس میں پیربابا کے ایک تبلیغی مدرسہ کے حفاظ کا ریکارڈ تھا ۔اس مدرسے کے ایک حافظ نے ایک رکعت میں ستائیس پارے پڑھ کرحفاظ پر اپنی دھاگ بٹھائی ہوئی تھی ۔

اب گائوں میں حفاظ کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے ۔ ہردوسرے گھرمیں حافظ ہے مگر افسوس کہ مصلی سنانے کی روایت دم توڑ چکی ہے اور اس میں عوام کا جوش وخروش قائم نہیں رہا ۔ گزرتے وقت کے ساتھ گاوں میں بے شمار جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہوگئی ہیں ۔ گھارے کے کچے مکانات کی جگہ سیمنٹ کے پکے مکانات نے لے لی ہے۔ گاوں میں مساجد کی تعداد بھی بڑھی ہے ۔ محلہ محلہ اللہ کے گھر کی تعمیر کی ہوئی ہے ۔

جہاں عبادت کرنے والوں کی تعداد تو نہیں بڑھی البتہ مساجد کی کثرت کے ساتھ لوگوں کے ایک دوسرے سے ملنے ملانے کے مواقع ضرور کم ہوگئے ہیں ۔ جوڑ کے بجائے توڑ اور نفرتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ مسجد یں پکی ہیں مگر ان کےساتھ نمازیوں کا رشتہ کچا ہوگیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *