اللہ والوں کی ایک یادگارقرآنی مجلس

اللہ والوں کی ایک یادگارقرآنی مجلس
تحریر:۔مفتی محمد زبیر جامعہ الصفہ کراچی

حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ کے داماد اور مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم کے بہنوئ جناب مولاناقاری عبدالروف مدنی صاحب اسلامیہ کالج پشاور یونیورسٹی میں شعبہ قرآت و تجوید کے سربراہ رہے۔بندہ کے کئ میڈیا پروگرام سنتے رہتے ہیں اورپسند فرماکرحوصلہ افزائ فرماتے ہیں کہیں سے نمبر لیکر دو تین بار فون بھی فرمایا۔آجکل کسی عزیز کی شادی کے سلسلے میں اپنے صاحبزادے سمیت کراچی تشریف لائے اور نہایت کرم فرماکرشادی میں شرکت کے بعد بندہ کو فون کرکے بھائی مولانا رضااللہ ولد مولانا امداداللہ صاحب کی رہبری میں جامعہ الصفہ تشریف لائے۔

گفتگو کے دوران انکے قرآنی ذوق کااندازہ ہوا تو دل میں خیال آیا کہ حضرت والد صاحب (مولانا قاری حق نواز صاحب مدظلہم )سے بھی ضرور ملاقات کرائ جائے کہ انکا قرآنی ذوق بلکہ عشق بھی ہروقت ہمارے سامنے ہوتاہے۔اور انکاقرآنی ذوق وشوق اور مناسبت ہی شاید وہ سبب ہے کہ باوجود جلیل القدر عالم دین اور سالہا سال سے صحیح بخاری کی عمدہ تدریس کے “قاری “ کا لفظ انکے نام کا لازمی جزو بن گیا ہے۔

چنانچہ حضرت والد صاحب مدظلہم بھی ملاقات میں تشریف لے آئے۔دونوں حضرات نے قرات و تجوید کے اپنے اپنے اساتذہ کا ذکر کیا تو کئ اساتذہ وممتحنین میں یکسانیت کا علم ہوا۔حضرت والد صاحب نے قاری عبدالعزیز شوقی صاحب،قاری اظہار احمد صاحب رحمہ اللہ کا اورقاری عبدالروف مدنی صاحب نے قاری تقی الاسلام اورقاری فیاض علوی صاحب کا تذکرہ فرمایااور حضرت والد صاحب کے استاذ قاری اظہار صاحب کے بارے میں بتایا کہ وہ ہمارے ممتحن تھے۔
اس گفتگو کے دوران مولانا قاری عبدالروف صاحب نے حضرت والد صاحب سے فرمایا ان اساطین قرات و تجوید کے ذکر کے بعد اب آپ کچھ تلاوت ضرور سُنائیے چنانچہ دونوں حضرات نے یکے بعد دیگرے تلاوتیں سنائ۔جس سے باہمی دلچسپی کی یہ مجلس جو پہلے ہی دینی و علمی تھی اب مکمل “قرآنی مجلس “میں تبدیل ہوگئ۔

دینی طالبعلم ہونے کے ناطے اکثراوقات علما وطلبہ سے ملاقاتیں رہتی ہیں۔علما کے وفود جامعہ تشریف لاتے رہتے ہیں مگر اس قرآنی مجلس کا کچھ الگ ہی منفرد لطف محسوس ہوا۔اور بزرگوں کی مجالس کایہ ایک نیارنگ دیکھا۔

اوریہ بھی سیکھنے کاموقع ملا کہ باہمی ملاقاتوں کی نجی مجالس میں اگرقرآنی تلاوتوں کااہتمام بھی ہوجائے تو ایسی ایمان افروز مجالس کی نہایت واضح برکات زندگی میں محسوس ہونے لگتی ہیں اورایمان تازہ ہوجاتاہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *