تحریکِ تحفظِ مساجد و مدارس کا 26 جنوری کو اسلام آباد سے مظاہروں کا آغاز

اسلام آباد:وفاق المدارس العربیہ پاکستان ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولاناقاضی عبدالرشید نے تحریک تحفظ مساجد ومدارس کے دوسرے مرحلے کے آغازکا اعلان کر دیاہے۔26جنوری کو اسلام آباد میں پہلا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔

مولانا قاضی عبدالرشید اور کل جماعتی تحریک تحفظ مساجد ومدارس کے قائدین نے کہا ہے کہ حکومت وقف املاک ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے مساجدومدارس کی آزادی پرقدغن لگانے والی شقیں واپس لے ،ایف اے ٹی ایف کی ا یماءپر مدارس و مساجد کو دیوار سے لگانے کیلئے وقف املاک ایکٹ لایا گیا،انھوں نے کہا اس ایکٹ کے بعد ملک میں مساجدومدارس کے قیام کاسلسلہ رک جائے گا،ہم ون ونڈو آپریشن کے ذریعے رجسٹریشن چاہتے ہیں، ملک بھرکے دینی مدارس ومساجدکے ذمے دران اورعلماءکرام کو وقف املاک ایکٹ پر شدید تحفظات ہیں اوراس ایکٹ کے خلاف ملک بھرکے دینی حلقوں میں شدیداضطراب پایاجاتاہے،

پاکستان میں مدارس و مساجد کو دیوار سے لگانے کیلئے وقف املاک ایکٹ لایا گیا ، مدارس و مساجد کی آزادی سلب کر لی گئی ہے ،مدارس پر ایک پائی بھی خرچ نہ کرنے والے ہم سے کیسے حسابات لے سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر جماعت اسلامی میں پر یس کانفر نس کر تے ہو ئے کیا ، اس موقع پر تحریک تحفظ مساجدومدارس کے سرپرست مولانانذیرفاروقی ،جمعیت علماءاسلام اسلام آبادکے امیرمولاناعبدالمجیدہزاروی ،جماعت اسلامی ک اسلام آباد کے نائب امیر صاحبزادہ ولی اللہ بخاری ،جمعیة اشاعة التوحیدکے مولانااشرف علی ،مرکزی جمعیت اہل حدیث اسلام آبادکے امیرحافظ مقصوداحمد،جمعیت علماءپاکستان کے رہنماءعامرشہزاد،رابطة المدارس کے مولاناقاضی محمداسرائیل ،مولاناخالدحسین ،ڈاکٹرضیاءالرحمن امازئی ،اہل سنت والجماعت کے حافظ نصیر احمد مولاناعبدالرحمن معاویہ ،قاری عبدالکریم ،مولانامحمدثناءاللہ غالب ،مولاناخطیب مصطفائی ،مولاناخلیق الرحمن چشتی ،مولاناعبدالقدوس محمدی ،مولاناپیر طاہر سلیم نقشبندی,ایمایس او کے مولانا بلال عباسی,مولاناانورسلطان اورجڑواں شہروں سے علماءاکرام بھی مو جو د تھے ۔
مولاناقاضی عبدالرشید نے کہاتحریک تحفظ مساجد و مدارس ایک عرصے سے وقف ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہی ہے، وقف املاک میں وقف کرنے والوں سے کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے اگر زمین چندہ وغیرہ دینے والوں سے پوچھا جائے گا تو وہ ہراساں ہوں گے اور مدارس و مساجد کی تعمیر بند ہوجائے گی، ہم مدارس کے حسابات دینے کو تیار ہیں مگر بینک ہمارے اکاﺅنٹس کھولنے کوتیارنہیں ہیں مدارس رجسٹریشن کا متفقہ نظام چاہتے ہیں۔ بار بار نئی نئی ایجنسیاں ڈیٹا لینے آجاتے ہیں ہم ون ونڈو آپریشن کے ذریعے رجسٹریشن چاہتے ہیں۔ حکومت کے ساتھ رجسٹریشن کا طریقہ کار ابھی طے نہیں ہوسکا ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ملک میں 35ہزارسے زائدمدارس میں 35لاکھ سے زائدطلبائ وطالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں جوملک میں شرح خواندگی کے اضافے کاسبب بن رہے ہیں حکومت سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے اوراسلامی تعلیمات وترویج کی شاعت کررہے ہیں، ہم نے اپنے موقف سے متعلق ملک کے ہر جگہ اجاگر کیاآج دین اسلام کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، آج جو دین نظر آرہا ہے وہ مساجد و مدارس کی بدولت ہے آج محراب و منبر سے دین کی بات ہورہی ہے آج سعودی عرب میں پانچ ہزار جبکہ پاکستان میں ایک لاکھ حافظ سالانہ تیار ہوتے ہیں۔

مگرایف اے ٹی ایف اوردیگرعالمی طاقتوں کی ایماءپران مدارس ومساجدکی آزادی کاگلاگھونٹاجارہاہے ، وقف املاک ایکٹ عجلت میں بنایا گیا ایف اے ٹی ایف اور بلیک لسٹ کی مجبوریاں اپنی جگہ مگر مدارس و مساجد کی آزادی سلب کرلی گئی ہے تمام مسالک وقف املاک ایکٹ کے خلاف متحد ہیں انہوں نے کہا وقف املاک بل کے خلاف ارکان پارلیمنٹ سے بھی مل رہے ہیں تاکہ و قف املاک بل میں ترامیم کی جائیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *