لیاری BSMC کے PRO کی سزا پر عملدرآمد کیلئے CS کو خط

کراچی: بینظیر شہید میڈیکل کالج کے پی آر او عذیر لعل کے خلاف تحریک استحقاق کمیٹی کی منظور شدہ سزاؤں پر عملدرآمد کیلئے سیکریٹری سندھ اسمبلی نے چیف سیکریٹری کو خط لکھ دیا۔

بینظیر شہید میڈیکل کالج کے پی آر او عذیر لعل نے چئیرمین قائمہ کمیٹی ورکس اینڈ سروسز ورکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کے خلاف بے بنیاد من گھڑت الزامات لگائے جسے وہ ثابت نہ کرسکے ،سیکریٹری سندھ اسمبلی کا چیف سیکریٹری کو کارروائی کیلئے خط ۔

گزشتہ روز سندھ اسمبلی کے ایوان نے تحریک استحقاق پر چئیرمین کمیٹی غلام قادر چانڈیو کی سربراہی میں دس رکنی کمیٹی کی عزیر لعل کے خلاف کارروائی کیلئے سزاؤں کی منظور کی تھی ۔

مزید پڑھیں :گلستانِ جوہر جرائم پیشہ عناصر کی آماجگاہ بن گیا : بلال غفار

کمیٹی میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو،وزیر پارلیمانی امورسمیت اراکین اسمبلی ،سیکریٹری قانون وصحت اور پرنسپل بینظیر بھٹو شہید کالج بھی شامل تھیں ۔ تحریک استحقاق کمیٹی نے فیصلہ دیاکہ عذیر لعل نے ایم پی اے سید عبدالرشید پر من گھڑت جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر سرکاری ملازم کی حیثیت سے قانون کی خلاف ورزی کی ۔

عذیر لعل کے خلاف تمام آڈیو وڈیو اور دستاویزی ثبوت کی روشنی میں کمیٹی نے سزاؤں کافیصلہ دیا ۔ عذیر لعل کو پی آر او بینظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج کی حیثیت سے دوماہ کیلئے معطل کیا جاتا ہے، تحریک استحقاق کمیٹی کا فیصلہ دیا ہے ۔

دو سالانہ پروموشن یاانکریمنٹ واپس لے لی جائے، تحریری فیصلے کے مطابق  مستقبل میں عذیر لعل کی تقرری بینظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میں نہیں کی جائےگی ،  عذیر لعل کے خلاف جعلی ڈگری ،سیاسی بھرتی اور سرکاری حیثیت میں سیاست کرنے جیسے سنگین الزامات پر محکمہ جاتی انکوائری کی جائے ۔

مذید پڑھیں :مولانا عبدالخبیر کا فواد چوہدری – مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ساتھ چلنے کا انوکھا عزم

محکمہ جاتی انکوائری گریڈ 19سیکریٹری لیول کے افسر سے کروائی جائے، تحریری فیصلے کے مطابق محکمہ جاتی کارروائی فوری کی جائے اور رپورٹ سندھ اسمبلی میں پیش کی جائے تاکہ اگر ضرورت ہو تومزید ڈسپلنری ایکشن کیا جا سکے ۔

مزید خلاف ورزی کرنے پر عزیر لعل کی نوکری ختم کی جا سکتی ہے ۔ عذیر لعل نے 27جون 2020کو میڈیکل کالج میں منعقدہ ایک تقریب میں بے بنیاد الزامات اور نازیبا جملے اور دھمکیاں دیں تھیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *