اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مسئلہ( چھٹی قسط)

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مسئلہ( چھٹی قسط)
تحریر:بشیر احمد قریشی
یہودیوں کے مقدس صحائف کے مطابق دریائے اردن کی مشرقی جانب واقع علاقہ بھی جس میں بیشتر اردن شامل ہے ارض اسرائیل کا حصہ ہے۔

یہودی عقائد کے مطابق خدا وند نے مصر سے نکلنے والے بنی اسرائیل کو ” ارض کنعان ” عطا کر دی ہے ۔

یہودی روایت میں اس علاقے کو ” مصر سے جلا وطن ( یہودی ) ہونے والوں کی سرحدیں ” کہا جاتا ہے۔ارض موعودہ کو انگریزی اصطلاح میں promised land یعنی وعدہ کی گئی زمین ۔

یہودیوں کی مقدس کتاب میں ہے کہ ارض اسرائیل کو زمانہ آخر یعنی End time میں یہودیوں کے بارہ قبیلوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا۔

یہ وہ علاقے ہونگے جس کی مشرقی سرحد دریا اردن اور مغربی سرحد پر مصر کی ندی The Brook of Egypt یوں ان سرحدوں میں جدید اسرائیل ، مقبوضہ علاقے ، جدید مصر کا کچھ حصہ ، جنوبی لبنان اور شام کا جنوب مغربی سرا آجاتا ہے۔

یہ کوئی افسانوی باتیں نہیں بلکہ حقیقت ہے اور اب تو نیٹ پر یہودیوں کا تیار کردہ ان علاقوں پر محیط گریٹر اسرائیل کا نقشہ موجود ہے اور کوئی بھی شخص گوگل کر کے استفادہ کر سکتا ہے ۔

درج بالا معلومات تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ارض اسرائیل یہودیوں کا مذہبی عقیدہ ہے اور وہ اسے حاصل کرنے کے لئے دنیا بھر میں فساد برپا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے یہودی فلسطین کو صفحہ ہستی سے مٹا کر ارض اسرائیل کو ممکن بنانا چاہتے ہیں ۔

یاد رہے پہلے یہودی دنیا کے مختلف حصوں میں آباد تھے ۔ ( اور موجودہ اسرائیل و فلسطین پر پہلے عیسائیوں نے قبضہ جمالیا اور پھر مسلمانوں نے حکومت قائم کرلیا تھا ) ۔

مختلف ملکوں میں منتشر ہونے کے باوجود یہودی ارض اسرائیل کے حصول کے لئے عیسائیوں کے خلاف مشترکہ سازشیں کیا کرتے تھے ۔

عیسائیوں نے یہودیوں کے ان حرکتوں کی وجہ سے ان پر زمین تنگ کر دی تھی۔ ویسے بھی یہودیوں کی جانب سے حضرت عیسیٰ کی مخالفت عیسائیوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔

عیسائی حکمرانوں نے یہودیوں کو چین سے جینے نہیں دیا ، جرمنی کے ہٹلر نے تو ان کے سازشی عظائم سے تنگ آ کر یہودیوں کی نسل کشی شروع کر دی تھی جسے یہودی ہیلو کاسٹ کا نام دیتے ہیں ۔

یہودیوں نے 1881 میں عیسائیوں کے مذہبی تشدد سے بچنے کے لئے خفیہ طور پر دوبارہ فلسطین کے علاقوں میں آ کر آباد ہونا شروع کر دیا ۔

یہودیوں کی اس نقل مکانی کو عبرانی زبان میں ایلیاہ کہا جاتا ہے۔

یہودی سمجھتے تھے کہ ان کے مظالم کے پیچھے ریاستی مذہب یعنی عیسائی مذہب کار فرما ہے اور جب تک ریاست کو کلیسا سے الگ نہیں کیا جاتا یہودی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

اور اپنے ٹارگٹ تک پہچنے کے لئے ایک منظم طریقے سے سے یہودیوں نے پڑھے لکھے طبقے کو فعال کیا جنہوں نے عیسائیوں کی نئی نسل کو دنیا کے نئے فکر سے فلسفے سے روشناس کروایا اور کبھی کمیونیزم، کبھی سوشلزم اور کبھی سرمایہ دارانہ نظام کا ایسا شوشہ چھوڑا کہ بغاوتوں نے جنم لینا شروع کر دیا اور آخر کار ریاست میں مذہبی مداخلت کا خاتمہ ہونے لگا ۔یوں یہودی اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہونے لگے۔

جاری ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *