میری کراچی سے جڑی یادیں

میری کراچی سے جڑی یادیں
تحریر:توقیرالحسن سیماب

سکول کی بچی کے ساتھ ویٹر کا انس ہو گیا آخر کار وہ اس کی بیوی بن کر اس کے حرم میں آ گئی۔۔دن گزرتے گئے ویٹر کی نوکری سے مالی طور پر کچھ سکون تو ہوا لیکن اندر کا ضمیر مجھےجنجھوڑتا کہ جس راستے کے تم مسافر بنے ہو یہ تمھیں کبھی بھی منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔۔۔۔

ضمیر کی ملامت اس حد تک بڑھی کہ ایک دن ہوٹل سے کپڑوں کا ایک سوٹ (جو کہ میرا کل اثاثہ تھا) اٹھا کر جامعہ بنوری ٹاؤن آ گیا کیوں کہ جامعہ میرا مادر علمی تھا

اس لیے میرا ٹھکانہ بھی وہی تھا پہلی رات جامعہ کے قریب چھاچھی ہوٹل کے سامنے برلب سڑک بنچ پر سوتے ہوئے گزاری صبح عالم اسلام کا سرمایہ استاذ مکرم مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت کو سلام کیا استاذ مکرم نے شفقت بھرے لہجے میں آ نے کی وجہ پوچھی جواب میں آنسوؤں کی بارش نے سارے حالات سے پردہ اٹھا دیا حضرت بہت نرم دل انسان ہیں سمجھ گئے کہ حالاتِ کی چکی میں پس رہا ہوں۔

مجھے حوصلہ دیا چاء ے پلائی دعا دی اور کچھ رقم دے کر مجھے رخصت کیا باہر نکلا تو کسی واسطے سے محمدی مسجد کے امام مولانا عبد الحفیظ کشمیری سے ملاقات ہو گئی وہ مجھے اپنے ساتھ لےاپنی مسجد میں لے آئے۔

ایک دن معروف ادیب اور صحافی جمیل الرحمٰن فاروقی وہاں تشریف لائے تو عبدالحفیظ کشمیری نے ان سے میرا تعارف کروایا فاروقی صاحب کو جب پتہ چلا کہ میں بھی صحافی ہوں تو بہت خوش ہوئے انہوں نے مجھے صوت الاسلام کلفٹن میں بلا لیا یہاں پر وصال طارق، عمران درویش اور عظمت علی رحمانی سے ملاقات ہوئی۔

عظمت کا شمار اب ملک کے نامور صحافیوں میں ہوتا ہے روزنامہ امت کراچی اور ہفت روزے تکبیر کے ساتھ منسلک ہیں عظمت علی کو میں نے کام کا دھنی پایا اپنے مقصد اور کام سے جنون کی حد تک مخلص کسی کو دیکھا تو عظمت علی کو دیکھا صوت الاسلام میں جمیل الرحمٰن فاروقی نے ہماری بہترین تربیت کی ۔۔۔۔ جاری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *