پنشن دینے والے EOBI نے اپنے ہی ملازم کی پنشن بند کر دی

کراچی : وزارت سمندر پار پاکستانی اور ترقیاتی انسانی وسائل اسلام آباد کے ذیلی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) میں آئے دن بڑے پیمانے پر کرپشن، لاقانونیت اور بے قاعدگیوں کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں ۔

تاپم اس مرتبہ محنت کشوں کی پنشن کے ادارہ میں خلاف ضابطہ طور پر قابض ڈیپوٹیشن انتظامیہ نے انتہائی سنگدلی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی ایک ضعیف العمر اور شدید بیماری میں مبتلا ریٹائرڈ ملازم کی بلا جواز پنشن بند کر کے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے ۔

ای او بی آئی کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد ای او بی آئی ایمپلائیز پنشن اینڈ گریجویٹی ریگولیشنز مجریہ 1987 کے تحت تاحیات پنشن ادا کی جاتی ہے ۔ پنشن کی بندش کا شکار سابق ڈائریکٹر آئی ٹی ڈپارٹمنٹ شیخ محمد یونس کا شمار ای او بی آئی کے بانی ملازمین میں کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے اگست 1979 میں ادارہ میں جونیئر افسر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا تھا اور رفتہ رفتہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے ڈائریکٹر کے عہدہ تک پہنچ گئے تھے ۔ ریٹائرمنٹ کے وقت شیخ محمد یونس ای او بی آئی انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ صدر دفتر میں سینئر پروگرامر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ شیخ محمد یونس نے اپنی تکنیکی مہارت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت ادارہ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق تشکیل دینے اور ڈیٹا بیس کی ترقی کے لئے بنیادی کردار ادا کیا تھا ۔ اسی لئے انہیں ادارہ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کا معمار بھی کہا جاتا ہے ۔

شیخ محمد یونس کی پنشن منظوری کا آفس آرڈر جس میں پہلے نمبر پر ان کا نام موجود ہے

شیخ محمد یونس 10 مارچ 2010 کو  ادارہ میں 31 برسوں تک شاندار خدمات انجام دینے کے بعد ملازمت سے ریٹائر ہو گئے تھے اور ای او بی آئی نے حسب ضابطہ آفس آرڈر نمبر 252/2011 بتاریخ 2 اگست 2011 کے ذریعہ شیخ محمد یونس کے لئے ماہانہ پنشن  کی منظوری دیدی تھی ۔ ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصہ بعد شیخ محمد یونس یاد داشت سے محرومی سمیت مختلف پیچیدہ امراض کا شکار ہو گئے تھے اور ڈاکٹروں نے ان میں Dementia کی بیماری کی تشخیص تھی ۔ جس میں انسان اپنے ہوش و حواس سے بالکل بیگانہ ہو جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں :مزمل کامل کا EOBI میں بڑھتا ہوا اثر محنت کشوں کے حق پر ڈاکہ : پہلی قسط

اس بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد شیخ محمد یونس سخت نگہداشت میں اپنے گھر ہی میں محدود زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ چند برس قبل اہل خانہ کی نظر چوک جانے کے باعث وہ گھر سے کہیں نکل کر لاپتا ہو گئے تھے اور کئی دنوں کی تلاش بسیار کے بعد ان کا سراغ ملا تھا ۔ جب سے شیخ محمد یونس کو انتہائی نگرانی میں گھر کے ایک حصہ تک محدود رکھا گیا ہے اور اہل خانہ ہر دم ان کی نگرانی اور نگہداشت میں لگے رہتے ہیں ۔ شیخ محمد یونس کھانے پینے، لباس، غسل اور حوائج ضروریہ کے لئے بھی اہل خانہ کے محتاج ہو گئے ہیں ۔

تاہم شیخ محمد یونس کی زندگی میں اس دکھ بھری صورت حال کے باوجود ای او بی آئی کی موجودہ انتظامیہ کی ہدایت پر نزہت اقبال ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ نے انتہائی بدنیتی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچانک ایک آفس آرڈر نمبر 212/2019 بتاریخ 19 دسمبر 2019 کے ذریعہ ان کی پنشن بند کر دی ۔ جس کے باعث  شیخ محمد یونس کے اہل خانہ سخت ذہنی کرب اور مالی پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔

نزہت اقبال کی جانب سے شیخ محمد یونس کی اہلیہ کے نام خط میں پنشن کی بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا ۔

 

اچانک پنشن بند ہو جانے کے باعث انہیں شیخ محمد یونس کی دیکھ بھال کے لئے رکھے گئے میڈیکل اٹینڈنٹ کو بھی فارغ کرنا پڑا اور ان میں شیخ  محمد یونس کے علاج و معالجہ کے لئے مہنگی ادویات خریدنے کی سکت بھی باقی نہ رہی ہے ۔ اس ناگفتہ بہ صورت حال کے پیش نظر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس نے جب ادارہ کی انتظامیہ سے اپنے شوہر کی پنشن بند کرنے کی وجوہات جاننے کے لئے رجوع کیا تو نزہت اقبال نامی ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آر ڈپارٹمنٹ نے اپنے خط میں یہ عجیب و غریب انکشاف کیا کہ شیخ محمد یونس کو غیر قانونی طور سے پنشن جاری کی گئی تھی ۔

مزید پڑھیں :من پسند افسران کیلئے منعقدہ EOBI کی DPC متنازعہ ہو گئی

چونکہ ان کی پنشن کا کیس بورڈ آف ٹرسٹیز سے منظور نہیں کرایا گیا تھا ۔ لہذاء ان کی پنشن بند کر دی گئی ہے ۔ ای او بی آئی انتظامیہ کے اس عذر لنگ پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنشن کیس کو بورڈ آف ٹرسٹیز کے سامنے منظوری کے لئے پیش کرنا ای او بی آئی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ ریٹائرڈ ملازم شیخ  محمد یونس کی ؟

دوسرے یہ کہ قوانین کے تحت سرکاری ملازمین کو جو سہولت ایک بار فراہم کر دی جائے وہ کسی صورت واپس نہیں لی جا سکتی ۔ خصوصاً سپریم کورٹ آف پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ نے اپنے متعدد فیصلوں میں پنشن کو سرکاری ملازمین کا بنیادی حق قرار دیا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد فوری طور پر پنشن کی ادائیگی کے واضح احکامات دئیے ہیں ۔

اپنے شوہر کی پنشن کی مسلسل بندش اور ای او بی آئی انتظامیہ کی بے حسی سے تنگ آ کر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس نے جو خود بھی بزرگ خاتون اور مختلف امراض میں مبتلا ہیں کسی نہ کسی طرح انتظام کر کے اپنے بیمار اور محتاج شوہر شیخ محمد یونس کے ہمراہ ذاتی طور پر چیئرمین ای او بی آئی اظہر حمید سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں ادارہ کی جانب سے اچانک پنشن بند ہو جانے کے مسئلہ سے آگاہ کرتے ہوئے شیخ محمد یونس کی جسمانی اور طبی کیفیت اور درپیش مالی پریشانیوں کی حالت زار بیان کی اور پنشن بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر چیئرمین نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لی کہ شیخ محمد یونس کی پنشن کی بحالی کا معاملہ ان کے اختیار سے باہر ہے اور وہ اس معاملہ کو منظوری کے لئے بورڈ آف ٹرسٹیز کے آئندہ اجلاس کے سامنے پیش کریں گے ۔

مذید پڑھیں :مُزمل کامل کی EOBI میں غضب کرپشن کی عجب کہانی : تیسری قسط

حیرت انگیز طور پر ان کا یہ وعدہ ادارہ کے ملازمین سے کئے گئے دیگر وعدوں کی طرح آج تک ایفاء نہ ہو سکا ۔ کیونکہ اس ملاقات اور وعدہ کے بعد ادارہ کے بورڈ  آف ٹرسٹیز کے کئی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں ۔ لیکن انتظامیہ کی جانب سے ان اجلاسوں میں ادارہ کے ایک سینئر ضعیف العمر اور شدید علیل ریٹائرڈ ملازم شیخ محمد یونس کے پنشن کیس کو پیش کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی گئی ۔

جب کہ اس کے برعکس چیئرمین اظہر حمید نے مستقبل قریب میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ای او بی آئی میں مزید 3 سال کے لئے اپنی نئی تقرری کے لئے بورڈ آف ٹرسٹیز کا ہنگامی اجلاس بلوا کر اس کی منظوری ضرور حاصل کر لی ہے ۔ جس سے ای او بی آئی انتظامیہ کی سوچ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

اس وقت ای او بی آئی میں ہر کلیدی عہدہ پر اپنے زبردست اثر و رسوخ کی بدولت باہر سے ڈیپوٹیشن پر آ کر تعینات ہونے والے اعلیٰ افسران کا غلبہ ہے اور مڈل مینجمنٹ سال 2007 اور سال 2014 میں بھرتی ہونے والے مخصوص سوچ کے حامل نان کیڈر اورجونیئر افسران پر مشتمل ہے ۔ جو اپنی منفی سوچ کے باعث ادارہ کے پرانے ملازمین سے سخت چپقلش رکھتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

مذید پڑھیں : ای او بی آئی انوسٹمنٹ کمیٹی کا 259واں اجلاس

انتظامیہ کی جانب سے اس امتیازی پالیسی کے باعث ادارہ کے پرانے افسران اور ملازمین میں سخت بد دلی اور مایوسی پائی جاتی ہے ۔ ای او بی آئی کے چیئرمین کی وعدہ خلافی سے تنگ آ کر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس نے حصول انصاف کے لئے ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی، ادارہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر اور وفاقی سیکریٹری منسٹری آف اوورسیز پاکستانی اینڈ ہیومن ریسورسز ڈیولپمنٹ اسلام آباد اور وفاقی محتسب اسلام آباد کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ لیکن چیئرمین ای او بی آئی کی طرح سیکریٹری صاحب نے تو مجبور و بیکس شیخ محمد یونس کی فریاد کا جواب تک دینا گوارہ نہ کیا ۔

لیکن وفاقی محتسب کراچی آفس نے شیخ محمد یونس کی اہلیہ کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ای او بی آئی کی انتظامیہ اور شیخ محمد یونس کو ذاتی طور پر طلب کر لیا ۔ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ اور مختلف امراض میں مبتلا شیخ محمد یونس اپنی بیمار اہلیہ کے ہمراہ اس امید پر وفاقی محتسب کے ڈائریکٹر کے سامنے پیش ہو گئے کہ شائد ان کے حکم پر ان کی رکی ہوئی پنشن بحال ہو جائے ۔

لیکن وفاقی محتسب کا ادارہ جو سرکاری اداروں سے ستائے ہوئے مظلوموں کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کا دعویدار ہے الرٹ نیوز https://www.alert.com.pk کو موصول ہونے والی دستاویزی ثبوتوں کے مطابق تاحال شیخ محمد یونس کی پنشن کی بحالی کے لئے کسی فیصلہ میں ناکام نظر آتا ہے ۔ اس صورت حال سے مایوس ہو کر شیخ محمد یونس کی اہلیہ نادرہ یونس نے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ ای او بی آئی کے محکمہ کی ترقی میں میرے شوہر کا اہم کردار رہا ہے ۔

مذید پڑھیں :خاتون کو ہراساں کرنے پر کپتان بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

لیکن افسوس آج ہم اپنے بیمار اور محتاج شوہر کی پنشن کے لئے مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں، ای او بی آئی کی بے حس اور سنگدل انتظامیہ نے میرے 70 سالہ ضعیف العمر اور محتاج شوہر کی پنشن بند کرنے کا سنگ دلانہ فیصلہ کر کے میرے شوہر کی ای او بی آئی کے لئے نمایاں خدمات کو  یکسر فراموش کر کے ان کی زندگی خطرہ میں ڈال دی ہے ۔ اس کا مداوا کون کرے گا ۔

نوٹ : شیخ یونس کیس کی مکمل فائل پی ڈی ایف کی صورت میں درج ذیل لنک پر موجود ہے ۔

shaikh younus

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *